شاہ لطیف کی شاعری، کلاسیکیت، جدیدیت اور مابعد جدیدیت

انیس مئی کو آرٹس کونسل کراچی کی جوش ملیح آبادی لائبریری میں رائٹر اینڈ ریڈر کیفے میں سندھ کے بے بدل شاعر شاہ لطیف کی شاعری، کلاسیکیت، جدیدیت اور ما بعد جدیدیت پر محترمہ نور الہدی شاہ کی نظامت میں ڈاکٹر جامی چانڈیو نے سیر حاصل گفتگو کی۔ ڈاکٹر جامی کے لیکچر میں کمال کی بات یہ تھی کہ وہ شاہ لطیف کی شخصیت اور فن سے نہ صرف سراپا مطالعے سے لیس تھے بلکہ عقیدے کی حد تک یا پھر نسلی یا لسانی وابستگی کے سچے بندھن کے طفیل اپنی روح اور جسم کے ملاپ سے ایسی فضا باندھ دی کہ ساری نشست اگر ایک جانب ہمہ تن گوش تھی تو دوسری جانب ساری نشست ان کے لیکچر کے لئے تا اختتام اپنی اپنی نشستوں پر براجمان رہیں۔
جامی چانڈیو نے شاہ لطیف کی شاعرانہ سوچ اور اپروچ کے ہر ہر پہلو کو بہت احسن طریقے سے نہ صرف اجاگر کیا بلکہ بڑی عرق ریزی سے شاہ لطیف کو پہلو بہ پہلو مشاہداتی اور تجرباتی حوالوں سے بیان بھی کیا۔ یعنی یہ کہ شاہ لطیف کی ایک طرف سندھی زبان پر کمانڈ، لہجوں سے پوری شناسائی، اور تمام لہجوں کا استعمال فقط شاہ صاحب ہی کا خاصہ ہے۔ انھوں نے مزید یہ فرمایا کہ شاہ لطیف اگر مچھیروں کا لہجہ بروئے کار لاتے ہیں تو ایسا لگتا ہے کہ وہ ساری عمر مچھیروں کے درمیان رہیں ہیں۔ اور اگر شاہ صاحب زمینداروں کے اطوار کو بیان کرتے ہیں تو یوں لگتا ہے کہ جیسے انھوں نے ساری عمر زمینداری کی ہو، اگر شاہ صاحب کمہاروں کے بارے میں کہتے ہیں تو یوں لگتا ہے جیسے شاہ صاحب سے اچھے کمہار شناس کوئی ہے ہی نہیں وغیرہ وغیرہ۔
جامی چانڈیو صاحب نے یہ بھی اپنی گفتگو میں فرمایا کہ شاہ لطیف کے ہاں صنف نازک کی جانب جھکاؤ زیادہ ملتا ہے اور اس میں کسی مذہب اور مسلک کا بھی کوئی توپیر نہیں۔ گو کہ اس وقت فیمینزم کی کوئی تحریک نہیں تھی لیکن یہ رویہ یا رجحان ان کے ہاں پایا جاتا تھا۔ وجودیت، ما بعد جدیدیت اور سٹرکچرل ازم ان کے ہاں ہر زاویے سے پایا جاتا ہے۔
سوال اور جواب کے وقت میں نے پہلے ان کا لیکچر سراہا اور یقیناً سراہنے کے لائق تھا۔ اور کہا کہ میں آپ کے لیکچر سے ایک لمحے کے لئے بھی غیر متعلق نہیں رہا۔ اور چونکہ میں نے بھی دیہاتی زندگی گزاری ہے اور شاہ لطیف کی شاعری ساری دیہات سے متعلق ہے تو مجھے سب کچھ سمجھ آ رہا تھا، پھر ڈاکٹر خالد خان خٹک نے پشتو سندھی لسانی روابط پر ایک مکمل کتاب لکھی ہے اور حسن آغا نے شاہ لطیف کی شاعری کا ترجمہ بھی کیا ہے جو پشتو اکیڈمی کوئٹہ نے کتابی صورت میں شائع کیا ہے اور جو دیہاتی ماحول سے مثالیں آپ پیش کر رہے تھے وہ ساری میرے ساتھ بھی متعلق تھی۔
پھر میں نے سوال کیا کہ اس میں شک نہیں کہ شاہ لطیف ہو یا خوشحال خان خٹک، سچل سرمست ہو یا بلھے شاہ ان کے ہاں، کلاسیکیت تو ہے ہی لیکن ہم ان میں جدیدیت، وجودیت اور ما بعد جدیدیت بھی ڈھونڈ لیتے ہیں۔ اور یہ مبالغہ نہیں کہ یہ سب کچھ ان کی شاعری میں پایا جاتا ہے جن کی مثالیں آپ نے دیں۔ یا خوشحال خان خٹک کو اگر ہم مطالعہ کرتے ہیں تو آج سے پانچ سو سال پہلے وجودیت یا یاسیت کی تحریک کا کوئی وجود ہی نہیں تھا یہ تو دوسری جنگ عظیم کے بعد سارتر نے اس کو جلا بخشی اور بعد میں ہر کوئی وجودی نکلا۔ لیکن جب ہم خوشحال خان خٹک کے اشعار کا مطالعہ کرتے ہیں تو وجودیت یاسیت ہر دوسری غزل، رباعی یا قطعہ میں پائی جاتی ہے۔ جیسے کہ
خلق واڑہ د اندوہ پہ دریاب ڈوب دی
کلہ کلہ لہ دریابہ سر بلند کا
سارے لوگ غم و اندوہ کے دریاب یا سمندر میں ڈوبے ہوئے ہیں
لیکن کبھی کبھی ایک آدھ سمندر سے اپنا سر سطح آب پر نکال لیتا ہے۔
یا یہ کہ
کلہ کلہ ہسے سخت پہ سڑی راشی
چے د گلو پہ کتو نہ وی مخصوص
کبھی کبھی ایسا وقت بھی بندے پر آ جاتا ہے
کہ پھولوں کے دیکھنے سے بھی مخصوص نہیں ہوتا۔
اور میرا سوال پھر یہ تھا کہ کیا وجہ ہے کہ ہم ابھی تک شاہ لطیف اور خوشحال خان خٹک یا دیگر زبانوں کے کلاسک شعراء کی سحر سے نہیں نکل سکتے اور سب کچھ ادھر ہی تلاش کرتے ہیں؟ جدید نظم بھی ادھر مل جاتی ہے، جدید غزل بھی ادھر پائی جاتی ہے، وجودیت بھی ادھر بسیرا کیے ہوئے ہوتی ہے اور جدیدیت اور ما بعد جدیدیت کی کھوج بھی ہم ادھر ہی لگاتے ہیں کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم احساس کمتری یا احساس برتری کے شکار ہیں۔ ؟
جناب جامی چانڈیو صاحب نے بہت اچھے طریقے سے میرے سوال کو کور کیا اور کہنے لگے کہ بالکل ہمیں شخصیات کے چنگل میں پھنسا نہیں چاہیے لیکن اگر یہ سب کچھ وہاں موجود ہو تو پھر ہمیں آنکھیں بھی بند نہیں کرنی چاہیے اور جو جو چیزیں وہاں ملتی ہیں وہ ہمیں ضرور سامنے لانا چاہیے اور یہ عمل نہ کوئی احساس برتری پر منتج ہے اور نہ احساس کمتری کا شاخسانہ ہے۔

