سندھ کی سہ رخی شخصیت ممتاز مرزا

سندھی ادب، ثقافت اور تاریخ کے حوالے سے خدمات سر انجام دینے والی شخصیات کا جب بھی ذکر آئے گا تب ممتاز مرزا کا نام لازمی لیا جائے گا۔ جن کی شخصیت سہ رخی بن کر ابھری اور ہر شعبے میں اپنا نام نمایاں کیا۔ ممتاز مرزا کی علمی، ادبی اور ثقافتی خدمات پر ایک مختصر جائزہ پیش کیا جاتا ہے۔ ممتاز مرزا کا تعلق حیدرآباد کے قدیم علاقے ٹنڈو آغا سے تھا۔ ان کے آبا و اجداد اٹھارہویں صدی

Read more

پر یوں نہ مریں گے ہم

ٹڑی پوندا ٹاریئین جڈھن گاڑھا گل الومیان تڈھن ملنداسین۔ فضا میں شیخ ایاز کی شاعری الّن فقیر کی سریلی آواز میں دلوں کو چھو رہی تھی۔ دسمبر کی سردی میں کوئٹہ سے آنے والی ہواؤں نے حیدرآباد کی راتوں کو خنک کر دیا ہے لیکن ایاز میلو کے چاروں پنڈال رات ایک بجے تک ہزاروں لوگوں سے کھچا کھچ بھرے ہوئے ہیں۔ حیدرآباد میں واقع سندھ میوزیم کے اطراف رات میں بھی دن کا سماں ہے۔ شام گہری اور سرد

Read more

نور الہدیٰ شاہ کا افسانہ ”کالی“

جو آزادی اور حقوق اسلام نے عورت کو دیے ہیں وہ اب تک کوئی دین اور مذہب نہیں دے سکا۔ اسلام چاہتا ہے عورت معاشرے کی فلاح و بہبود کے لیے قوم و ملت کی ترقی کے لیے آگے بڑھے اور مردوں کے شانہ بشانہ چلتے ہوئے کام انجام دے۔ اسلام کبھی عورت کو مرد سے کمتر نہیں سمجھتا اور نہ ہی مرد کو عورت سے بلند مقام دیا بلکہ دونوں کو برابر سمجھا اور برابر کے حقوق دیے۔ البتہ

Read more

نور الہدیٰ شاہ کا ٹیلی تھیٹر ”ذرا سی عورت“

ازدواجی زندگی کو خداوند عالم نے عورت اور مرد دونوں کے لیے باعث سکون قرار دیا ہے جہاں مرد کو عورت کے روپ میں اور عورت کو مرد کے روپ میں ہمسفر، بہترین دوست، ہمدرد، دکھ سکھ کا ساتھی ملتا ہے۔ مگر جب معاشرے میں ہم دیکھتے ہیں تو ہمیں ایسے مرد بھی نظر آتے ہیں جو انتہائی خشک مزاج ہوتے ہیں بیوی سے اظہار محبت تو دور بیوی تک کو فراموش کرنے لگتے ہیں ان کے لیے عورت یعنی

Read more

نور الہدیٰ شاہ کا ڈرامہ جنگل

جنگل ڈراما سندھ کے جاگیردارانہ نظام کے خلاف ایک مضبوط آواز بن کر ابھرا جہاں وڈیروں کے خلاف بات کرنے کی کسی میں جرات نہیں تھی ان کے خلاف ایک عورت نے قلم اٹھا کر ثابت کیا کہ ظلم کی اندھیری رات کو مٹا کر حق کے اجالے پھیلانے کی طاقت عورت رکھتی ہے۔ اس ڈرامے میں سندھ کی تہذیب و روایات رسم و رواج کو دکھایا گیا جو کسی صحت مند انسانی معاشرے کی روایات نہیں ہو سکتیں۔ عورتوں

Read more

ایمسٹرڈیم کی ہیرا منڈی

آج کل محترمہ، بلکہ ہماری میم، بلکہ اس سے بھی زیادہ قریب، ہماری آدی نور الہدی شاہ آج کل یورپ کے دورے پر ہیں اور جہاں جاتی ہیں وہاں کی تصویریں اور ویڈیوز ہمارے ساتھ شریک کر رہی ہیں، گویا ہم بھی ان کے ساتھ ساتھ وہاں کی سیر میں ایک طرح سے شریک ہیں، لیکن ان کا کمال یہ ہے کہ ان تصویروں اور ویڈیوز میں ان کی اپنی خودنمائی کہیں دور دور بھی نہیں آ رہی ہے، بس

Read more

سائبان ایک تحریک!

اگر ادیب یا شاعر کو مصور مان لیا جائے تو پھر اسے اپنے کام پر اتنا عبور تو ہونا چاہیے کہ وہ پرانے ماسٹروں کے رنگوں اور برش سٹروکس کو جانتا ہو۔ اگر یہ کہا جائے کہ ادیب سیاح ہے تو اسے دیس دیس کی کہانیاں بھی آتی ہوں۔ مگر ساتھ ہی اس کا دل اپنے وطن کی کہانیوں میں دھڑکتا ہو۔ اگر راہ میں کٹھن دھوپ آ جائے تو وہ اپنے لیے کوئی ایسا بادل کا ٹکڑا ڈھونڈ سکے

Read more

فرخ یار کا عشق نامہ شاہ حسین

بک کارنر جہلم پر اکثر ادبی محفلیں سجتی رہتی ہیں۔ حسب روایت پچھلے ہفتے گگن شاہد کی طرف سے فرخ یار کی کتاب ”عشق نامہ شاہ حسین“ کی تقریب رونمائی کا دعوت نامہ اردو ادب کی شہرہ آفاق شخصیات جناب افتخار عارف اور محترمہ کشور ناہید کے علاوہ ممتاز شاعر اور کالم نگار محمد اظہار الحق و صاحبزادہ سلطان ناصر کی تقریب میں شمولیت کی نوید کے ساتھ ملا۔ ادب پڑھنے اور اساتذہ سے ملنے کا شوق عمر کے ساتھ

Read more

کاروکاری تور یا تورا

کارو کاری پر سندھی ادب اور اردو ادب میں بہت کچھ لکھا گیا۔ اگر ایک جانب سب سے زیادہ اس قبیح رسم پر ادباء اور شعراء نے لکھا ہے تو دوسری جانب یہ عمل اسی طرح پروان بھی چڑھا ہے اور چڑھ رہا ہے۔ شاید یہ سائنسی بنیادوں پر مانے گئے اس فارمولے کے مصداق ہو کہ کسی چیز کو جب جتنا دبایا جاتا ہے تو اتنا ہی وہ پھیلتا جا رہا ہوتا ہے۔ گزشتہ جمعے کو آرٹس کونسل میں

Read more

اردو فکشن اور ڈراموں میں کارو کاری کے چند حوالے

انسائیکلو پیڈیا بریٹانیکا کے مطابق ”خاندان کے مردوں کے ہاتھوں لڑکی یا عورت کے قتل کو اکثر اوقات عزت کے نام پر قتل کہا جاتا ہے۔ مارنے والے اپنے عمل کے حق میں یہ دلیل دیتے ہیں کہ مرنے والی نے ان کے خاندان کے نام اور ناموس پر بٹا لگایا ہے۔ پدر سری معاشروں میں، لڑکیوں اور خواتین کی سرگرمیوں پر کڑی نگاہ رکھی جاتی ہے۔ عورتوں کے کنوارے پن اور جنسی پاکیزگی کو برقرار رکھنا مرد رشتہ داروں۔

Read more

شاہ لطیف کی شاعری، کلاسیکیت، جدیدیت اور مابعد جدیدیت

انیس مئی کو آرٹس کونسل کراچی کی جوش ملیح آبادی لائبریری میں رائٹر اینڈ ریڈر کیفے میں سندھ کے بے بدل شاعر شاہ لطیف کی شاعری، کلاسیکیت، جدیدیت اور ما بعد جدیدیت پر محترمہ نور الہدی شاہ کی نظامت میں ڈاکٹر جامی چانڈیو نے سیر حاصل گفتگو کی۔ ڈاکٹر جامی کے لیکچر میں کمال کی بات یہ تھی کہ وہ شاہ لطیف کی شخصیت اور فن سے نہ صرف سراپا مطالعے سے لیس تھے بلکہ عقیدے کی حد تک یا

Read more

غزالی ٹرسٹ

بدھ کی شب ہمیں غزالی ایجوکیشن ٹرسٹ کی جانب سے ایک پرتکلف افطار ڈنر پر مدعو کیا گیا۔ غزالی ایجوکیشن ٹرسٹ کا نام شاید آپ نے سن رکھا ہو۔ میں نے بھی نام سنا ہوا تھا۔ مختصراً یہ معلوم تھا کہ تعلیم کے حوالے سے کام کر رہے ہیں۔ لیکن اس افطار ڈنر پر ان کی ٹیم سے مل کر اور ان کی ملک بھر کے بچوں کے لیے تعلیم کے حوالے سے کی جانے والی کاوشوں کا سن کر

Read more

کراچی – وہ تین دن

سندھ کی بیٹی ہونا قابل فخر بات کیوں نا ہو، کہ یہ وہ مٹی ہے جو امن، محبت، بھائی چارگی اور دوسروں کو خود میں کھلے دل سے ضم کرنے کی خداداد صلاحیت رکھتی ہے۔ برصغیر کی تقسیم کے بعد ایک لمبے عرصے تک مہاجرین اس سرزمین پر آ کر آباد ہوتے رہے اور سندھ کے مقامی باسیوں نے انھیں دل سے خوش آمدید کہا۔ کراچی میں بے شمار دو بولنے والے زیادہ بستے ہوں یا پشتونوں کی پشاور سے

Read more

شہناز احد کی مسافتوں کی دھول

شہناز احد ہمارے دو سال بعد عملی صحافت میں آنے والے نو عمر صحافیوں کی کھیپ میں شامل تھیں۔ انہوں نے ہفت روزہ معیار سے اپنے کیرئیر کا آغاز کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے اپنی تہلکہ خیز رپورٹوں اور فیچرز کے ذریعے دھوم مچا دی۔ اس کے ساتھ ہی وہ آزادیٔ صحافت اور صحافیوں کے معاشی حقوق کے لئے جد و جہد کرنے والے منہاج برنا کے قافلے میں بھی شامل ہو گئیں۔ اور یوں ہماری دوست بھی بن گئیں۔

Read more

انوکھے دہشتگرد اور پتھاروں پر بکتا اسلحہ

اگر آپ کبھی کسی مظاہرے میں شریک ہوئے ہیں تو آپ کو پتہ ہوگا، اور اگر نہیں تو بھی آپ نے فلموں اور ڈراموں میں تو دیکھا ہی ہو گا کہ مظاہرین کے ہاتھ میں کیا کچھ ہوتا ہے : جھنڈے، ڈنڈے، پتھر، بینر، پلے کارڈز۔ بدیسی مشروبات کی بھری اور خالی بوتلیں۔ کبھی کبھی بدیسی ایجنڈا بھی، تو بسا اوقات متعدد مظاہرین آتش گیر مادوں حتی کہ آتشیں اسلحے سے بھی لیس ہوتے ہیں۔ جب کہ کچھ محتاط مظاہرین پانی اور نمک بھی ساتھ رکھ سکتے ہیں اور ایسا سامان بھی جو کہ بظاہر بے ضرر ہو لیکن بوقت ضرورت اسلحے کا کام دے جائے۔ شاید ایسا ہی کچھ ان مظاہرین کے پاس بھی ہو جو کہ بحریہ ٹاؤن کے خلاف مظاہرہ اور احتجاج کر رہے تھے۔

لیکن کیا آپ یقین کریں گے کہ اس مظاہرے کے دوران کچھ لوگوں کے ہاتھ میں دنیا کا خطرناک ترین اسلحہ بھی تھا، جسے کے پاکستانیوں کے ایک بڑی اکثریت چھونا بھی پسند نہ کرے۔ اور یہ اسلحہ پتھاروں پر کھلے عام بک رہا تھا؟

Read more

رقیب سے۔ ایک ادبی شہ پارہ

اگر آپ خلیل قمر کے معتقدین میں سے ہیں، عمیرہ احمد کی کہانیوں کے دلدادہ ہیں، وصی شاہ کی شاعری پڑھتے ہیں، یسری وصال کی اداکاری سے متاثر ہیں، ڈراموں میں میوزیکل گھن گرج اور میک اپ زدہ چہرے پسند ہیں۔ چیخ چیخ کے بولتے ہوئے کردار، احمقانہ انداز کی سسکیاں اور واہیات انداز میں سانس لیتے کردار اگر آپ دیکھتے ہیں تو یقین مانئیے ”رقیب سے“ کی کہانی آپ کو بالکل ایسے ہی ناپسند آئے گی جیسے مسلسل پرانا گڑ کھا کے آپ کو چاکلیٹ کا ذائقہ چکھنے کا کہا جائے۔ یا پھر ملت ایکسپریس میں بکنے والا بلبل پرفیوم چند دن لگا کے ڈولس گبانہ سونگھنے کو کہا جائے، طارق ٹیڈی کی جگتیں سن کے یوسفی صاحب کو پڑھنے کا کہا جائے، بادشاہ کا ریپ میوزک سننے والے کو مہدی حسن کی ”جب بھی آتی ہے تیری یاد کبھی“ سنایا جائے۔

Read more

ظلم کی مذمت میں بھی دوہرا معیار؟ (اضافہ شدہ کالم)

پہلا واقعہ: کابل میں ’سید الشہدا‘ نام کا ایک اسکول ہے، زیادہ تر وہاں غریب بچے بچیاں پڑھتے ہیں جو اپنی فیس بھی بمشکل ادا کر پاتے ہیں۔ آج سے تین دن پہلے ہفتے کے روزاس اسکول کے باہر ایک گاڑی میں زور دار دھماکہ ہوا، دھماکہ اتنا شدید تھا کہ بچے خوف کے عالم میں باہر نکل آئے جس کے ساتھ ہی یکے بعد دیگرے مزید دو دھماکے ہوئے اور ان معصوم بچوں کے جسموں کے چیتھڑے ہوا میں

Read more

زرد دوپہر کی تپش

اکثر ہم پاکستان ٹیلی وژن پر یہ الزام سنتے آئے ہیں کہ اس میں ہمیشہ راوی چین ہی چین لکھتا ہے چاہے خبریں ہوں ڈاکومنٹری ہو یا پھر کوئی ڈرامہ۔ غرض یہ کہ ہر طرف سب اچھا ہے کا ہی شور سنائی دیتا رہا ہے۔ لیکن حالیہ کچھ عرصے میں کورونا کی بدولت ملی فرصت نے کچھ ایسے ماضی کے ڈراموں کو دیکھنے کا موقع دیا کہ خاصی حیرانی ہوئی کہ کیا واقعی پاکستان ٹیلی وژن پر ایسا تخلیقی اور انقلابی متن میسر ہوا کرتا تھا؟ میں آج دو ایسے ماضی کے ڈراموں پر بات کرنا چاہوں گا جو گویا پچیس سے تیس برس پہلے کے ہیں مگر ان میں چھپا سیاسی طنز، آمریت کے اندھیروں اور نام نہاد جمہوری علمبرداروں کو بے نقاب کرنے کی بے باک جستجو آج بھی روح کو گرما دیا کرتی ہے۔

Read more

آئی اے رحمان: یہ خلا کیسے پر ہو گا؟

آئی اے رحمان اور ضیا شاہد بھی رخصت ہو گئے۔ آج کورونا کی تیسری لہر نے قیامت بپا کر رکھی ہے۔ ناقص حکمت عملی کے باعث یہ لہر اب ایک بپھری ہوئی آندھی کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ اس آندھی کی زد میں آنے والے درخت گرتے چلے جا رہے ہیں۔ ان کی کوئی گنتی ممکن ہے نہ شمار۔ ہر روز کسی نہ کسی کے دنیا سے گزر جانے کی خبر ملتی ہے۔ عزیزوں، رشتہ داروں، جان پہچان کے لوگوں اور معروف شخصیات میں سے ہر روز کوئی نہ کوئی اس جہان سے گزر جاتا ہے۔

جہاں سے ہم سب نے ایک نہ ایک دن گزر جانا ہے۔ وبا کے دنوں میں ہر موت، وبا کے کھاتے ہی میں ڈال دی جاتی ہے جس کا سبب چاہے کچھ بھی ہو۔ ضیا شاہد اور آئی اے رحمان کورونا کی زد میں نہیں آئے لیکن یہ افسوس ناک خبریں سننے والے کا پہلا دھیان، اس موذی وبا ہی کی طرف گیا۔

Read more

ملک بھر کے دانشوروں اور سول سوسائٹی کا امر جلیل کی حمایت میں بیان

ہم زیر دستخطی، ملک بھر کے مختلف حصوں اور زبانوں سے تعلق رکھنے والے ادیب، شاعر، دانشور، انسانی حقوق کے کارکن، وکلاء، صحافی، ڈاکٹر، اساتذہ، طلباء اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے شہری حالیہ دنوں میں ملک کے معروف ادیب،کالم نگار اورمفکر جناب امر جلیل صاحب کو دی جانے والی دھمکیوں اور ان کے خلاف نفرت انگیز اور اشتعال انگیز پروپیگنڈے کی بھر پور مذمت کرتے ہیں۔ ہم ریاستِ پاکستان، وفاقی حکومت اور حکومتِ سندھ سے جناب

Read more

براڈکاسٹر کنول نصیر اور ڈرامہ نگار حسینہ معین کی وفات، پاکستانی شائقین کا خراجِ عقیدت

کنول نصیر اور حسینہ معین دونوں ہی نے اپنی صلاحیتوں کا بھرپور استعمال کیا اور اپنے کام کے ذریعے علمیت پسندی اور خود مختاری کو فروغ دیا۔

Read more

سندھ لٹریچر فیسٹیول میں بلوچستان پر سیشن کیوں نہ ہوسکا؟

کراچی — کراچی کے آرٹس کونسل میں اتوار کو سندھ لٹریچر فیسٹیول کا آخری روز تھا۔ تین روزہ فیسٹیول کے تمام سیشنز پروگرام کے مطابق ہوئے جن میں تاریخ، ڈرامہ، خواتین، معاشرتی مسائل، شاعری، میڈیا، موسیقی اور فنون لطیفہ کے علاوہ مختلف سیاسی موضوعات پر گفتگو ہوئی۔ ان مباحثوں میں سندھی، اردو اور بلوچی زبان کے کئی نامور ادیب، شعرا، لکھاریوں اور فن کاروں نے شرکت کی اور تبادلۂ خیال کیا۔

Read more

کورونا کی عالمی وبا کے دنوں میں پاکستان کی مادری زبانوں کا ادب

(اس مضمون کا متن انڈس کلچرل فورم کی جانب سے 21 فروری کو اسلام آباد میں منعقدہ پاکستان کی مادری زبانوں کے ادبی میلے میں پیش کیا گیا، جو معمولی ترامیم کے ساتھ ’ہم سب‘ کے قارئین کے لئے حاضر ہے۔ تاہم یہ ایک سرسری جائزہ ہے جو کسی بھی صورت پاکستان کی مادری زبانوں میں ہونے والے کام کی مکمل عکاسی نہیں کرتا۔ یہ موضوع ایک مفصل اور جامع تحقیق کا متقاضی ہے جس کے لئے یہ مضمون ناکافی

Read more

مادری زبانوں کے میلے پر اعتراضات

پاکستان کی مادری زبانوں کی ترویج و تنوع کا جشن منانے کے لیے انڈس کلچرل فورم نے اس سال چھٹا کامیاب میلہ منعقد کیا۔ کورونا کی احتیاطی تدابیر کے پیش نظر میلے کو ایک دن تک محدود کیا گیا۔ 21 فروری کو مادری زبانوں کے عالمی دن کے حوالے سے یہ میلہ پاکستان نیشنل کونسل آف دی آرٹس، حکومت سندھ کے محکمۂ ثقافت، فریڈرک ناؤمن فاؤنڈیشن، ای سی او سائنس فاؤنڈیشن، پاکستان سائنس فاؤنڈیشن، سوسائٹی فار الٹرنیٹو میڈیا اینڈ ریسرچ

Read more

کینسر آپریشن کے بعد کسی ٹوٹے ہوئے روبوٹ کی طرح

سوشل میڈیا سے بہت پہلے بھی الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا ہماری ذاتی زندگیوں پر فیچرز چھاپتے رہتے تھے جن سے مجھے کوفت ہوتی تھی، مجھے انٹرویوز دینے سے بھی عجیب قسم کی بیزاری ہوتی ہے نہ ہی مجھے دوسری سیلیبرٹیز کی طرح اپنی ویڈیوز اپلوڈ کرنے کا شوق ہے۔ میں میڈیا میں ہونے کے باوجود سب سے زیادہ پریشان تب ہوتی ہوں جب کوئی چینل مجھے ویڈیو کال کے لئے کہتا ہے۔ لیکن کینسر نے سب بدل دیا۔ مجھے کینسر کی تشخیص سے پہلے بائیوپسیز کے دوران ہی ہزاروں کی تعداد میں پیغامات اور کالز آنے لگے جن کا جواب دینا میری اپنی مینٹل ہیلتھ کے لئے مثبت نہیں تھا تو میں نے زندگی میں پہلی بار پچھلے دو مہینوں میں ہونے والی ہر اپڈیٹ کو پبلک کر دیا۔

مجھے دو مہینے پہلے کینسر کی تشخیص ہوئی اور پچھلے ہفتے نو گھنٹے لمبی سرجری بھی ہو گئی۔ مجھے آنے والے پیغامات کی تعداد اب لاکھوں تک پہنچ چکی ہے تو ”ورلڈ کینسر ڈے“ ہی پر ہسپتال سے گھر آنے کے بعد میں نے مناسب سمجھا کہ ایک اور کالم لکھ دیا جائے جو کہ شاید زندگی کا ایک مشکل ترین کالم بھی ہے۔ کیونکہ میں اب وہ نہیں رہی جو تھی۔ کینسر کی سب سے بڑی بات یہ ہے کہ آپ کو پتہ ہی نہیں لگتا کہ آپ کے ساتھ کیا ہو چکا ہوا ہے۔

Read more

اردو کی 13 ویں عالمی کانفرنس تشنگی کا احساس لیے اختتام کو پہنچی

خیال یہی تھا کہ کوڈ 19 آرٹس کونسل آف پاکستان کی انتظامیہ کو کورونا کی دوسری شدید لہر کانفرنس کو آگے بڑھا دے گی۔ لیکن منتظمہ کورونا کو خاطر میں نہ لائی اور اردو کی 13 ویں عالمی کانفرنس طے شدہ دنوں میں منعقد کرنے کا فیصلہ کیا اور وہ اس فیصلہ پر عمل درآمد کرنے میں کامیاب بھی ہو گئی۔ آرٹس کونسل کے روح رواں احمد شاہ صاحب عہدہ کچھ بھی ہو لیکن وہ گزشتہ کئی سالوں سے کونسل کا بوجھ کامیابی سے اٹھائے ہوئے ہیں۔

افتتاحی اجلاس میں ان کا فرمانا تھا کہ ”وہ 13 سال قبل شروع ہونے والی روایت کو زندہ رکھنا چاہتے تھے“ ۔ روایات زندہ رہیں اچھی بات ہے لیکن روایت پھر روایت ہوتی ہے، برقرار رہیں تو مناسب اگر نامساعد حالات اور خوف کی فضاء کی وجہ سے برقرار نہ بھی رہیں تو کوئی قیامت نہیں آجاتی۔ کانفرنس سے جڑی بعض روایات بھی ہیں جو نامساعد حالات کے باوجود قائم رہیں تو اچھا ہوگا۔ ایس او پیز پر سختی سے عمل ہوا، یہ بھی اچھی بات رہی، سرکار کی چاہت ہو تو تمام پابندیاں ہوا ہوجاتی ہیں۔

Read more

اردو سماج اور ادب میں عورت کا کردار!

روز ازل سے انسانی معاشرے کا تانا بانا جن بنیادوں پہ بنا گیا ان میں طبقات، زبانوں اور پیشہ ورانہ شناخت کے علاوہ جسمانی ساخت کی تقسیم بھی شامل تھی جسم کی خصوصیات پر کی گئی تقسیم، انسانی جسمانی ساخت (اناٹومی) کی بنیاد پہ کی گئی تقسیم۔ یہ تقسیم ارتقائے حیات کے اس مرحلے پر ناگزیر تھی۔ ارتقا کی منزلوں میں جب انسان نے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت پیدا کی تب اس نے معاشرے میں انصاف، اقدار، افکار اور افعال

Read more

نور الہدیٰ شاہ کے سوالات

پی ڈی ایم کا کاروانِ جمہوریت گوجرانوالہ کے بعد، کراچی اس دن پہنچا، جس دن پیپلز پارٹی سانحہء کارساز کے شہدا کی جمہوریت کے تسلسل اور بقا کے لیے دی جانے والی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرتی ہے۔ 18 اکتوبر کو جلسے میں شرکت کرنے کے لیے مسلم لیگ نون کی رہنما مریم نواز شریف جب کراچی پہنچیں تو کارکنوں کے ہم راہ بابائے قوم کے مزار پر حاضری دی۔ وہاں پر ووٹ کو عزت دو کے فلک شگاف نعروں کو حکومتی وزرا نے مزار قائد کی توہین قرار دیتے ہوئے، قانونی چارہ جوئی کا عندیہ دیا۔ جلسہ تو شام کو ہونا تھا مگر اپوزیشن کے اس عمل اور اس پر حکومتی وزرا کے رد عمل نے عوام اور میڈیا کی توجہ اس جانب مبذول کرا دی۔ سوشل میڈیا پر اس عمل کی حمایت اور مخالفت میں ٹرینڈ چل نکلے۔

ایسے میں قابل احترام محترمہ نور الہدیٰ شاہ صاحبہ نے تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر کو جوابی ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ شرم؟ 70 سال سے ماری ماری پھرتی در بدر قوم، اپنے بابا کے مزار پر احتجاج بھی نا کرے؟ کیوں؟ یہ قوم کے باپ کا مزار ہے نا کسی غاصب کے باپ کا تو مزار نہیں۔ یہی نہیں بلکہ ایک اور ٹویٹ میں انہوں نے کہا، کہ گریٹ یہی صحیح جگہ ہے، احتجاج رقم کرانے کی۔ سوال اٹھانے کی۔ جناح صاحب، ولی اللہ نہیں لیڈر ہیں۔ لیڈر ہی جواب دہ ہوتا ہے، تاریخ کے ہر اتار چڑھاو کا۔ جناح صاحب اٹھیے اٹھیے پلیز، بتائیے یہ ملک کس کے لیے بنایا تھا؟ اس زمین پر بسنے والی عوام کے لیے یا؟

Read more