پارانے’ کے بازار میں جھانجھر باجے


ننگر پارکر دنیا کی نگاہوں کا مرکز ہو اور تھرپارکر سردیوں چاہے گرمیوں میں سیاحوں سے بھرا ہوا ہو، یہ مجھ سمیت کئی تھریوں کا خواب ہے۔ ہماری دلی تمنا ہے کہ یہاں کے حسین نظاروں میں سیاحوں کے لئے سہولتوں اور آسائشوں کا انتظام ہو اور یہاں قیام گاہیں، تفریحی مقامات، جھیلیں اور پارک وغیرہ بنائے جائیں۔ اس سلسلے میں ہم ایسی سرگرمیاں تواتر سے کرتے رہتے ہیں جن سے تھرپارکر دنیا کی نظروں میں رہے، کیونکہ ہمارا یقین ہے کہ ننگر پارکر اور کارونجھر کو دیکھے بنا دنیا کی دید ادھوری ہے۔

حال ہی میں میرے عزیز ترین دوست اور سرائیکی زبان کے معروف شاعر اور ناول نگار رفعت عباس نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ وہ عید کارونجھر پر منانا چاہتے ہیں۔ عشق کے اپنے انداز ہوتے ہیں۔ ساری دنیا کے لوگ عید اپنے گھروں میں کرنے جاتے ہیں لیکن اس فقیر کی خواہش اس کو گھر سے پندرہ سو کلومیٹر دور ملتان سے ننگر پارکر لے آئی۔

تنھنجی محبت وڌی آھیان مامری، نہ تہ ڪیر ڪشالا ڪڍی

طے ہوا کہ عید کی رات رن میں گزاری جائے گی تاکہ لکیر کے پار سردیوں میں لگنے والے چار مہینوں کے میلے ’رن اتسو‘ کو یاد کیا جا سکے۔ ہو سکتا ہے کبھی یہاں بھی ایسا منڈل برپا ہو سکے۔ ہم نے روپلو کولہی موٹل سے خیمے لئے، اپنے دوستوں ساگر خاصخیلی، علی خان چانڈیو، ڈیوجی میگھواڑ، ڈاکٹر پربھو میگھواڑ، مصطفے دل اور چمن پارکری کو ساتھ لے کر رن کے لئے روانہ ہوئے اور وہاں جاکر خیمے لگائے۔ ہمارے کھانے پینے کا انتظام ہمارے دوست نظیر کھاڑت، ہرسنگھ کولھی اور موہن کولھی نے کیا۔

رن میں گزاری ہوئی اس رات کا پورا حسن ان ننگے پاؤں کے رقص میں تھا جن ننگے پاؤں نے اس دھرتی پر کئی لشکروں کے گھوڑوں کے سنبوں اور لانگ بوٹوں کے آوازوں کے شور میں بھی اپنی آواز کو گم ہونے نہیں دیا۔ اپنے ڈھول اور اپنے رقص کو گم ہونے نہیں دیا۔ عاج کی سفید چوڑیوں والی بانہوں اور ’پولکی‘ کو کھونے نہ دیا۔ گھاگھرے کے گھیر اور ’چروڑی‘ ڈانس کو زندہ رکھا۔

رامڪی بازار ۾ ماٺڪی بیٺی رہی
ڪونج جھڙی ڪولھیاڻی ڪاڪڪی بیٺی رہی

جس وقت وہ چوگرد چکر کاٹ کر دونوں ہاتھوں کو ملا کر تالی بجا رہے تھے تو ہماری وہ یاداشت تازہ ہو جاتی کہ اس دیس میں بیگڑی، غزنوی، نادر شاہ، مدد خان اور تروٹ خان کے آنے سے پہلے ہم قدرت کی جانب سے عطا کیے گئے کن رنگوں سے مالا مال تھے۔ یہی وہ کولھی تھے جو کارونجھر کو مورچہ بنا کر انگریزوں کے ساتھ آٹھ سال تک لڑتے رہے۔ تاریخ کا ستم یہ ہے کہ یہی کولھی آج بھی حالت جنگ میں ہیں۔ وہ اپنی ہی دھرتی پر انگریز سرکار کے وفاداروں کی باقیات کو سلام کرنے سے گریزاں ہیں۔ بقول ان کے وہ انگریز سرکار کی جانب سے عطا کیے گئے کمربند پر فخر کرنے والوں سے اکتائے ہوئے ہیں۔ ہم نے اپنی تذلیل کو نہ کل بھلایا تھا نہ ہی آج بھلا سکتے ہیں۔ ذلالت اور جبر کے دنوں میں یہ رقص ہی تھا جس نے ہمیں زندہ رکھا اور ہم نے اس رقص کو کھونے نہ دیا۔ یہی گیت تھے جنہوں نے ہمیشہ ہمیں سہارا دیا۔

مونی ڍولیڙی تو رموا میلو پردیسیڙا،
پاراڻا ری ریل ۾ جھانجھر واجی!
ترجمہ: اے میرے پریتم، مجھے ڈھل پر رقص کی اجازت دو، ’پارانی‘ کے راج میں جھانجھر بج رہی ہے۔
ماری پگی پرموڻی ڪڙلا ہڙوئا پڙیا،
ماری ڪونٻیون تو لینو واھجو پردیسیڙا!
ترجمہ: دیکھو میرے پاؤں میں یہ کڑے کتنے جچ رہے ہیں
اور میری چاندی کی جھالر کو دیکھو، میں اس میں کتنی حسین لگ رہی ہوں۔
ماری ڪڙی پرموڻی مشرو ہڙوئا پڙیا،
ماری اوڍڻی تو لینو واھجو پردیسیڙا!
ترجمہ: میری کمر پر مشرو ’گھاگھر‘ دیکھو کتنی خوبصورت لگ رہی ہے۔ میری چنی مجھ پر کتنی جچ رہی ہے!


ماری ہاٿی پرموڻی سوڙلا ہڙوئا پڙیا،
ماری ٻنگڙی ”چاندی جی چوڙی“ تو لینو واھجو پردیسیڙا!
ترجمہ: مجھے ’سوڑلا‘ کتنی جچ رہی ہے اور ان کے اندر ’بنگڑی‘ چاندی کی چوڑی کیسے دمک رہی ہے!
ماری ڪوثی ”ڳچی“ پرموڻی واڙلو ”ھنس“ ہڙوؤ پڙیو،
ماری ہونھڙی ”چاندی جی سنھڙی ہنسی“ تو لینو واھجو پردیسیڙا!

ترجمہ: میری گردن میں ہنس کتنا حسین لگ رہا ہے اور اس میں یہ پتلی ہنسلی کیسے اس حسن کو دوگنا کر رہی ہے۔

ماری ناڪی ”نڪ“ پرموڻی نٿڙی ہڙوی پڙی،
ماری ڏومڻی ”بینسر“ تو لینو واھجو پردیسیڙا،

ترجمہ: میری ناک میں نتھیلی دیکھو کیسی لگ رہی ہے اور پیشانی پر ’ڈومنی بینسر‘ کا سینگار مجھے کتنا خوبصورت لگ رہا ہے۔

منھنجا پردیسیڙا پریتم مونکی موڪل ڏی تہ دھل تی راند ڪرڻ وڃان!
میرے پردیسی پریتم، مجھے اجازت دو تو میں ڈھول پر رقص کروں۔

ہمارے وہ دکھ جو کسی ناول میں نہیں لکھے جا سکے اور وہ آنسو جو کسی تاریخ کی کتاب کا حصہ نہیں بن سکے وہ ہمارے لوک گیت بن گئے۔ دشمن کے حملوں اور صدیوں کی غلامی میں ہمارے بڑوں نے کیسے گزارا کیا اور ہمارے اوپر مسلط کی جانے والی جنگوں اور ہمارے حصے میں آنے والی طویل غلامی پر ہمارا رد عمل کیا تھا وہ ہمارے ان ’راسوڑوں‘ میں بیان کیا گیا ہے۔

محفل میں موجود ہمارے دوست رفعت عباس نے اپنی شاعری سنائی۔ رفعت عباس کی شاعری میں اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ بیک وقت قاتل اور مقتول کا وکیل نہیں بنا جا سکتا۔ ان کی شاعری نے یہ طے کیا ہے کہ پھول خدا کی جانب سے مقتول کے لئے بھیجا گیا تحفہ ہیں ان کو کسی قاتل کے گلے کا ہار نہیں بنایا جا سکتا۔ ان کی شاعری ہمارے جیسی دربدر اقوام کی آپ بیتی ہے۔ جس میں ہماری مزاحمت، ہمارے خواب، ہمارے عشق، ہماری جدائیاں اور ہمارے آنسو پروئے ہوئے ہیں۔

جب بھی ہمارا کوئی اپنا بندہ اپنا طبقہ بدلتا ہے تو وہ اسے یاد دلاتے ہیں کہ تم ہم میں سے ہو اور ہمارے ہی رہو۔ اس طرف رہو جس طرف جنگل ہے، ندی ہے، وطن کے ساتھ وابستگی کی ہزاروں صدیاں ہیں۔ اس طرف تو لشکر ہیں، ہم اس طرف ہیں۔ ہم جو زمانوں سے اپنے موروں کے ساتھ ہیں، اپنی ہرنیوں کے ساتھ ہیں۔ ہم جو موتیے کے پھولوں کے ساتھ ہیں۔ ہم جو کرنوں کے ساتھ ہیں، روشنی کے ساتھ ہیں۔ اس طرف تو گھوڑوں کی ہنکاریں ہیں، ہم اس طرف ہیں۔

تم ایک ہی وقت دونوں کی طرف کیسے ہو سکتے ہو۔ قاتل اور مقتول کے درختوں کی شاخوں پر ایک جیسے پھول نہیں اگتے۔ اس طرف تو سپاہ ہے، اے دوست ہم اس طرف ہیں۔ نعرے بازی اور رومانس سے ہٹ کر رفعت عباس کی شاعری نے اپنا نیا راستہ ایسے بنایا جیسے دریا اپنے راستے بناتے ہیں۔ اظہار کے اس نئے پن سے آپ بھی لطف اندوز ہوں :

تو ساݙے پاسوں تھی الا اساں ایں پاسوں
ایں پاسوں ہیں جتھ جنگل ہے جتھ ندی ہے
ایں جاہ ساݙی تے لکھ ہزاراں صدی ہے
اوں پاسوں لشکر ہے کھڑا اساں ایں پاسوں
تو ساݙے پاسوں تھی الا اساں ایں پاسوں
اساں اپݨے موریں نال کھڑے اساں ہرݨے نال
اساں موتیے چنبے نال کھڑے اساں کرݨے نال
اوں پاسوں گھوڑیاں دا ہݨکا اساں ایں پاسوں
تو ساݙے پاسوں تھی الا اساں ایں پاسوں
تو کینویں آکھوں ݙوہیں پاسوں تھی سڳدا
پھل قاتل تے مقتول کوں ہکو نہیں لڳدا۔
اوں پاسوں لتھی کھڑی سپاہ اساں ایں پاسوں
تو ساݙے پاسوں تھی الا اساں ایں پاسوں

’بولے‘ اور ’بئنسر‘ جیسی اس رات میں کولھی بہت مستی میں تھے۔ وہ رات رقص کی رات تھی۔ ان کی باتیں سن کر مجھے حال ہی میں امریکہ یاترا سے لوٹنے والے ہمارے دوست دو دو چانڈیو کی جانب سے ایک ریڈ انڈین لڑکی کا سنایا ہوا قصہ یاد آ گیا کہ ہم اپنی دنیا میں مگن تھے اور خوش تھے تو ایک دن انڈس کے ہیرے جواہرات کی تلاش میں کولمبس اور اس کے ساتھی یہاں آ کر پہنچے۔ انہوں نے ہماری دھرتی پر قبضہ کیا اور ہمارے بڑوں کو ایک قلعے میں قید کر دیا۔

طویل قید کے بعد جب ہمارے بزرگوں کو رہا کیا تو وہ رہائی کے بعد سیدھے ایک پہاڑ پر گئے۔ اس پہاڑ کو انہوں نے اپنے دل کا حال سنایا۔ اس پہاڑ کے پاس جو گیت انہوں نے گائے ہم آج بھی وہ گیت وہاں جا کر گاتے ہیں۔ انگریز جس دن کولمبس کا دن مناتے تھے تو ہم اس دن اپنے گھروں کے در و دیوار بند کر کے محصور ہو جاتے تھے۔ وہ دن ہمارے لئے بدترین دن ہوا کرتا تھا۔ اس دن ہم اپنے بزرگوں کے قتل کو یاد کرتے تھے۔ اپنے دھرتی پر ہونے والی یلغار کو یاد کرتے تھے۔

با الآخر ایک دن ہم سب دھرتی کے مالک اپنے شہروں اور گاؤں سے نکل کر سڑکوں پر آ کر سو گئے۔ پورا امریکہ جام ہو گیا۔ ہمارا مطالبہ تھا کہ کولمبس کا دن منا کر ہمارے بزرگوں کا مذاق اڑانا بند کر دیں۔ ہماری غلامی کا جشن منانا بند کیا جائے۔ سرکار نے مجبور ہو کر ہمارا مطالبہ مان لیا اور کولمبس کا دن نہ منانے کا اعلان کیا۔ اس کے بعد ہم نے راستے کھول دیے۔

ہمارے ہاں بھی ایک دن ایسا ہی ہو گا۔ دھرتی کے اصل وارث جاگ اٹھیں گے۔ انگریز بہادر کے وفادار غلاموں سے اپنی دھرتی کی ملکیت واپس لیں گے۔ یہ وطن بھیل، کولھی، مید، ماچھی، میگھواڑ، ملاح، خاصخیلی، بجیر، اوڈ، حجام، کمبھار اور دراوڑ کا ہے۔ اس کے تمام اختیار ایک دن ان ہی کو واپس ملنے ہیں۔ یہ گونگے لوگ ایک دن بولیں گے۔ ہم اپنی کہانی، اپنی کتھا، اپنی خاموشی جس دن بتائیں گے اس دنیا میں ہماری کہانی قائم ہو جائے گی۔

نمک کے میدان میں عید کی صبح نمودار ہو گئی تھی اور سمندر کی طرف سے چلنے والی ٹھنڈی ہوا دھرتی جایوں کے خیموں کو تھپتھپا کر عید مبارک کہ رہی تھی۔

Facebook Comments HS