بلڈی سویلینز اور مقدس عمارتیں
بلڈی سویلینز اور مقدس عمارتوں کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنی اس اداس خطے میں بد امنی، لاقانونیت، بے انصافی اور انتہا پسندی کی تاریخ ہے۔ ان ساری خرافات کے بطن سے ایک نا ختم ہونے والے ذہنی بانجھ پن نے جنم لیا جو آج کی اداس نسلوں کا وارث ٹھہرا۔ نام نہاد مغلیہ سلطنت کے دور میں موجود مذہبی، سیاسی، ثقافتی ہم آہنگ معاشرے کا سکون ستاون کی جنگ آزادی میں دہلی کی گلیوں میں خون کے ساتھ بہہ گیا اور متحدہ ہندوستان اپنے انجام کو پہنچا۔
اس کو مزید گہرائی سے دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ صنعتی انقلاب کے بعد پوری دنیا میں زرعی اور معدنیات سے مالا مال خطوں میں نو آبادیات جیسی لعنت کی داغ بیل ڈالی گئی، جس کی بنیاد باہمی نفرتوں کو پروان چڑھانے، مذہبی جنونیت کے فروغ اور سادہ لوح عوام کو سماجی خطوط پہ تقسیم در تقسیم کر کے ڈالی گئی۔ برصغیر کے خود کفیل، زرخیز اور ثقافتی تنوع سے مالا مال خطے میں تجارت کی غرض سے آئے انگریز اور فرانسیسی میسور اور پلاسی کی جنگوں کی فتح میں بویا ہوا خوف لے کر پورے ہندوستان پہ چڑھ دوڑے اور اس طرح ایک انتہائی غیر انسانی، بددیانتی، اور نفرتوں سے بھرپور نو آبادیاتی نظام کی تشکیل میں کامیاب ٹھہرے۔
اس نوآبادیات کے ناسور کے کرتا دھرتاؤں نے اپنے غیر انسانی قبضے کو مستحکم کرنے کے لئے خوف، تقسیم، نفرت، انتہا پسندی، کسمپرسی، غربت، ذہنی افلاس اور تاریخ کے ردوبدل کو فروغ دیا اور پال پوس کر ایک ڈری سہمی احساس کمتری میں مبتلا کاہل اور دماغ بند نسل کو جنم دیا۔ اس کام کی دیکھ ریخ کمپنی کے سپرد کی گئی جو مٹھی بھر بھیڑیوں پہ مشتمل ایک حیوان صفت گروہ تھا جس کی سرپرستی میں ڈی سی سسٹم اور علامتی عدالتی نظام عمل میں لایا گیا۔
اس نظام کا مقصد قطعی یہاں کے لوگوں کی حفاظت یا امن قائم رکھنا نہیں تھا بلکہ اس کا مقصد ہی خوف کی زمین میں نفرت، انتہا پسندی، فرقہ واریت اور بد امنی کی فصل کاشت کرتے رہنا تھا۔ کمپنی کبھی بھی کہیں بھی جعلی آرڈیننس اور ضلعی انتظامیہ کے امن بحال کرنے کے آرڈرز کے نام پر کسی کو بھی اٹھا لیتی اور خوف و ہراس کی فضا مستحکم کی جاتی۔ اسی سیاہ دور میں کمپنی نے نو آبادیات کی ترقی کے لئے ہر گلی کوچے اور شہر میں چھاؤنیاں بنائیں، مقامی جاگیردار تراشے، وڈیروں کو پروٹوکول دے کر تقسیم کو مزید تقویت دی اور گاؤں گاؤں نمبردار، سارجنٹ مقرر کیے گئے۔
یعنی خود ساختہ اشرافیہ کو نو آبادیات کے گارے میں اپنے ہاتھوں سے بنایا، پروان چڑھایا اور دما دم مست قلندر۔ کمپنی نے ذہنی بانجھ پن پہ سب سے زیادہ کام کیا اور اس مقصد کے لیے چاہے ذرائع آمدورفت کا نظام ہو یعنی ریلوے میں بھی فرسٹ کلاس، سیکنڈ کلاس، اکانومی، بزنس، پارلر اور کمپنی کے عہدے داران کے لیے الگ ڈبے بنا کر تقسیم اور کمتری جیسی ذہنی معذوری کو فروغ دیا گیا۔ یہاں تک کہ سرکاری عمارتوں کو تقدس کی اعلیٰ مثال بنا دیا گیا اور عام شہریوں کو بلڈی سویلینز جیسے القابات عطا کر کے ان نام نہاد مقدس عمارتوں کے قریب تک بھی نہیں بھٹکنے دیا جاتا تھا۔
شہر شہر کینٹ بنائے گئے، کمپنی کے عہد داران کی بدن گدازی کے لیے پر آسائش کلب بنائے گئے اور ان کے باہر بڑے بڑے حروف میں لکھا گیا کہ ”انڈینز اینڈ ڈوگز آر ناٹ الاؤڈ“ یعنی عام لوگ اور کتنے اندر داخل نہیں ہو سکتے۔ اسی تقسیم کو مزید مضبوط انداز میں پروان چڑھانے کے لیے سرکاری دفاتر میں سول افسران کے سامنے بیٹھنے والوں کے لیے ”کرسی نشینی“ کے سرٹیفکیٹ بانٹے جاتے اور ذہنی معذور لوگ ان سرٹیفکیٹ کو حاصل کر کے ایسے ہی خوش ہوتے جیسے آج کے دور میں راولپنڈی کے کرتا دھرتاؤں کے ساتھ نسبت ہونے پہ سیاست دان خوش ہوتے ہیں۔
یہ ساری کوششیں رنگ لائیں اور ڈیڑھ سو سال کی کمپنی کی حکومت نے ایک بزدل، خوف سے اٹی ہوئی، تقسیم میں گھری ذہنی بانجھ نسل کو جنم دیا۔ اس نسل کی ان ذہنی خرافات کو لمبے عرصے تک برقرار رکھنے کے لیے، تاریخ کو مسخ کیا گیا، علاقائی ثقافت کو لعنت بنا دیا گیا اور تعلیم کا نظام درہم برہم کر کے انگریزی زبان کو مسلط کر دیا گیا۔ وقت نے کروٹ لی، کمپنی کے سائے تلے پروان چڑھنے والی کانگریس اور پھر مسلم لیگ نام نہاد آزادی کے پھیلنے کا باعث بنی۔
کہنے کو تو سنتالیس میں کمپنی ہندوستان چھوڑ کر چلی گئی لیکن اپنی ہی طرح کی ایک دوسری کمپنی ہم پہ مسلط کر دی گئی۔ اس کمپنی نے نو آبادیاتی دور کی طرز پر ہی نظام جاری رکھا اور چھاؤنیوں کے مزید قیام کے ساتھ ساتھ، طرح طرح کے نئے تجارتی مراکز سنبھالے اور رنگا رنگ کاروباری سرگرمیوں کا آغاز کیا۔ نئی کمپنی کے کام کرنے کا طریقہ بدلا نہ سفاکیت کم ہوئی۔ البتہ نئی کمپنی نے مزید تقسیم کو تقویت دی اور مقدس عمارتوں کی طرف بڑھنے والے بلڈی سویلینز کو نئے ولولے اور عزم کے ساتھ نشان عبرت بنا کر خوف کی زمین میں غلامی کی فصل کاشت کرنے کا سلسلہ تیز کر دیا۔
آج بھی یہی ذہنی بانجھ پن کا شکار نسل کمپنی کے آگے سر بسجود ہے اور اپنی وفاداریاں ثابت کرنے کے لیے انسانی جانوں سے کہیں زیادہ، چند عمارتوں کو مقدس گردانتی ہے۔ اس سے زیادہ مضحکہ خیز اور غیر انسانی عمل اور کیا ہو سکتا ہے کہ اس ملک کی اشرافیہ یہ ثابت کرنے پہ تلی ہے کہ لاکھوں کروڑوں انسانی جانوں سے زیادہ مقدس چند عمارتوں کی حرمت ہے اور اسے برقرار رکھنا ناگزیر ہے چاہے ہر روز کسی انسان کی بلی ہی نہ چڑھانی پڑے۔ خدا کمپنی کی مقدس عمارتوں کا تقدس بحال رکھے، خون بہا ادا کرنے کو انسان بہت!


