ڈاکٹر عرفان شاہ کا اعزاز: محمد شان الحق حقی دہلوی پر پہلا ڈاکٹریٹ مقالہ ( 2 )


میری پریشانی برادرم خالد احمد پر آشکار ہو چکی تھی انہوں نے اپنی مخصوص مسکراہٹ کے ساتھ مجھے آنکھ سے کچھ اشارہ کیا جس کا مطلب ہم یہ سمجھے کہ تحمل، تحمل۔ ظہرانے سے فراغت کے کچھ دیر کے بعد برادر محترم خالد احمد ڈرائنگ روم سے اٹھ کر لان کی طرف روانہ ہوئے اور لان میں پہنچ کر مجھے آواز دے کر بلایا ظفر معین ادھر آئیے، ہم برادرم خالد احمد کے پاس پہنچے تو وہ اتنی دیر میں سگریٹ سلگا چکے تھے مجھ سے کہنے لگے کہ میری جان آپ چھوٹی چھوٹی باتوں پر پریشان نہ ہوا کریں، میں نے اس وقت آپ کو اس لیے اشارہ کیا تھا کہ بعد میں بات کریں گے۔ بات یہ ہے کہ حقی صاحب کو بھولنے کا عارضہ ہے۔ ان کے کے ساتھ یادداشت کا مسئلہ بہت پرانا ہے قاسمی صاحب، بلے صاحب، میں اور بہت سے لوگ اس بات کو جانتے ہیں اور سمجھتے ہیں۔ ظفر معین آپ نے غور کیا کہ جب حقی صاحب آپ سے مخاطب تھے تو احمد ندیم قاسمی صاحب اور فخرالدین بلے صاحب مسکرا رہے تھے۔

انجمن ترقی اردو پاکستان، کراچی نے پروفیسر ڈاکٹر عرفان شاہ کے نابغۂ لسان و ادب محمد شان الحق حقی دہلوی کے زیر عنوان تحقیقی مقالے کو خوبصورت اور معیاری انداز میں زیور طباعت سے آراستہ کیا ہے۔ کتابی شکل میں آنے سے پہلے سے اور بعد سے ہی علمی و ادبی حلقوں میں اس کے چرچے عام ہیں۔ ڈاکٹر عرفان شاہ نے اپنی زندگی کے انتہائی قیمتی کئی برس مسلسل اس تحقیقی مقالے کی نذر کیے رکھے۔ حقی صاحب کا مختلف شعبوں میں کام بری طرح سے پھیلا ہوا تھا۔

مختلف اور کثیر تعداد میں کتب، جرائد و رسائل اور اخبارات کی کھوج اور پھر مواد کا حصول جان جوکھوں میں ڈالنے کے مترادف تھا۔ پھر مواد کے حصول کے بعد کا مرحلہ اس سے بھی کہیں زیادہ کٹھن اور دشوار تھا، بہت سی گتھیاں سلجھانے کا کام بھی بلاشبہ بہت اعصاب شکن اور صبر آزما تھا۔ جہاں جہاں بھی مشکوک تخلیقات کی تصدیق کا معاملہ ہوتا ہے وہ بھی بہت اذیت ناک مراحل ہوتے ہیں۔ اس کی مثال کے لیے ہم کچھ ذاتی تجربات شیئر کرتے ہیں۔ پہلی مثال کے طور پر ایک دلچسپ واقعہ تو یہ ہے کہ سرگودھا کی ایک نامور اور معروف شاعرہ محترمہ نجمہ منصور صاحبہ نے انتہائی خلوص اور عقیدت کے ساتھ آنس معین کے اشعار کا انتخاب کر کے اپنی فیس بک ٹائم لائن پر پوسٹ فرمائے اور بہت سوں کے ساتھ ساتھ ہمیں بھی ٹیگ کیا۔ ان اشعار میں سے ایک شعر یہ بھی تھا

کوئی تعویز دو رد بلا کا
میرے پیچھے محبت پڑ گئی ہے

ہم نے انتہائی احترام کے ساتھ محترمہ کو مطلع کیا کہ آپ کے انتخاب میں شامل یہ شعر آنس معین کا نہیں ہے۔ اور اس کے ساتھ ساتھ ہم نے محترم رضی الدین رضی، ڈاکٹر اجمل نیازی اور حضرت اختر حسین جعفری کے فرزند جناب امیر حسین جعفری سمیت چند احباب کو زحمت ناحق میں مبتلا کیا اور ان سے گزارش کی کہ اس گتھی کو سلجھانے میں مدد فرمائیے، ہم تو حلفیہ بیان دے رہے ہیں کہ سوشل میڈیا پر تو یہ شعر محسن نقوی، آنس معین اور جون ایلیا کے نام سے منسوب ہے لیکن یہ شعر ان تینوں میں سے کسی شاعر کا نہیں ہے۔ تحقیق کے بعد کھوج لگانے والے دیگر چند شعراء کے نام سامنے لے آئے، جناب رضی الدین رضی صاحب نے مطلع فرمایا کہ فیاض تحسین کی کتاب کے بیک ٹائٹل پر یہ شعر موجود ہے۔ مگر دیگر شعراء کے جو حوالے سامنے آئے وہ بھی کم معتبر نہیں تھے۔ اس سب کچھ کے بعد بھی باضابطہ تصدیق نہیں ہو سکی۔

اسی تناظر میں دوسری قابل ذکر اور اہم مثال محسن نقوی شہید کے دعائیہ کلام کی ہے کہ جو ہم 1988 سے سیدی جانی محسن نقوی شہید سے سنتے چلے آرہے ہیں اور جو سیدی محسن نقوی شہید کے مجموعۂ کلام فرات فکر میں 1993 میں شائع ہو چکا ہے۔ محسن نقوی شہید کے مجموعۂ کلام فرات فکر کے چند صفحات پر مشتمل یہ دعائیہ کلام ہمارے ہمسایہ ملک بھارت میں بھی بے حد اور بے حساب مقبول اور معروف ہے۔ ہم نے سیدی محسن نقوی کو مجالس میں یہ دعائیہ کلام پڑھتے دیکھا اور سنا ہے۔ محسن نقوی شہید کہ جن کا تقریباً بارہ پندرہ برس یہ معمول رہا کہ وہ رات بارہ ایک بجے کے قریب قبلہ والد گرامی سید فخرالدین بلے شاہ صاحب کے غریب خانے پر تشریف لاتے اور اذان فجر پر رخصت ہو جایا کرتے تھے۔ ہم پندرہ جنوری انیس سو چھیانوے کو خون میں تر بتر سیدی سرکار محسن نقوی شہید کے ساتھ لاہور کو خیرباد کہہ آئے تھے۔ فرات فکر کا مکمل مجموعۂ کلام محسن نقوی شہید کی زبانی متعدد بار سنا اور جب جب بھی سنا ایک ہی نشست میں سنا ہم نے اور ہمارے اہل خانہ نے۔

ماشا ٔ اللہ ما شا ٔ اللہ متعدد شہروں کی امام بارگاہوں میں مجالس کے اختتام پر یہ دعائیہ کلام پڑھنے کی روایت قابل صد ستائش اور باعث خیر و برکت ہے۔ اس کلام کو کراچی شہر میں منعقد ہونے والی مجالس کے اختتام پر انتہائی احترام اور عقیدت سے پڑھا جاتا ہے اور اب تو یہ دعائیہ کلام مجالس کا لازمی اور ناگزیر جزو بن چکا ہے لیکن کراچی کے ایک موصوف احمد نوید صاحب اس دعائیہ کلام کے ساتھ اپنا نام لکھنے لگے ہیں اور انتہائی ڈھٹائی سے خود کو اس دعائیہ کلام کا خالق بتاتے ہیں۔

تعجب ہے کہ اگر ادب کا مجھ جیسے ادنی طالب علم کا دل اس چوری اور سینہ زوری پر کڑھتا ہے تو صاحبان علم پر کیا گزرتی ہوگی۔ لیکن دکھ اس بات کا ہے کہ اس کا باضابطہ نوٹس کیوں نہ لیا گیا۔ ایک مرتبہ جب سرکار سیدی محسن نقوی کے حلقۂ احباب میں شامل ایک انتہائی معتبر شخصیت نے موصوف سے رابطہ کیا اور ان کی اس غیر اخلاقی حرکت کی نشاندہی کی تو موصوف نے معذرت خواہانہ انداز میں مگر دیدہ دلیری سے یا یوں کہیے کہ اعلی ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے اس جرم کا اعتراف کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ دس پندرہ برس ان کی ذہنی کیفیت عجیب رہی کچھ یاد نہیں کہ کب، کیا لکھا اور کیا نہیں ان تمام اعترافات کے ساتھ ساتھ موصوف نے یقین دلایا کہ میں اس کلام سے دستبردار ہوتا ہوں لیکن اس یقین دہانی کے باوجود انہوں نے عملاً ایسا نہیں کیا۔

یہ معاملہ اس لیے بھی توجہ طلب ہے کہ یہ دعائیہ کلام سیدی سرکار محسن نقوی خود مجالس میں بارہ، چودہ برس پڑھتے رہے ہیں اور اب تو فرات فکر کی اشاعت کو تیس برس ہوچکے ہیں۔ سیدی سرکار محسن نقوی کے کلام پر ہاتھ صاف کرنے کے حوالے سے ایسی چند ایک اور مثالیں بھی ہیں لیکن ان میں سے کوئی ایک بھی اتنی سنگین نہیں۔ ہم نے بصد احترام اور عاجزانہ انداز میں چند تلخ حقائق کا ببانگ دہل اظہار کر دیا اور سیدی محسن نقوی شہید کے علمی و ادبی وارث برادرم جناب اسد محسن نقوی اور برادر محترم عقیل محسن نقوی (فرزندان محسن نقوی شہید) کو اختیار حاصل ہے کہ اگر ہم نے حقائق سے ہٹ کر کوئی بات کی ہے تو وہ اس کی نشاندہی فرما دیں۔ (ظفر معین بلے جعفری)

دعائیہ کلام:۔ محسن نقوی
اے رب جہاں! پنجتن پاک کے خالق
اس قوم کا دامن غم شبیر سے بھر دے
بچوں کو عطا کر علی اصغر کا تبسم
بوڑھوں کو حبیب ابن مظاہر کی نظر دے
کم سن کو ملے ولولۂ عون و محمد
ہر اک جواں کو علی اکبر کا جگر دے
ماؤں کو سکھا ثانی زہرا کا سلیقہ
بہنوں کو سکینہ کی دعاؤں کا اثر دے
مولا تجھے زینب کی اسیری کی قسم ہے
بے جرم اسیروں کو رہائی کی خبر دے
جو چادر زینب کی عزادار ہیں مولا
محفوظ رہیں ایسی خواتین کے پردے
جو دین کے کام آئے وہ اولاد عطا کر
جو مجلس شبیر کی خاطر ہو وہ گھر دے
یا رب تجھے بیماری عابد کی قسم ہے
بیمار کی راتوں کو شفایاب سحر دے
مفلس پہ زر و لعل و جواہر کی ہو بارش
مقروض کا ہر قرض ادا غیب سے کر دے
غم کوئی نہ دے ہم کو سوائے غم شبیر
شبیر کا غم بانٹ رہا ہے تو ادھر دے

بہر حال یہ اعتراف تو کرنا ہی پڑے گا کہ ڈاکٹر عرفان شاہ نے انتہائی جانفشانی اور کامرانی سے یہ تحقیقی معرکہ سر انجام دیا ہے۔ محمد شان الحق حقی دہلوی کی خدمات بحیثیت استاذ الاساتذہ، ماہر لسانیات، محقق، نقاد، مترجم، افسانہ نگار، شاعر، مدیر اعلی، مصنف، مؤلف، تجزیہ نگار، ڈائریکٹر۔ کری۔ ایٹو، شعبۂ ایڈورٹائزنگ، پبلیکیشن، سینسر بورڈ، ریڈیو پاکستان، اسکرپٹ رائٹر قابل صد ستائش اور حیرت انگیز ہیں اور پروفیسر ڈاکٹر عرفان شاہ نے اپنے تحقیقی مقالے نابغۂ لسان و ادب محمد شان الحق حقی دہلوی میں انتہائی بھرپور اور جامع انداز میں ان تمام تر خدمات کی تفصیلات فراہم کی ہیں۔ (جاری ہے )

Facebook Comments HS