عمران خان کی فاشسٹ تحریک اور جوانوں کا مستقبل!
اطالوی تاریخ داں، فلسفی، نقاد، ناول نگار اور سیاسی و سماجی مبصر ”امبرٹو۔ ایکو“ نے ”ار۔ فاشزم“ کے نام سے فاشزم پر ایک طویل مضمون لکھا۔ مضمون کا ایک اہم نقطہ یہ ہے کہ ہر فاشسٹ تحریک کے مرکز میں ایک کلٹش پرسنیلٹی (جتھہ ساز شخصیت) لازمی طور پر موجود ہوتی ہے۔ ان کے مضمون کے اہم نقاط کچھ یوں ہیں : ”فاشسٹ لیڈر ہمیشہ کلٹ بناتا ہے، جدیدیت کی مخالفت کرتا اور ماضی کی مثالیں دیتا ہے۔ اس کی مخالفت بغاوت کے زمرے میں آتی ہے۔ وہ ایک ایسی پروپیگنڈا مشین بناتا ہے جس کے ذریعے کلٹش پرسنیلٹی کو عظیم الشان اور بڑھا چڑھا کر بیان کیا جاتا ہے اور یہ کہ کلٹ شخصیت لازمی طور پر نرگسیت کا شکار ہوتی ہے۔
کلٹش شخصیت ایسے سیاسی، مذہبی یا روحانی لیڈر کو کہتے ہیں جو اپنے کام کا آغاز کسی سماجی، سیاسی یا مذہبی خدمت سے کرتا ہے مگر مقبول ہو جانے پر اپنی شخصیت کا کلٹ بنا لیتا ہے، کلٹ کے بل بوتے پر بے پناہ دولت حاصل کرتا ہے یا بعض اوقات سیاست میں شامل ہو کر مسند اقتدار تک جا پہنچتا ہے۔
نرگسیت انگریزی لفظ ’NARCISM‘ کا اردو ترجمہ ہے۔ یہ اصطلاح ایک یونانی دیومالائی داستان سے منسوب ہے۔ جس کے مطابق نارسس نامی یونانی شہزادہ خوبصورت اور مردانہ وجاہت کا حامل نوجوان تھا۔ مگر خود اپنی محبت میں مبتلا ہو گیا۔ وہ کئی کئی دن ایک جھیل کے کنارے پر بیٹھ کر پانی میں اپنا عکس دیکھتا رہتا اور خوش ہوتا رہتا نہ اس کو کھانے پینے کا ہوش تھا اور نہ سونے کا۔ اس کیفیت میں ایک دن اس کا انتقال ہو گیا۔
10 اپریل 2022 ء کو عمران خان کو معاشی بد حالی اور ناقص خارجہ پالیسی کی وجہ سے تحریک عدم اعتماد کے ذریعے وزارت عظمیٰ سے فارغ کر دیا گیا۔ اگرچہ عمران خان سیاست میں داخل ہونے سے قبل سماجی کاموں کی وجہ سے اور کرکٹ کی وجہ سے بین الاقوامی شہرت کے حامل تھے۔ مگر نوے کی دہائی میں کرکٹ کو خیر باد کہنے کے بعد وہ سیدھے سیاست میں کود پڑے۔ انھوں نے 1996 ء میں تحریک انصاف کی بنیاد رکھی، مؤرثی سیاست سے بے زار، مہنگائی اور بے روزگاری سے تنگ اور جہالت و غربت کی چکی میں پستے ہوئے عوام کو دکھوں سے نجات کی نوید سنائی۔
ان کے ساتھ مؤرثی سیاست کے خاتمے، مہنگائی پر قابو، روزگار کی فراہمی، پورے ملک کے لیے یکساں قومی نصاب کے ساتھ مفت اور لازمی تعلیم، فوری اور سستا انصاف فراہم کرنے والا نیا پاکستان بنانے کا وعدہ کیا۔ کئی دہائیوں سے ملک میں سیاسی اور سماجی تبدیلی کے خواب دیکھنے والے عوام نے ان کا بیانیہ ہاتھوں ہاتھ لیا اور ان کی مقبولیت میں اتنا اضافہ ہو گیا کہ انھوں نے 2018 ء کے الیکشن میں اتنی اکثریت حاصل کر لی کہ قائد ایوان بن گئے۔
ان کی مقبولیت کا ایک اور عنصر دنیا کا بدلتا ہوا سیاسی کلچر بھی ہے۔ زمانہ موجود میں دنیا کے نظام جمہوری سے زیادہ پولرائزڈ ) یک طرفہ ) ہے۔ لوگ ذہین، فطین اور جذباتی طور پر متوازن لیڈران کی بجائے، پر شکوہ، ذاتی تشہیر میں مبتلا اور حقیقی طور پر نرگسیت کا شکار منفی ذہنیت کے افراد کا انتخاب کرنے لگے ہیں۔ اس کی مثالیں امریکہ کے صدر ٹرمپ، روس کے صدر پوٹن اور ہندوستان کے وزیر اعظم مودی ہیں۔
عمران خان اپنے ساڑھے تین سالہ عرصہ اقتدار کے دوران دکھائے گئے سہانے خوابوں میں سے کسی ایک کو بھی شرمندہ تعبیر نہ کر سکے، ۔ نہ تو کوئی قابل ذکر قانون سازی ہو سکی اور نہ ہی معاشی طور پر ملک کی حالت بہتر ہوئی۔ اس پر مستزاد یہ کہ عمران خان اپنی خارجہ پالیسی میں بھی بری طرح ناکام ہو گئے۔ تحریک عدم اعتماد پیش ہوتے وقت ان پر حزب اختلاف کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنانے اور قومی اداروں کو ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے الزامات بھی تھے۔
مگر عمران خان نرگسیت میں مبتلا اور اس قدر انا پرست ہیں کہ انھوں نے اپنی نا اہلی کو تسلیم نہ کیا، عدم اعتماد کو مسترد کیا اور وزارت عظمیٰ چھوڑنے کی خجالت سے بچنے کے لیے اسمبلیاں ہی تحلیل کر دیں۔ مگر جب اعلیٰ عدلیہ کی مداخلت پر اسمبلیاں دوبارہ بحال کر دی گئیں تو ان کو اقتدار سے الگ ہونا پڑا۔ مگر غلطیوں کو تسلیم کرنے کی بجائے اپنی سبکدوشی کو ایک سازش قرار دیا۔ اور اپنے حامیوں کو یہ باور کروایا کہ ان کی معزولی اکثریت کھو دینے کی وجہ سے نہیں ہوئی بلکہ اس کے پیچھے امریکی سازش ہے۔ وہ ایک خط کا ذکر بھی بار بار کرتے رہے جو پاکستانی وزارت خارجہ کو امریکی وزارت داخلہ کے ایک جونئیر افسر نے بھیجا تھا۔ جب یہ بیانیہ کمزور پڑ گیا تو انھوں نے اپنی بے دخلی کا سارا ملبہ پاک فوج کے سر براہ پر ڈال دیا۔ اسمبلیوں سے استعفٰے دے دیے اور فوج کے خلاف نفرت پھیلانی شروع کر دی۔
گویا جس اسمبلی میں عمران خان قائد ایوان نہ ہو وہ ذلت آمیز جگہ ہے۔ اور جو ادارہ ان کی حمایت نہ کرے وہ قابل تضحیک ہے۔ ایسا نظریہ ایک فاشسٹ ذہنیت کی مالک، نرگسیت زدہ شخصیت ہی رکھ سکتی ہے۔
گزشتہ ایک سال میں سادہ لوح اور معصوم افراد کی ایک اچھی خاصی تعداد عمران خان کے گرد جمع ہو گئی ہے۔ لہذا اقتدار میں آنے سے کچھ عرصہ قبل وہ اپنی شخصیت کا جو کلٹ بنانے کی کوشش کر رہے تھے۔ اقتدار میں آنے کے بعد اس کو روحانیت کا تڑکا لگا کر ہر دلعزیز کرنے کی کوشش بھی کی۔ اور اعتماد کا یہ عالم تھا کہ ”القادر یونیورسٹی“ کی ایک تقریب میں تقریر کے دوران روحانیت جیسے تاریک غار کو سپر سائنس کا درجہ دے دیا۔ اور یونیورسٹی انتظامیہ کو ہدایت کی کہ روحانیت کو بطور سائنس پڑھایا جائے۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ان کو معلوم نہ ہو کہ ان کے قریب ترین روحانی اور غیر روحانی شخصیات القادر ٹرسٹ کے فنڈز سے اربوں روپے غائب کر چکے ہیں۔ ”
9 مئی کو گرفتاری سے قبل ایک وڈیو پیغام پر عمران خان نے اپنے پیرو کاروں کو فوج کے خلاف بھڑکایا، لہٰذا ان کی گرفتاری کے فوراً بعد ان کے جنونی پیروکاروں نے ملک کے مختلف مقامات پر فوجی تنصیبات کو نقصان پہنچانے کی کوشش شروع کردی۔ یہاں تک کہ پاکستانی فوج کے قابل فخر شہدا کی تصویروں اور مجسموں کی تذلیل کر ڈالی۔ عام حالات میں تو ایسا ممکن نہیں مگر نرگسیت زدہ کلٹ شخصیت کے اشارے پر ضرور ہو سکتا ہے۔ جس نے اپنی انا کی تسکین کرنی ہے اور ہر صورت میں مسند اقتدار پر براجمان ہونا ہو۔ اس کے لیے بھلے اداروں کی عزت خاک میں مل جائے یا ملک کی عزت داؤ پر لگ جائے۔
بہر حال عمران خان کی دو روزہ نظر بندی کے بعد جب ضمانت کے لیے عدالت میں لایا گیا تو انھوں نے وہی دھمکی دی۔ ؛ اگر مجھے گرفتار کیا گیا تو پھر ویسا ہی ہو گا۔ گویا پہلے بھی یہ انہی کا ہی منصوبہ تھا۔ مگر شہدا کی بے حرمتی اور فوجی تنصیبات پر حملوں نے فوج کے اندر عمران خان کا گراف اچھا خاصا گرا دیا۔ پھر ان پر بغاوت پر اکسانے کا مطالبہ بھی چل سکتا ہے۔ لہٰذا انھوں نے حسب عادت اس کو ایک سازش قرار دے دیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ نرگسیت عمران خان کے خون میں شامل ہو چکی ہے۔ ان کو اپنا محاسبہ کرنا ہو گا، قوم سے معافی مانگنی ہوگی اور ملک کے وقار بلند رکھنے کے لیے کام کرنا ہو گا۔ فوج اور عوام کی درمیان کھودی گئی خلیج کو بھرنا ہو گا۔
سیاسی تبدیلی کی دو مثالیں امریکہ اور جنوبی افریقہ میں ملتی ہیں۔ مارٹر لوتھر کنگ جونئیر اور نیلسن مینڈیلا نہ صرف کامیاب ہوئے بلکہ دونوں کو امن کا نوبل بھی ملا۔ ان اکابر نے نہ تو شخصیات کا کلٹ بنایا اور نہ ہی سلامتی کے اداروں سے جنگ چھیڑنے کا سوچا۔ ان لیڈران نے پر امن جد و جہد کی۔ جیلیں کاٹیں اور بالآخر کامیابیاں حاصل کیں۔ انھوں نے کبھی بھی نوجوانوں کو کالجوں اور یونیورسٹیوں سے بلا کر معاشرے میں بد امنی، بے چینی اور اضطراب پیدا کرنے کے لیے نہیں چھوڑا تھا۔
میری نوجوان نسل سے بھی استدعا ہے کہ اپنی توجہ تعلیم پر مرکوز کریں، اپنا مستقبل محفوظ کریں۔ جن کے لیے آپ پولیس اور رینجرز کے ڈنڈے کھاتے پھر رہے ہیں ان کے بچے ٹھنڈے دیسوں میں ٹی وی لاؤنج میں بیٹھ کر 72 انچ کی اسکرین پر پولیس کے ڈنڈوں سے آپ کی چولیں ڈھیلی ہوتی دیکھ کر محظوظ ہوتے ہیں۔ لہٰذا ہوش کے ناخن لیں اور کسی کلٹ کا حصہ نہ بنیں۔ آپ کے والدین کے کچھ خواب ہیں ان کو عمران خان جیسی خود ساختہ لیڈران کی کلٹش شخصیت کی خاطر چکنا چور نہ کریں۔ یونانی فلسفی اور دانشور ارسطو نے کہا: ”جس زندگی میں اپنا محاسبہ شامل نہ ہو وہ جینے لائق نہیں ہوتی۔“


