عمران خان ورسز آل
کسی بھی سیاستدان کی کامیابی کی سب سے بڑی کسوٹی یہ ہوتی ہے کہ اس کے مخالفین خوفزدہ ہو کر اس کے خلاف متحد ہوتے جائیں۔ عمران کے کیس میں ایسا ہی ہوا ہے بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ ایک شخص کے خلاف تمام جماعتیں چاہے وہ دائیں بازو کی ہوں یا بائیں بازو کی متحد ہو گئی ہیں اور اسٹیبلشمنٹ نے سب کو جھونک دیا ہے اس لڑائی میں لیکن اس سے بھی انوکھی بات یہ ہے کہ ابھی تک سرتوڑ قسم کی کوششوں کے باوجود کامیاب نہیں ہو رہیں، اور ہر پینترا الٹ پڑ رہا ہے۔
نو مئی کے فسادات کو جواز بنا کر جس طرح سے پی ٹی آئی کو کرش کیا جا رہا ہے یہ وقتی طور پر تو شاید لگے کہ بہت بڑی کامیابی مل رہی ہے لیکن اصل میں اسٹیبلشمنٹ ایک ایسی پارٹی کو جنم دے رہی ہے جو مکمل طور پر ایک نظریاتی پارٹی ہو گئی اور شاید پاکستان کی تاریخ کی پہلی نظریاتی پارٹی، کیونکہ ایسے تمام لوگ جو اس لمحے میں عمران کے ساتھ رہیں گے وہ پھر کبھی بھی اسٹیبلشمنٹ کے قابو میں نہیں آئیں گے دوسرے لفظوں میں اسٹیبلشمنٹ کے اپنے ہاتھوں اس کی اپنی بربادی کا سنگ بنیاد رکھا جا رہا ہے۔
دوسرا اس سیاسی لڑائی کو ذاتی لڑائی بنا کر اسٹیبلشمنٹ نے بردباری اور تحمل سے جو پہلو تہی کی ہے اس کی وجہ سے عوام میں ان کی مقبولیت نہ ہونے کے برابر ہے۔ یاد رہے کہ تمام میڈیا، سوشل میڈیا اور پرنٹ میڈیا مکمل طور پر ان کی سپورٹ کر رہا ہے لیکن عمران کا بیانیہ اتنی زیادہ گہرائی تک اثر کر چکا ہے کہ اس کے اگے سب کوششیں بے کار لگ رہی ہیں۔ شاید اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ پچھلے ایک سال سے اتنی بری گورننس رہی ہے اور اتنی شدید مہنگائی کہ لوگ شدید متنفر نظر آتے ہیں اور عمران کا دور تقابلی طور پر بہت بہتر لگ رہا ہے۔
تیسرا، اسٹیبلشمنٹ میں اجتماعی دانش کی کمی واضح نظر آ رہی ہے۔ عمران خان یا پی ٹی آئی کو اگلے سو سال تک دہشتگرد جماعت ثابت نہیں کیا جا سکے گا کیونکہ عمران خان نے اپنی وہ کریڈیبلٹی بنا لی ہے کہ اس کے خلاف ایسا پراپیگنڈا وقت کو ضائع کرنے کے علاوہ کچھ نہیں اور اس طرح کی بونگیاں مار کر اپنے آپ کو عقل کل سمجھنا دراصل اپنے آپ کو زوال کے پاتال میں لے جانا ہے۔
چوتھا، عمران کو قید کر کے یا قتل کر کے کبھی بھی اسٹیبلشمنٹ اقتدار پر گرفت نہیں رکھ پائے گی کیونکہ اگر عمران قید رہا تو ملک شدید بحران کا شکار رہے گا اور اگر مار دیا گیا تو ایسے دیومالائی کردار کی شکل اختیار کر جائے گا جو مرنے کے بعد صدیوں تک زندہ رہتے ہیں اسی لیے ہمارا مشورہ ہے کہ اس بحران کو ٹالنے کے لیے غصہ اور انا کی بجائے اجتماعی دانش کو استعمال کیا جائے بالکل ایسی دانش جیسی پاکستان کے چیف جسٹس جناب عطا بندیال صاحب نے عمران کی گرفتاری کے خلاف ضمانت دے کر ریاست کو سنگین بحران سے بچایا تھا۔
آخر میں ”تاریخ کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ اس سے کوئی سبق نہیں سیکھتا“ اور ہماری اسٹیبلشمنٹ تو ایک غلطی کو کم از کم تین تین بار کرتی ہے۔ میری بڑی خواہش ہے کہ اس بار ہوش کے ناخن لیے جائیں اور ملک کو اس سنگین بحران سے نکالا جائے کیونکہ اس لڑائی میں عمران خان اور پی ٹی آئی کو نقصان ہو یا نہ ہو پاکستان اور پاکستانی پبلک سخت خسارے میں جا رہی ہے۔


