صوبیدار رب نواز اور مسئلہ کشمیر


سید سعادت حسن منٹو سنہ 1955 میں انتقال کر گئے۔ ایک عظیم دماغ تھا جو ہم سے بچھڑ گیا لیکن اگر کچھ اور بھی جیے ہوتے تو یار لوگ انتظار یہی کرتے کہ آنکھیں موند لیں منٹو صاحب، تو پھر ہم بالیں کے پاس بیٹھ کر رو لیں گے، ابھی تو آپ زندہ ہیں۔ یوں تو ’منٹو صاحب‘ کے کام کی تفصیل و تفہیم مجھ سے ’پدی کے شوربے‘ کیا خاک سمجھا پائیں گے لیکن آج ہم منٹو کے ایک عظیم مجموعہ افسانہ ’یزید‘ سے پاکستان کے ایک دیرینہ مسئلے کو سمجھنے کی کوشش کریں گے اور ساتھ ہی اپنی بساط کے مطابق کوئی حل بھی تلاشیں گے۔

مجموعہ افسانہ ’یزید‘ میں منٹو نے ایک افسانہ ’آخری سلیوٹ‘ لکھا۔ اس افسانے میں صوبیدار رب نواز کا کردار مسئلہ کشمیر کو ایک نئے روپ میں سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔ اگر آپ نے یہ افسانہ نہیں پڑھا تو ضرور پڑھ لیجیے۔ ’آخری سلیوٹ‘ میں مسئلہ کشمیر پر منٹو کچھ سوالات داغتے ہیں مثلاً منٹو صوبیدار نواب کی زبانی یہ سوال داغتے ہیں کہ کشمیر کی جنگ کشمیر کے لیے ہے یا کشمیریوں کے لیے؟ اگر یہ جنگ اسلامی جنگ ہے تو دیگر اسلامی ممالک کہاں ہیں؟

اور اگر پاکستانی فوجی کشمیر کے مسلمانوں کے لیے لڑ رہے ہیں تو حیدر آباد، اور جونا گڑھ، کے مسلمانوں کے لیے کیوں نہیں؟ یہ سوالات اپنے اندر جوابات کا بھی داخلی رجحان رکھتے ہیں۔ جنگ عظیم دوئم کے بعد عجلت میں برصغیر کی تقسیم، پاکستان کا قیام، ساتھ ہی کشمیر کی جنگ، امریکا کی جانب سے دونوں ممالک پاکستان اور ہندوستان کو عسکری امداد، ایسے کئی عجیب حالات و واقعات اس عجیب لڑائی کو سمجھنے میں مدد دیتے ہیں۔

حالیہ برسوں میں پاکستان اور بھارت کے تعلقات کا اگر جائزہ لیا جائے تو دونوں طرف حکومت خواہ کسی کی بھی رہی ہو، مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کے بجائے دونوں اطراف کے ’فیصلہ ساز‘ ہمیشہ ’حکایتی و روایتی‘ بیانیہ بنانے اور بیچنے پر مامور رہے۔ ہاتھیوں کی لڑائی میں گھاس کا بچ جانا کس نے دیکھا ہے؟ سو وہی ہوا ایک طرف غوری، ابدالی، بابر، حرب کی بھرمار ہوتی رہی تو دوسری طرف اگنی، پرتھوی، ناگ، استرا، باراک وغیرہ زمین اگلتی رہی۔

دونوں ممالک میں بنیادی ضروریات کی فراہمی جس میں تعلیم، صحت، مکان، اعلیٰ معیار زندگی شامل ہے فیصلہ سازوں کی ترجیحات میں کبھی نہیں رہیں۔ اور کمال بات یہ کہ دونوں سمت سے بنیادی ضروریات کے حصول سے محروم عوام ایک دوسرے کی محرومی کو، ایک دوسرے کو بتا کر مزہ کشید کرتے رہے۔ ایک عام پاکستانی اپنی حالت زار چھوڑ ایک عام ہندوستانی کو لیٹرین جیسی بنیادی سہولت کے نہ ہونے پر سوشل میڈیا پر رگید رہا ہے اور ایک عام ہندوستانی، ایک عام پاکستانی کو دہشت گردی کے سائے میں رہنے اور مہنگائی کی مار سے جھک جانے پر توا لگا رہا ہے۔ دونوں ممالک کا عام آدمی اپنے ساتھ صنم کو ڈوبتے دیکھنے پر مطمئن ہے اور یہ سبق انہیں کہاں سے ملا کس نے دیا اس پر کسی جانب سے بھی زیادہ سوچ و بچار سے اجتناب ہی برتا گیا ہے۔ یہ شاید سوچنے دیا ہی نہیں گیا۔

2019 کو مودی حکومت نے جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر کے اسے مرکز کے دو زیر انتظام علاقوں میں تقسیم کر دیا تھا۔ اب بیس بڑی معیشتوں کی تنظیم جی 20 کا سربراہی اجلاس انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں منعقد کرنے پر غور ہو رہا ہے۔ جی 20 دنیا کی بیس بڑی معیشتوں کی تنظیم ہے۔ عالمی جی ڈی پی میں ان بیس ممالک کا حصہ اسی فیصد ہے۔ پاکستان چین کی جانب سے بھارت کے اس اقدام کی نفی کو اپنی سرخروئی کے طور پر پیش کرنے کے بعد مطمئن نظر آتا ہے۔ مگر یہاں دوبارہ یہ بات جان لینا ضروری ہے کہ یہ لڑائی ہاتھیوں کی ہے اور دونوں اطراف کی اشرافیہ عام آدمی کو ان ٹامک ٹوئیوں میں الجھا کر بنیادی ضرورتوں کی فراہمی سے دور رکھنا چاہتی ہے۔

جنگ کبھی کسی قضیے کا حل نہیں رہی۔ موجودہ یورپ کو دیکھا جائے تو تاریخ ایسی ہولناک جنگوں کا پتہ دیتی ہے جن میں مسخ شدہ لاشوں کی گنتی اور پہچان دونوں محال تھی۔ یورپ میں سو سالہ جنگ، تیس سالہ جنگ، سات سالہ جنگ ہی کی اگر بات کی جائے تو یورپ میں کشت و خون کا بازار گرم تھا مگر آج کا یورپ ان جنگوں کی تباہ کاریوں سے مسائل کے حل کی تفہیم سیکھ چکا، مثبت انداز فکر اور سیاسی مشاورت سے مسائل کو حل کرنے کی راہ اپنائی، ایک دوسرے کے مفادات ایک دوسرے سے وابستہ کرنے کے بعد جنگ کی راہ بہت حد تک روک لی۔

کشمیر کے مسئلے پر دونوں ممالک کی سیاسی پالیسیاں ایک طرف مگر بیرونی اثر اندازی سے بھی انکار نہیں کیا کا سکتا۔ سعادت حسن منٹو نے جہاں کشمیر کا مسئلہ نئے انگ میں سمجھایا وہیں پاکستان کی خارجہ پالیسی پر خاص طور پر امریکا کے ساتھ تعلقات کو بھی ’خطوط بنام چچا سام‘ میں لپیٹ کر سامنے رکھ دیا۔ شروعات میں ’منٹو‘ کی تاریخ وفات ارادتاً بتائی گئی تھی وفات ہے سنہ 1955۔ ’خطوط بنام چچا سام‘ کو پڑھیے اور بتائیے کیا آپ کو تب سے لے کر لمحہ موجود تک پاک امریکا تعلقات میں ایک سوتر کوئی تبدیلی نظر آتی؟ وہی ہتھیاروں کی سپلائی ہے اور زرعی ملک ہوتے ہوئے بھی وہی آٹے کی درآمد۔ اور پاکستان کشمیر کی آزادی میں یہ بات بھی بھول گیا کہ آزاد کشمیر میں شہری مہنگے داموں بھی آٹے کی عدم دستیابی کے باعث اس دھرتی پر اپنے وجود تک کو کوس رہا ہے۔

Facebook Comments HS

One thought on “صوبیدار رب نواز اور مسئلہ کشمیر

  • 26/05/2023 at 1:32 صبح
    Permalink

    ماشاالّلہ لکھتے جاؤ اور بھڑتے جائو الّلہﷻ قلم میں اور علم میں مزید طاقت اور اضافہ کرے۔

Comments are closed.