برا حال ہویا پنجاب دا


آج کبوتر نے میرے شہر سے اڑان بھری اور عزیزی قدیمی کا ایک پتر، میری منڈیر پہ رکھنے کی بجائے، آنگن میں پھینک دیا کہ اس موسم میں خطوط کی ترسیل کا بھی محاسبہ ہونے لگا ہے۔ روایتی کلام کے بعد ، سندیسے میں حکم درج تھا کہ استبداد کو زیب قرطاس کرو۔ سوچ رہا ہوں کہ ساندل بار کی اس مٹی میں ایسا کیا ہے کہ جبر کی رت کے مخالف، گل کی شاخ کی آبیاری کرتی ہے۔ وسطی ایشیا سے آئے، بادشاہ لگان کی وصولی کا حکم صادر کریں تو دلا بھٹی کو کھڑا پاتے ہیں۔ سامراجی قوتوں سے مناقشے کے لیے یکجا صف آرا ہوتے ہیں۔ خیر، حکم کی تعمیل میں پہلا قدم دھرا تو قلم ساکن رہا۔

اب درویش کو عذلت نشینی اختیار کیے، عرصہ بیت چکا ہے۔ اس سلسلے سے بھی تعلق کی ڈوری نہ بندھ پائی جہاں ولولے ہمہ گیر ہوں، مثالیت پسندی، افق پہ چھائی ہو، اور جنون، کسی نصب العین کے حصول کی خاطر، شب بھر بیدار کرتا رہا ہو۔ یہی المیہ ہے کہ رات، کسی نیند کی وادی میں پناہ گزین ہے اور درد کا احساس باقی نہیں رہا۔ میاں محمد بخش نے فرما دیا تھا، ”رات پوے تے بے درداں نوں سکھ دی نیندر آوے / درد منداں نوں تانگ سجن دی ستیاں آن جگاوے۔“

سو، حرم سرا کے کبوتر کی خبر تک، خاک نشیں کی رسائی نہیں کہ معاملے کی نوعیت اور شدت سے شناسائی پا سکے۔ ابلاغ کے جدید ذرائع منقسم ہیں، روایات کے علمبردار اور نسائیت کے مستعار نعروں کی گونج میں، لاہور کی شاہراہوں پہ شعور کی بندر بانٹ کا بیڑا اٹھائے، اکثر، اساسی حقوق کا درس دینے والے، خاموشی کی چادر میں موسم کی حرارت سے محفوظ رہنے کی خاطر، خنکی میں احساس فرحت سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ کئی حضرات تو داغ دہلوی کا یہ شعر گنگناتے پائے گئے ہیں، ”لطف وہ عشق میں پائے ہیں کہ جی جانتا ہے / رنج بھی ایسے اٹھائے ہیں کہ جی جانتا ہے“

پس، ان کی رائے میں، یہ عشاق اور محبوب کی عشوہ پردازی ہے۔ مگر شاید وہ اس سے آشنا نہیں کہ اساس معطل ہو جائے تو عضو نہیں بلکہ اعضا کی سلامتی خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ اظہار کی آزادی، گروپ بندی کی آزادی جیسی دستوری شقیں، دستور کی زینت ہیں۔ جدید دنیا کے انتظامی و حکومتی نمونے سے متاثر، ہمیشہ، جرس جمہور کو ترجیح دیتے بلکہ بیشتر تحسین سمیٹتے ہوئے بلند آہنگ میں صدا دیتے، خلق خدا کو نقارہ خدا سمجھو۔

جمہور کا راج، ایک خواب تھا جو برسوں قبل بنا گیا تھا۔ ہر دہائی میں مات کھائی مگر خواب کی سلامتی باقی رہی۔ انسانی ترقی کے ضامن اس نظام کو انہدام کے خطرے سے لاحق ہونا پڑا۔ ہر چند کہ پچھلی کئی دہائیوں سے مخلوط نظام کی بازگشت گونجتی رہی۔ افسوس کہ انسان پہ سرمایہ کاری، ثانوی حیثیت پہ فائز ہوئی۔ جمہوری اقدار کی پامالی کے بادل چاروں اور چھا گئے۔ سیاہ گھٹائیں کچھ یوں برسیں کہ سیلاب امڈ آیا جس کی موجوں نے گھروں کے آنگن کا رخ کیا۔ اسی طوفان کی زد میں بچے، بوڑھے اور خواتین بھی آ گئیں۔ آج یہ عالم کہ ندی میں طغیانی ہے۔

اس ریلے سے ڈسے، باشندوں کا تریاق، دریافت شدہ ہے۔ اس کے سامنے بندھ باندھنے کی تدابیر، سرور کی محفل میں، یک صفحے کے کیف میں ملتوی کر دی گئیں۔ ندیوں میں خون بہہ رہا ہے۔ مٹی خون اگل رہی ہے کہ ہر کھیت میں انسانوں کے سر بوئے تھے۔ لسانی یا نسلی بنیادوں پہ تفریق کا قائل نہیں مگر پنجاب کی دھرتی پہ آئے اس طوفان پہ بلھے شاہ یاد آ گئے، ”در کھلا حشر عذاب دا / برا حال ہویا پنجاب دا۔“ (در کھلا حشر عذاب کا، برا حال ہوا پنجاب کا)۔

Facebook Comments HS