نو مئی اور دیوار ندامت


وطن عزیز میں آج کل توبہ، معافی، پشیمانی، اور ندامت کا موسم چل رہا ہے۔ جسے دیکھو اپنے کیے پہ نادم ہے اور مستقبل میں مکمل پرہیزگاری کا یقین دلا رہا ہے۔ کوئی دوسروں کے کیے پہ نادم تو کوئی ’آپ کو دیکھ کے خوشی ہوئی‘ کہنے پہ پشیمان۔ جس رفتار سے توبہ کے دروازے پہ رش لگ رہا ہے لگتا یوں ہے کہ اس توبہ کشا مخلوق کی دیکھ بھال کے لئے الگ سے کوئی ادارہ قائم کرنا پڑے گا۔

ہم توبہ کر کے مر گئے بے موت اے خمارؔ
توہین مے کشی کا مزا ہم سے پوچھئے

ادارہ سے یاد آیا کہ کچھ سال پہلے تک تجربہ کار لوگ ادارہ لکھتے تھے تو بات سمجھ آ جاتی تھی، پھر ڈرتے ڈرتے محکمہ زراعت کہنے لگے، اور پھر خلائی مخلوق زبان زد عام ہو گیا۔ اس قدر قدرتی اور بے ضرر ناموں پہ بھی یار لوگ ہمیں شمالی علاقہ جات کی سیر سے ڈراتے رہے۔

پھر یکایک میر صادق و میر جعفر کا شور اٹھا اور ڈرٹی ہیری سے ہوتا ہوا 9 مئی تک آ گیا۔ فوجی تنصیبات پہ ”حقیقی آزادی کے دیوانے“ یوں حملہ آور ہوئے جیسے کہ دشمن کی فوج ہتھے چڑھ گئی ہو۔ اس نفرت کی آگ میں ایندھن بننے والوں کو پورا یقین تھا کہ وہ انقلاب کا ہراول دستہ ہیں۔ یوں انہوں نے جو ہاتھ لگا لوٹا اور جو باقی بچا اس کو جلایا۔ وہ ریڈیو پاکستان کی تاریخی عمارت ہو، فوج کا دفتر، یا کور کمانڈر کا گھر جو کہ جناح ہاؤس کے نام سے تازہ تازہ دریافت ہوا ہے۔

حکومت وقت نے اس بار روایت سے ہٹ کر بجائے کمیشن بنانے کے تخلیقی ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے جناح ہاؤس میں ایک دیوار ندامت بنانے کا فیصلہ کیا ہے جس میں آتش زدہ جناح ہاؤس کے ٹکڑے لگائے جائیں گے۔ جس سیانے نے یہ مشورہ دیا ہے اس کی محبت برادران یوسف سے کسی طور کم دکھائی نہیں دے رہی۔ اب اگر ہمارے جیسے کسی کم ظرف نے ہماری اعلی عدالت کے باہر ایسی ہی دیوار کا مطالبہ کر دیا تو لمبائی دیوار چین تک جا پہنچے گی۔ ہمارے بلوچ بھائیوں نے اگر دیوار ندامت مانگ لی تو پتھر کم پڑ جائیں گے۔ اور پھر فرض کریں اگر ایک بار ندامت کے اظہار کی غلطی کردی تو آئندہ کاروبار کیسے چلیں گے؟ لہذا بہتر ہے ایسے کاموں سے دور رہا جائے۔

رہی بات جناح ہاؤس کی تو حضور جناح ہاؤس قائد کی نشانی نہیں بلکہ جناح کے پاکستان کی نشانی یہ نوجوان ہیں جو نفرت سے بھرے بیٹھے ہیں۔ پچھلے پندرہ بیس سالوں میں سرکاری خرچ پہ ان نوجوانوں کو چور، ڈاکو، کرپٹ، مافیا اور غداری کے سبق رٹائے گئے ہیں۔ جو جتنا زور سے چلاتا، چیختا، چنگھاڑتا اور مخالفین پہ ذاتی حملے کرتا اس کو اتنا ہی بڑا ہیرو بنا کے پیش کیا جاتا۔ اب اس نسل کو سوائے نفرت کے کچھ یاد نہیں۔ ان کی یاداشت جھوٹے اور من گھڑت واقعات سے لبریز ہے۔ اگر کسی کو واقعی کوئی ندامت ہے تو اس نفرت کی آگ لگانے والوں کو قانون کے کٹہرے میں لائیں۔ وہ جج ہوں، جرنیل ہوں، صحافی ہوں یا سیاسی کارکن۔ ان نوجوانوں کو بجائے جیلوں میں ڈال کے پکا مجرم بنانے کے، ریہیبلیٹیشن اور کونسلنگ سنٹر میں بھیجا جائے تا کہ ان میں ادب، محبت، شائستگی اور برداشت آ سکے۔

دیکھ زنداں سے پرے رنگ چمن جوش بہار
رقص کرنا ہے تو پھر پاؤں کی زنجیر نہ دیکھ
مجروح سلطان پوری

Facebook Comments HS