پاکستان کی تاریخ و سیاسی تجزیہ
اسلامی جمہوریہ پاکستان 1947 ء میں معرض وجود میں آیا۔ جس کے لئے انتھک محنت کی گئی۔ متحدہ ہندوستان میں مسلمان، ہندو اور دوسری اکائیاں مل کر برطانوی سامراج کے خلاف آزادی کی جدوجہد کر رہے تھے لیکن مسلمانوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے اور ان کی آواز موثر طور پہچانے کے لئے 1906 ء میں مسلم لیگ کا قیام عمل لایا گیا۔ قائداعظم محمد علی جناح جو اس تک کانگریس کے ممبر تھے 1913 ء میں مسلم لیگ میں شامل ہوئے۔ صدر مسلم لیگ علامہ محمد اقبال نے 1930 ء میں پاکستان کا خیال پیش کیا جنہوں نے ہندوستان کے شمالی صوبوں بشمول بلوچستان، پنجاب، سندھ اور سرحد موجودہ کے پی کے صوبہ کے بارے فرمایا کہ یہ ایک دن آزاد مملکت اسلامیہ کا حصہ ہوں گے۔
کیمبرج درس گاہ کے ایک نوجوان طالب علم چوہدری رحمت نے 1933 ء میں اس آزاد ملک کا نام پاکستان تجویز کیا۔ مسلم لیگ نے اپنے لاہور کے جلسے 1940 ء میں دو قومی نظریہ پیش کیا اور مسلمانوں کے لئے ایک علیحدہ مملکت کا مطالبہ کر دیا۔ اس وقت برطانیہ میں لیبر پارٹی کی حکومت تھی جس نے 1946 ء میں ایک کیبنٹ مشن متحدہ ہندوستان بھیجا تاکہ مسئلے کا حل تلاش کیا جائے لیکن قائداعظم محمد علی جناح اور ان کے مسلم لیگی رفقاء ایک آزاد پاکستان کے علاوہ کسی اور مسئلے کے حل کی طرف راغب نہ ہوئے اور بالآخر 14 اگست 1947 ء کو پاکستان معرض وجود میں آیا۔
ایک سازش کے تحت اسے مشرقی و مغربی دو حصوں میں تقسیم کرتے ہوئے آزادی نصیب ہوئی جس میں اس کے مسلم اکثریتی علاقوں کو ہندوستان میں شامل کر دیا گیا۔ اس کے دونوں حصوں کے درمیان سولہ سو کلو میٹرز کا فاصلہ تھا۔ ایک ایسی نوزائیدہ مملکت جسے شروع دن سے نہ تو ہندوؤں نے قبول کیا اور نہ ہی اس کے حصے کے مالیاتی فنڈز عطا کیے تا کہ یہ خداداد مملکت جلد اپنی آزادانہ حیثیت کھو دے تو دوسری جانب 1948 ء کو اسے اپنے قائد کی جدائی کے صدمے سے دوچار ہونا پڑ گیا۔
اس سیاسی خلاء کو پر کرنے کے لئے مسلم لیگ نے ایک کمزور خواجہ ناظم الدین کو گورنر جنرل منتخب کیا تا کہ وہ پارلیمان کے امور میں مداخلت نہ کر سکے اور وزیر اعظم کلی اختیار کا مالک ہو۔ وزیراعظم لیاقت علی خان اس کوشش میں تھے کہ جلد از جلد ملک کو ایک دستور دیا جائے لیکن ایک تو صوبوں کے درمیان مالیاتی معاملات و دوسرے امور کا طے نہ پانا اور پھر لیاقت علی خان کا لیاقت باغ راولپنڈی 1951 ء میں قتل ایک سانحے سے کم نہ تھا۔
اب یہاں سے سیاسی رسہ کشی و محلاتی سازشوں کا دور شروع ہوتا ہے۔ جس میں بیوروکریسی، جاگیردار، فوج، اور سیاستدان سب ہی شامل تھے۔ اقتدار کی رسہ کشی نے اس مملکت اسلامیہ کی احساس کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔ حکمرانوں کے غلط فیصلے اس کی عوام اور آنے والی نسلوں کو بھگتنے پڑتے ہیں۔ کچھ ایسا ہی ہمارے پیارے وطن کے ساتھ ہوا۔ اردو کو پاکستان کی قومی زبان قرار دینا اور مشرقی پاکستان کے عوام کی اکثریتی بنگالی زبان کو نظر انداز کرنا ان میں احساس محرومی پیدا کر گیا۔
اسی کے ساتھ ناعاقبت اندیش سیاستدان حکومتی امور میں اپنے غلط کاموں کو دوام دینے اور نا اہلی و سیاسی امور میں کچھ لو اور کچھ دو کے اصول پر عملدرآمد نہ کر سکنے کی صورت میں فوج کو امور سلطنت میں شامل کرتے چلے گئے، بیوروکریسی تو پہلے ہی محلاتی سازشوں سے اپنے پاؤں امور سلطنت میں جما چکی تھی اسی کے ساتھ ہماری سپریم کورٹ بھی نظریہ ضرورت ایجاد کرتے ہوئے ان کا ہم پیالہ و ہمنوا بن گئی۔ بدقسمتی سے 1958 ء کو جنرل ایوب خان نے ملک پر مارشل لاء لگاتے ہوئے تمام سیاسی سرگرمیوں کو نہ صرف معطل کیا بلکہ بعد میں ایبڈو کے قانون کے تحت کئی سیاستدان کو نا اہل قرار دیا۔
اگلے گیارہ سال جنرل ایوب خان اس مملکت اسلامیہ کے سیاہ و سفید کے مالک بنے رہے۔ درمیان میں محترمہ فاطمہ جناح کے خلاف نام نہاد الیکشن لڑا اور دھاندلی سے کامیابی بھی حاصل کی لیکن آخر کار اسٹیبلشمنٹ کو 1970 ء میں ایک سول نافرمانی تحریک کے نتیجے میں مغربی و مشرقی پاکستان دونوں صوبوں میں الیکشن کروانے پڑ گئے۔ جن میں شیخ مجیب الرحمٰن کی عوامی لیگ نے بھاری اکثریت سے مشرقی پاکستان میں ایک سو باسٹھ کی ایک سو باسٹھ سیٹوں پر کامیابی حاصل کر لی۔
جب کہ مغربی پاکستان میں قومی اسمبلی کی ایک سو اڑتیس سیٹیں تھیں۔ اس وقت پاکستان قومی اسمبلی کی کل تین سو سیٹیں تھیں۔ اکثریتی جماعت عوامی لیگ کو اقتدار سے محروم رکھنے کے لئے سامراجی حربے استعمال کیے گئے۔ اقتدار ملکی نمائندوں کے حوالے کرنے کی بجائے جنرل یحیی نے اس پر قبضہ کر لیا۔ جنرل یحیی کو 1971 ء میں ذوالفقار علی بھٹو نے اس بات پر قائل کر لیا کہ ہم سیاسی معاملات کا حل شیخ مجیب الرحمٰن سے طے کر لیتے ہیں لہذا اسمبلی کے اجلاس کو موخر کر دیا جائے۔
اس کے نتیجے میں عوامی لیگ نے بھی اپنی انتہائی پوزیشن لے لی اور واضح کر دیا یہ اقتدار کی منتقلی کو روکنے کا بہانہ ہے۔ بعد میں بھٹو نے ادھر ہم ادھر تم کا نعرہ لگادیا۔ سیاستدان معاملات کو سیاسی طور پر سلجھانے میں ناکام رہے اور دونوں صوبوں میں نفرت انتہاء درجے کو پہنچ گئی جو بالآخر سانحہ مشرقی پاکستان کے بنگلہ دیش بننے پر منتج ہوا۔
اس وقت کی قومی اسمبلی نے اکثریتی فیصلے سے 1973 ء میں ملک کو پہلا دستور دیا۔ لیکن سیاستدان اب بھی اقتدار کے ایوانوں میں غلطیوں کے عمل سے سیکھ کر ملکی ترقی کی راہ متعین کرنے کا وتیرہ سیکھ نہ سکے اور شفاف الیکشن کروانے اور ایک آزاد الیکشن کمیشن کا قیام خواب ہی رہا۔ 1977 ء کے الیکشنوں میں قومی اتحاد نے دھاندلی کا نعرہ بلند کرتے ہوئے سول نافرمانی کی تحریک شروع کر دی۔ اس بار پھر سیاستدان بروقت اپنے اختلافات کو دوبارہ سیاسی طور پر حل نہ کر سکے۔
جس کے نتیجے میں ایک اور طالع آزما نے ملک کی بھاگ دوڑ اس وقت تک سنبھالے رکھی جب تک ایک فضائی حادثے میں اس کا انتقال نہ ہوا۔ اس کے بعد سیاستدان ایک دوسرے سے دست و گریبان رہے اور ایک دوسرے کو جیلوں کی راہ دکھاتے رہے اور ہماری ہچکولے کھاتی نوزائیدہ سیاست آہستہ آہستہ آگے بڑھتی رہی لیکن جمہوریت اور اس کے لوازمات مکمل طور اس ملک میں پنپ نہ سکے۔ سیاسی پختگی اور جمہوریت سیاسی پارٹیوں میں در نہ آ سکی اور سیاستدان بھی اس تمام عمل سے گزرتے ہوئے کوئی سبق حاصل نہ کرسکے جس کے نتیجے میں اکتوبر 1999 ء میں ملک کو ایک اور مارشل لاء کا سامنا کرنا پڑا۔
وہ بالآخر دوبارہ لولی لنگڑی جمہوریت کی طرف گامزن ہوا لیکن پھر بھی یہ اپنے قدم مضبوطی کے ساتھ جما نہ سکی اور ہم اسی گرداب میں پھنستے چلے گئے جس سے ملک میں پولرائزیشن کا عمل شروع ہو گیا اور معاشرتی ناہمواریاں بڑھتی چلیں گئیں۔ حکمرانی کی میوزیکل چئیر آج بھی جاری ہے عوام پس رہے ہیں ان کا کوئی پرسان حال نہیں۔ آج بھی ہم اپنی راہیں متعین نہیں کر سکے اور نہ ہی ایک اچھی حکمرانی عوام کو دے سکے۔ جب سیاستدان دان اپنے اپنے اختلافات کو جمہوری انداز سے ایک دوسرے کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے حل نہ کرسکیں تو لازمی امر ہے پھر دوسری قوت اس سے فائدہ اٹھاتی ہے۔
ہمیں جمہوری معاشرے میں رہتے ہوئے اس کے لوازمات کے ساتھ چلنا ہو گا۔ جس میں قوت برداشت، ایک دوسرے کے نقطہ نظر سے اختلاف کی صورت میں برداشت، ملکی سلامتی اور ملکی مفادات کو ترجیح دینا ہو گی۔ ہم ایک جذباتی قوم ہیں اور ہمیں جذبات کے بجائے ٹھنڈے دل کے ساتھ سوچ سمجھ کر قدم رکھنا ہوں گے ۔ جلاو گھیراؤ کی پالیسی کا قلعہ قمع کرنا ہو گا۔ اپنی عسکری تنصیبات، قومی اور ثقافتی ورثہ جات کی حفاظت کرنا ہو گی۔ ملکی افواج ہماری اپنی ہیں یہ ملکی سلامتی کی ضامن ہے۔
ہمیں دشمن کی ففتھ وار جنریشن کا حصہ نہیں بننا اور اسے سمجھنا چاہیے اور ہم میں اتنی سوجھ بوجھ ہونی چاہیے توڑ پھوڑ، گھیراؤ جلاؤ اور اہم تنصیبات پر حملے ہمارا اپنا نقصان ہے۔ اہل ارباب سے بھی گزارش ہے کہ وہ بھی اب جمہوریت کو پنپنے دیں۔ اب بہت کھلواڑ اس ملک سے ہو چکا۔ ملک میں قانون کی حکمرانی قائم کریں۔ قانون سب کے لئے برابر ہو، حقدار کو حق ملنا چاہیے۔ اسی میں ملک پاکستان کی بقا ہے۔ تمام اہل پاکستان بشمول اقلیتوں سے گزارش ہے کی ہم سب اپنے جذبات کو کنٹرول کر نا سیکھیں پاکستان ہے تو ہم سب ہیں۔ باہمی احترام و دلیل کو غالب کرنا سیکھیں۔ جس دن ہم میں دلیل غالب آ گئی تو وہ دن ہماری ترقی کی جانب پہلا قدم ہو گا۔ پاکستان پائندہ باد


