مضبوط خاندان، محفوظ عورت، مستحکم معاشرہ


ہم عورتیں آج تک اپنا وجود تسلیم کروانے کی ہی جنگ لڑ رہی ہیں آج جس موضوع پر اپنا قلم چلاؤں گی وہ مضبوط خاندان، محفوظ عورت اور مستحکم معاشرہ ہے مگر میں شاید نہیں حقیقتاً بہت تلخ ہونے والی ہوں کیونکہ میں وہ نہیں لکھوں گی جو سب سننا چاہتے ہیں یا پھر ان کی نظر میں سب ٹھیک ہے میں وہ تلخ حقائق لکھوں گی جس سے آج کی عورت نبردآزما ہے جس سے معاشرہ میں وہ نعرہ گونج رہے ہیں جنھیں یہودی پروپیگنڈا کہا جاتا ہے کوئی یہ نہیں سوچتا کہ یہ نعرہ کیونکر آیا، کیسے آیا، ہماری نوجوان لڑکیاں کیوں اسے تھامنے کو تیار ہو گئی کہیں ہمارے معاشرہ میں موجود کسی ناسور نے تو یہ نعرے ان کے ہاتھوں میں نہیں تھما دیے اور زبانوں سے نہیں اگلوا لیے۔

مسلمانوں اور ہندوؤں کا ساتھ کوئی ہزار سال پر مبنی رہا ہے مسلمانوں کا اٹھنا بیٹھا، کھانا پینا سب کچھ ہندوؤں کے ساتھ رہا ہے ایسے میں ہوا کچھ یوں کہ ہندوؤں نے تو مسلمانوں کے عقائد روزہ، نماز، زکوۃ، حج، حلال، حرام نہیں لیے مگر مسلمانوں نے خوش دلی اور شوق سے ان کی رسمیں، رہن سہن اور عقائد لے لیے۔ اسلام وہ مذہب ہے جس میں بیٹی کو رحمت کہا گیا ہے حضرت محمد مصطفیﷺ نے بیٹیوں کو زندہ درگور ہونے سے بچایا انھیں حقوق دلوائے اپنے آخری خطبہ میں کہا عورتوں کے معاملہ میں اللہ سے ڈرو۔

مگر ہوا کچھ یوں کہ مسلمانوں نے اپنا اوڑھنا بچھونا ہندوؤں کی رسموں کو بنالیا اور رسم جہیز کی وجہ سے انھیں بیٹیاں بوجھ لگنے لگی حضرت محمد مصطفیﷺ نے فرمایا جو چیز گھر میں لاؤ سب سے پہلے بیٹی کو دو پھر بیٹے کو مگر چونکہ بیٹی کو بیاہنے کے لیے جمع پونجی کرنی ہے اور پھر اس نے چلے جانا ہے اس لیے سارے حقوق بیٹے کو ہی ملنے لگے اس لیے بیٹیوں کو لگا کہ ہمیں اپنے حقوق کی جنگ کرنے کے لیے سڑکوں پر نکلنا ہو گا اور حقوق مانگنے پڑے گے پھر چاہے ہمیں یہودی ایجنٹ سمجھا جائے، باغی، غدار یا پھر بے شرم۔

اس لیے کیونکہ جب کہانی تھوڑی آگے بڑھے گی تو ہمیں بیاہ کر اس خاندانی نظام کا حصہ بننا ہے جو اسلام میں موجود ہی نہیں بلکہ وہ بھی ہندوؤں سے لیا گیا ہے یعنی مشترکہ خاندانی نظام اسلام میں تو دیور کو آگ کہا گیا ہے پھر ایسا کیسے ممکن ہے کہ اس دیور کے ساتھ ایک ہی دسترخوان پر بیٹھ کر کھانا کھایا جائے یا پھر اس کی ذمہ داریاں بھی ساس صاحبہ اٹھا کر بہو پر ڈال دے کیونکہ ان سے کام نہیں ہوتا اور نوکرانی پیسے لیتی ہے اگر محسن انسانیت، رحمتہ اللعلمین گیارہ ازواج کے ہوتے ہوئے خود کام کر لیتے تھے تو پھر ہمارے معاشرہ کے کنوارا مرد کیوں خود کام نہیں کر سکتے کہ بھابھی، بہن یا اماں کریں گی کیونکہ یہ کام لڑکوں کہ کرنے کے نہیں ہوتے۔

اسلام نے بیویوں کو آزاد رکھا تھا ان پر ذمہ داریوں کا بوجھ اور پہاڑ نہیں ڈالا تھا مگر افسوس کے ساتھ ہمارے معاشرہ نے بیویوں کو ہمسفر سے زیادہ گھر کی نوکرانی بنا ڈالا ہے ان کا کام سارا دن گھر کے کاموں میں الجھے رہنا ساس، نندوں کی خدمت کرنا اور اس کے بعد طعنے، طنز اور باتیں سننا رہ جاتا ہے وہ بھی ان لوگوں سے جنھیں انھیں کچھ کہنے کا حق ہی نہیں وہ ذہنی اور جسمانی طور پر اتنی تھک جاتی ہیں کہ جس کے لیے وہ بیاہ کر لائی گئی ہوتی ہیں اس کو اس کا حق دینے سے قاصر ہوتی ہیں اس کے بعد جب شوہر باہر روابط قائم کر لے تو مرد قصور وار مرد کیونکر

قصور وار اس کو حلال جب سکون سے نہیں مل رہا تووہ حرام ہی ڈھونڈے گا۔

فی الوقت ہمارے معاشرہ میں معاشرتی مسائل بڑھتے جا رہے ہیں ڈپریشن، خودکشی، طلاقیں اور اس سب کی صرف ایک وجہ ہے اور وہ ہے اسلامی نظام سے دوری وہ اسلامی نظام جو پہلے عورت کو باپ، بھائی سے تحفظ دلا تا ہے اس کے بعد وہ شوہر کو حق مہر کی ادائیگی کے ساتھ اس کے لیے علیحدہ چھت لینے کا کہتا ہے جہاں وہ ذہنی اور جسمانی آسودگی حاصل کر کے اپنے بچوں کی بہترین تربیت کرسکے جس کیونکہ اسی سے مضبوط خاندان، محفوظ عورت اور مستحکم معاشرہ وجود میں آتا ہے۔

Facebook Comments HS