طارق مسعود وٹو کے ”لڈو“


مولا علی علیہ سلام کا فرمان ہے ”بدبخت ہے وہ انسان، جس کی بدتمیزی کے خوف سے لوگ اس کی عزت کریں“ ، ہمارے پیارے نبیﷺ نے سب سے زیادہ حکم اچھے اخلاق کا دیا ہے۔ اچھا مسلمان وہی ہے جو سیرت طیبہ ﷺ پر عمل کرے اور اپنے حسن اخلاق کو اچھا بنائے، عہدے، رتبے اور دولت سے عزت نہیں کمائی جا سکتی ہے۔ اچھا اخلاق ہمیشہ یاد رہتا ہے اور یہی عزت دلاتا ہے۔

زندگی میں بہت سی شخصیات سے تعلق رہا، بہت کم شخصیات نے متاثر کیا، جنہوں نے متاثر کیا ان میں ایک شخصیت طارق مسعود وٹو کی ہے۔ ان سے 2013 ء سے تعلق ہے۔ احترام اور محبت کا رشتہ اب تک قائم ہے۔ انتہائی ملنسار، خوش اخلاق، دھیمے مزاج کی شخصیت ہیں۔ طارق مسعود وٹو 12 مئی 2023 ء کو سپورٹس بورڈ پنجاب سے ڈپٹی ڈائریکٹر ایڈمن کے عہدے سے ریٹائر ہوئے ہیں۔ ان کی ریٹائرمنٹ پر ان کے رفقاء اداس تھے کیونکہ ان کا رویہ ڈرائیور، چپڑاسی سے لے کر اعلی افسران تک ایک جیسا ہی ہوتا ہے۔

اکثر دیکھا ہے کہ لوگ عہدوں کے حساب سے دوسرے کو عزت دیتے تھے مگر وہ اپنے ڈرائیور کو بھی سلیم صاحب کہہ کر مخاطب ہوتے تھے۔ ایسی شخصیت کی ریٹائرمنٹ پر ہر ملازم کا اداس ہونا قدرتی امر ہے۔ طارق مسعود وٹو ایماندار اور محنتی افسر تھے۔ پاکپتن کے زمیندار گھرانے سے تعلق ہے۔ نیشنل ہاکی سٹیڈیم کو اپنا گھر سمجھتے تھے۔ اس کی ایک ایک چیز کی حفاظت اس طرح کرتے جیسے ان کی ذاتی ملکیت ہو، ایک بار ان کے ساتھ ایک دفتر میں بیٹھے تھے تو انہوں نے دیکھا کہ دفتر کے تالے کا ایک پیچ گرا ہوا تھا اور تالا ہل رہا تھا۔

تالے کو دیکھ کر فوراً اس کا جائزہ لیا اور معذرت کر کے چلے گئے کہ ابھی واپس آتا ہوں، وہ دفتر ان کا اپنا نہیں تھا کسی دوسرے افسر کا تھا۔ تھوڑی دیر بعد پیچ کس، پلاس اور پیچ لے کر واپس آئے اور اپنے ہاتھوں سے تالے کو پیچ لگا کر کس دیا، پھر مطمئن ہو کر بیٹھ گئے اور کہا اب ٹھیک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تالے بہت مہنگے ہو گئے ہیں۔ ایک پیچ کی وجہ تالا ضائع ہو جانا تھا۔ اب کہیں نہیں جاتا جس پر میں نے کہا آپ یہ کام کسی ملازم سے بھی کروا سکتے تھے پھر خود اتنی زحمت کیوں کی تو انہوں نے جواب دیا کہ ملازم کو کہتا تو اس نے کل کردوں گا کا کہہ کر ٹال دینا تھا اور یہ کام رہ جانا تھا۔

کسی نے زور لگانا تھا تو تالا اس کے ہاتھ میں آجانا تھا اس لئے اس کا فوری علاج کر دیا، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ سرکار کی چیزیں بھی ہماری ہی ہوتی ہیں۔ جہاں سے رزق کماتے ہیں اس کا خیال بھی رکھنا چاہیے، ان کی اس بات نے بہت متاثر کیا، زندگی میں ایسا افسر نہیں دیکھا جو اس حد تک سرکار کی املاک کی حفاظت کرتا ہو، دفتر کے ملازمین کو جب بھی کسی قسم کا مسئلہ درپیش ہوتا وہ سرکاری نوعیت کا ہو یا ذاتی نوعیت کا، وہ بھاگا بھاگا طارق مسعود وٹو کے پاس جاتا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ اس در سے انکار نہیں ملے گا۔

وٹو صاحب ساتھیوں کے ذاتی مسائل اپنے ذاتی تعلقات اور وسائل سے حل کرا دیتے تھے جس کی وجہ سے وہ ہر دل میں بستے ہیں۔ سپورٹس بورڈ پنجاب کے ایونٹس زیادہ تر نشتر پارک سپورٹس کمپلیکس میں منعقد ہوتے ہیں۔ طارق مسعود وٹو کی یہ بات بھی دیکھی کہ ایونٹ ختم ہونے پر سب افسر اور ملازمین گھروں کو لوٹ رہے ہوتے تھے تو وٹو صاحب گراؤنڈ کا چکر لگاتے کہ کہیں کوئی چیز رہ تو گئی۔ سب کچھ سمیٹ کر جاتے تھے کیونکہ سرکار کی املاک کو وہ اپنی سمجھتے تھے اور اس کی حفاظت بھی اپنی املاک کی طرح کرتے تھے۔ یہ احساس بہت کم سرکاری افسروں اور ملازمین میں دیکھا ہے۔ اکثر سرکاری ملازمین کا یہ حال ہوتا ہے مال مفت دل بے رحم، یہ بھی ان کی اعلی ظرفی کی ایک مثال ہے جونیئر ملازمین کو پیار سے ”لڈو“ پکارتے، ان کا کوئی کام ہوتا تو وہ کر کے اکثر خود اس کے پاس جاکر بتاتے، ”لڈو تیرا کام ہو گیا ہے۔ موجاں کر“ ۔

طارق مسعود وٹو نے اپنی ملازمت کے دوران سپورٹس بورڈ پنجاب کو ایک مضبوط ادارہ بنایا، اس کے قوانین بنانے میں ان کا اہم کردار تھا۔ ایک بار وہ بتار رہے تھے کہ سپورٹس بورڈ پنجاب خودمختار ادارہ ہے جب اس کے قوانین تیار کرنے کا وقت آیا تو مصطفی شاہ سے مل کر دن رات کام کر کے قوانین بنائے تاکہ ملازمین کو سہولتیں ملیں، احساس ذمہ داری کا ہونا بہترین انسان کی نشانی ہے اور یہ احساس اسی وقت پیدا ہوتا ہے جب آپ کی تربیت اچھی کی گئی ہے۔

ذمہ داری کا احساس، دوسروں کا احساس، ہمدردی اور نیکی اچھی تربیت کی نشانی ہوتی ہے۔ ایک دہائی سے طارق وٹو صاحب سے تعلق ہے اور یہ تمام خوبیاں ان میں پائی ہیں۔ کہتے ہیں خصلتیں نسلوں کا پتہ دیتی ہے۔ ان کی عادات اس بات کی گواہی دیتی ہیں کہ ان کے آبا و اجداد کی روایات کتنی عظیم ہیں۔ یہی وجہ ہے ان کی ریٹائر منٹ پر ساتھیوں کی آنکھوں میں آنسو دیکھے، دعا ہے طارق مسعود وٹو ریٹائر زندگی خوش و خرم گزاریں، دوران ملازمین انہوں نے جن لوگوں سے نیکیاں کی ہیں وہ ان کی دعاؤں میں ہمیشہ شامل رہیں گے۔

 

Facebook Comments HS