استخارہ میں نہ آیا ہے


میں تو اپنے بیٹے کے لیے چاند سی دلہن لاؤں گی، یہ جملہ اماں کے لبوں سے آج کل بار بار جاری ہو رہا تھا، چچی آئیں تھیں حال پوچھنے کو ان سے گفتگو میں کہیں بات اس طرف نکل گئیں یہ جملہ سنا، خالہ کا فون آیا ہوا تھا وہاں بھی یہی جملہ سننے کو ملا اور جب شام کو ہمسائے سے آنٹی راشدہ اپنے پوتے کی ولادت کے لڈو بانٹتے ہمارے گھر آئیں وہاں بھی یہی جملہ دہرایا گیا، یہ تو ایک دن کی بات ہے کئی دن سے یہی صوت سنائی دے رہی تھی۔

کثرت ذکر سے یہ محسوس ہو نے لگا تھا جیسے یہ ایک جملہ نہیں ایک دعویٰ ہے جیسے انتخابات سے قبل ہر پارٹی کر رہی ہوتی ہے ہم اقتدار میں آ کر یہ کر دیں گے وہ کر دیں گے، بعد میں پتا چلتا ہے یہ کیا کر دیا وہ کیا کر دیا، خیر۔

میں زندگی کی پچیس بہاریں دیکھ چکا ہوں، ماسٹرز کیے ہوئے ایک سال ہو چکا اور نوکری کرتے بھی کوئی چھ آٹھ ماہ ہو ہی چکے، آپا اور میں بس دو ہی بہن بھائی ہیں، آپا کی شادی قریباً چار سال قبل ہوئی تھی مجھے یاد ہے میں اس وقت آنرز کر رہا تھا، ویسے مشاہدہ میں آیا ہے کہ زندگی کے بیشتر قابل یاد واقعات اسی دوران وقوع پذیر ہوتے ہیں، آنرز ہوتا جو چار سالوں پر محیط ہے کیا کیا کچھ بیت جاتا ہے۔ مجھے یاد ہے جب ان کے لیے دو مختلف اور دور کے رشتے داروں کی جانب سے رشتہ آیا تھا ہے تھے تو اماں ابا نے قریبی عزیزوں سے مشورہ کے بعد دور کی خالہ کا جانب سے آیا ہوا رشتہ قبول کیا اور دور کے چچا کو بتا دیا تھا کہ ”استخارہ“ میں نہ آیا ہے۔ آپا بفضل خدا خوش و خرم زندگی گزار رہی ہیں۔ میں بھی کہاں نکل گیا بات ہو رہی تھی میری چاند سی (بقول اماں ) فی الحال نامعلوم دلہن کی۔

حقیقت تو یہ ہے ہر ماں کا ارمان ہوتا ہے اپنے بیٹے کے سہرے کے پھول دیکھے اور اگر بیٹا بھی اکلوتا ہو تب تو ارمانوں کی شدت کا اندازہ کوئی ماں ہی کر سکتی ہے۔ اماں کے اس جملے کی تکرار کا اثر یہ ہونے لگا تھا، عزیزوں کی کسی محفل میں چلا جاؤں تو بلا تفریق ہر چھوٹا بڑا یہی پوچھتا تھا اور بھئی کب کر رہے ہو شادی؟ کب لا رہے ہو چاند سی دلہن؟ محلے میں نکلوں تو یہی سوال سامنے کھڑا ہوتا ہے کبھی کوئی پڑوسی پوچھتا تو کبھی کوئی، حتیٰ کہ محلے کے چچا انتظار جو کوئی اسی برس کی عمر کو پہنچ چکے، پچھلے بیس برس سے درجن بھر بیماریوں میں مبتلا ہیں اور مالک الموت کا انتظار کر رہے ہیں، اسی سبب ان کا نام انتظار پڑ گیا ویسے تو نام کچھ اور تھا جو اب کسی کو یاد بھی نہیں پوچھ رہے تھے بیٹا جلدی شادی کرلو میری زندگی کا کوئی بھروسا نہیں، بڑی خواہش ہے تمہاری بارات کی ملنی میں ہی وصول کروں۔

اور تو اور کسی دوست نے شرارت ً یہ بات میرے دفتر میں بھی پھیلا دی ہے اب تو وہاں بھی انہی سوالات کا سامنا رہتا ہے، مجھے تو یہ گماں ہونے لگا ہے کہ آئندہ چند روز میں اس مسئلہ کو اہم ترین قومی مسئلہ قرار دے دیا جائے گا، جس پر ٹی وی چینل پروگرام کیا کریں گے، سو شل میڈیا کے دانشور مباحثے کریں گے، عدالت اعظمیٰ نوٹس لے گی بعید نہیں سیاسی جماعتیں اس مسئلہ کو آئندہ انتخابی منشور کا حصہ بنا لیں ”ہم کروائیں گے نوجوانوں کی شادیاں“ وغیرہ وغیرہ پھر کہیں یہ عالمی مسئلہ نہ بن جائے۔

اس مسئلہ عظیم کے حل کے لیے اماں نے عملی اقدامات بھی اٹھائے ہیں، پتا نہیں کہاں کہاں رشتے داریاں، حوالے واسطے ڈھونڈھ کر ان کے ہاں موجود کنواری اور خوبصورت دوشیزاوں کے کوائف اکٹھے کیے گئے، ان کی چھانٹی کی گئی، ایک فہرست مرتب کی گئی اور پھر رابطے شروع کیے گئے۔ اس سفر طویل میں بعض جگہیں ایسی بھی تھیں جہاں کے کنوارے اب کنوارے نہیں رہے تھے۔ قریبی رشتے دار تو اس فہرست سے ابتدا ء ہی میں خارج کر دیے گئے تھے، اماں کا کہنا ہے قریبی رشتے داریوں میں سو طرح کے مسئلے مسائل پیدا ہو جاتے ہیں، ویسے تو آپس میں رشتے کرنے سے خاندان جڑ جایا کرتے ہیں مگر یہاں تقسیم کی خلیج کو بھانپ کر اسے خارج از امکان قرار دے دیا گیا۔

کسی ایک جگہ تعلق کی بنا پر معاملہ چل نکلا، میرے اماں ابا ان کے گھر گئے اور اپنی طرف سے دیکھ آئے اور انہیں ہمارے گھر آنے کی دعوت بھی دے ڈالی۔ چند روز بعد وہ چھ لوگ بشمول دو خواتین ہمارے گھر آئے، گفتگو شروع ہوئی مجھ تک پہنچے تو سوالات کی موسلا دھار بارش شروع ہو گئی، ہر ایک فرد نے اپنی استعداد کے مطابق ثواب سمجھ کر مجھ سے سوال کیے ، خواتین کے سوال امور خانہ داری سے متعلق زیادہ تھے جیسے کہ کیا آپ کو کچھ کھانا پکانا بھی آتا ہے؟

کپڑے استری وستری بھی کر لیتے ہو؟ گھر کے کام شام بھی کرلیتے ہو؟ وغیرہ وغیرہ، میں تو سمجھ گیا تھا آج جہاں ”بھی“ ہے کل وہاں ”ہی“ بچ جائے گا۔ مرد حضرات کے سوالات میری تعلیمی قابلیت، نوکری سے شروع ہوئے ملکی حالات، سیاست، معیشت، لوڈ شیڈنگ، دہشتگردی، سیاست میں فوج کا کردار، بارڈر پر بھارت کی اشتعال انگیزی تک جا پہنچے، یہاں بھی بات رکی نہیں عالمی دنیا کے معاملات بھی لپیٹ میں آئے۔ امریکہ، برطانیہ، روس کے ساتھ پاکستان کے تعلقات، ان کے پاکستان سے ڈو مور کے مطالبات اور ایسے میں پیدا ہونے والی تشویش، پٹرول کی بڑھتی قیمتیں، ایران اور سعودی عرب کے مابین تنازعات سے متعلق سوال بھی کیے گئے۔

تمام سوالوں کے بھرپور جواب دینا تو ممکن نہ تھا مگر کچھ نہ کچھ جوابات میں نے دیے۔ پھر محفل برخاست ہو گئی۔ اس قدر سوال تو مجھ سے بوقت ملازمت نہ ہوئے تھے جتنے اس روز ہوئے۔ ویسے اس دن سے میں اپنے آپ کو ایک تجزیہ کار تصور کر رہا ہوں اور سوچ لیا ہے اگر خدا ناخواستہ نوکری نہ رہی تو اس میدان کا انتخاب بلا حیل و حجت کر لوں گا۔ وہ لوگ جاتے جاتے سوچ وچار کے لیے وقت مانگ گئے تھے۔ چند دن بعد محلے کے ایک صاحب پوچھنے لگے ارے بیٹا!

کیا ہوا تمہارے رشتے کا ؟ دو چار دن قبل ایک دو لوگ آئے تھے تمہارے بارے معلومات کرنے کو ۔ ایک روز دفتر میں مجھے ایک سینئر نے بتایا ایک صاحب ان کے جاننے والے کی وساطت سے میرے بارے میں معلومات اکٹھی کر رہے تھے اور باتوں باتوں میں پتا چلا کہ وہ آپ کے والد کے دفتر میں بھی کسی جو جانتے ہیں وہاں سے بھی معلومات لی گئیں۔ غرض پتا چلا کہ مجھ سے متعلق بے شمار معلومات اکٹھی کرلی گئیں ہیں، میرا رویہ، انداز، کام، تنخواہ وغیرہ وغیرہ اور یہی تمام چیزیں ابا سے متعلق بھی جانی جا چکی ہیں۔

یہ گماں ہونے لگا تھا کہ ان لوگوں کا تعلق ضرور کسی ایجنسی سے ہے جو اس قدر جان کاری کی گئی ہے۔ یہ تو ہمیں معلوم نہ ہوسکا ہاں البتہ ایک دن بالآخر ان کی طرف سے ایک کال آئی جس سے متعلق ہم یہ خیال کر رہے تھے یہ کنفرمیشن کال ہوگی اور معاملات کو مزید آگے بڑھانے پر اتفاق ہو گا مگر ۔ ان کا کہنا تھا آپ لوگ تو بہت اچھے ہیں، بچہ بھی اچھا ہے لیکن ”استخارہ“ میں ”نہ“ آیا ہے۔ اس کے ساتھ وہ باب بند ہو گیا۔

پھر اماں کو خیال آیا وہ جو ہمارے دور کے چچا ہیں جنہوں نے آپا کا رشتہ مانگا تھا ان کی ایک بیٹی کنواری ہے کوئی میری ہی عمر کی کیوں نہ ادھر رشتے کے بات کی جائے سو ایک دن وہاں جاکر اس خواہش کا اظہار کیا گیا، وہ رشتے دار تھے، معلومات کرنے کی خاص ضرورت نہیں تھی، لہٰذا انہوں نے استخارہ کے لیے مہلت لی۔ چند دن بعد ان کا فون آیا، ہم تو آپ کو ہمیشہ ہی سے جانتے ہیں، بچہ بھی اپنے ہاتھوں کا پلا بڑھا ہے مگر یہ تو قسمت کے کھیل ہیں خدا کی جو رضا ہم بھی اس میں راضی، یہ بتانا تھا ”استخارہ“ میں ”نہ“ آیا ہے۔ یہ باب بھی بند ہو گیا۔

اماں اب بھی اپنے دعویٰ پر قائم، میرے لیے چاند سی دلہٰن لانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ خدا کرے ان کی کوششیں جلد رنگ لے آئیں اور وہ اپنے ارمان پورے کر لیں۔ الہٰی آمین

 

Facebook Comments HS