بد مست ہاتھیوں کا غول اور ہانکا


کوئی پانچ سال پہلے ایک خبر نظر سے گزری کہ بھارت کے مشرقی حصے میں اس بد مست ہاتھی کو مارنے کی تیاری کی جا رہی ہے جو گزشتہ کئی مہینوں کے دوران 15 لوگوں کو ہلاک کر چکا ہے۔ جنگلی حیات کے ادارے کے عہدے داروں نے کہا کہ ہماری اولین کوشش ہاتھی کو پکڑ نا ہے۔ اگر وہ کسی بھی طرح ہمارے کنٹرول میں نہ آیا تو پھر آخری چارہ کار کے طور پر اسے ہلاک کر دیا جائے گا۔ گزشتہ روز بھی ہاتھی نے ایک اور شخص کو اپنے پاؤں تلے کچل کر ہلاک کر دیا۔

جس کے بعد ریاست جھاڑکھنڈ میں جنگلی حیات کی نگرانی کرنے والے عہدے دار اور مقامی شکاری اکٹھے ہوئے اور اسے گھیرے میں لے کر پکڑ نے یا مارنے کے مختلف طریقوں پر غور و خوض کیا گیا۔ ریاست جھاڑ کھنڈ کے محکمہ جنگلات اور جنگلی حیات کے سربراہ نے بتایا کہ بدمست ہاتھی نے ریاست جھاڑکھنڈ کے حدود میں داخل ہونے سے پہلے ریاست بہار میں 4 لوگوں کو ہلاک کیا تھا۔

وہ مارچ میں جھاڑکھنڈ میں داخل ہوا جس کے بعد سے وہ 11 افراد کو اپنے پاؤں کے نیچے کچل کر مار چکا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بستیوں اور دیہاتوں میں رہنے والے ہاتھی سے خوف زدہ ہیں خاص طور پر وہ لوگ جو اس پہاڑی علاقے کے قریب رہتے ہیں جہاں ان دنوں ہاتھی کو دیکھا جا رہا ہے۔ اس مسئلے کے حل کے لیے لازمی طور پر کچھ کرنے کے ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے ماہرین اور شکاریوں پر مشتمل ایک ٹیم بنائی ہے۔ ہم اس مسئلے کے مختلف پہلوؤں پر سوچ بچار کر رہے ہیں۔

ایک حل تو یہ ہے کہ اسے گولی مار دی جائے۔ لیکن یہ قدم آخری چارہ کار کے طور پر اٹھایا جائے گا۔ کیوں کے جنگلی جانور کو مارنے کی صورت میں وائلڈ لائف کے حقوق کے عالمی اداروں کی بہت زیادہ تنقید و اعتراضات کا سامنا کرنا پڑ تا ہے بہر حال ہم ایک دو دن میں کسی فیصلے پر پہنچ جائیں گے۔ یہ خبر پڑھ کر میری رگ تجسس پھڑ کی میں نے اس خبر کا پیچھا کرنا شروع کیا ایک ہفتہ بعد اس ہاتھی سے متعلق ایک اور خبر آئی کہ اس بد مست ہاتھی کو ہانکا لگا کر پکڑ لیا گیا ہے اور اسے بدمست ہاتھیوں کو دوبارہ سدھانے کے لئے بحالی کے خصوصی مرکز میں منتقل کرد یا گیا ہے۔

ہانکا وحشی جانور کو شکار کرنے کا ایک ایسا طریقہ ہے۔ جس میں مختلف مقامات پر بہت سے لوگ جمع ہو کر شور مچاتے اور ڈھول، بر تن بجا کر وحشی جانور کو اس سمت کی طرف ہانکتے ہیں۔ جہاں پہلے سے ایک بہت بڑا اور گہرا گڑھا کھودا جاتا ہے اور اوپر سے گڑھے کے منہ کو بڑے درختوں کے پتوں سے ڈھانپ دیتے ہیں اور اس طرف جانے والا راستہ خالی چھوڑ دیا جاتا ہے۔ یعنی تین اطراف سے گھیرا ڈالنے کے بعد یہ لوگ ہنگامہ برپا کرتے ہوئے وحشی جانور کو ہانکتے ہیں۔ وہ گڑھے کی سمت جانے پر مجبور ہو جاتا ہے اور گڑھے کے اندر گر جاتا ہے وہاں شکاری اس کا خیر مقدم کرنے کے لیے پہلے سے گھات لگائے بیٹھے ہوتے ہیں۔

آج ایک ٹی وی چینل پر ”پاکستان کی سب سے مقبول سیاسی پارٹی“ ہونے کی دعویدار کے ایک برزجمہر فرما رہے تھے کہ نو مئی کو لاہور کی پولیس کہاں غائب تھی بھائی یہ آپ کی پوری جماعت کو قابو کرنے کے لئے ہانکا لگایا تھا اور پارٹی کے بدمست ہاتھیوں کا غول کور کمانڈر لاہور کا گھر جی ایچ کیو راولپنڈی، مردان کینٹ شہدا کی یاد گار اور مجسمے، ریڈیو پاکستان پشاور کی عمارت، وغیرہ وغیرہ کو تہس نہس کرنے دوڑ پڑا۔ اس میں پولیس کا کیا کام ہاں البتہ شکاری ہر طرف گھات لگائے بیٹھے تھے اور اب ہر ہر بدمست ہاتھی کو قابو کرنے کی سعی کر رہے ہیں تقریباً سولہ ہزار گرفت میں آچکے ہیں۔ اب پاکستان کے واحد ”انسانی حیات“ کی حفاظت کرنے والے ”ادارے“ کی مرضی ہے کہ وہ کس کس کو بحالی کے مرکز بھیجتا ہے اور کتنوں کو سلاخوں کے پیچھے۔ بس دعایہ ہی ہے کہ کسی کی گردن لمبی نہ کی جائے۔

Facebook Comments HS