اور پاکستان بچ نکلا!


الحمدللہ پاکستان بچ نکلا۔ تمام تر کوششوں کے باوجود نادان دوست، عیار دشمن اور بدخواہ نے منہ کی کھائی۔ چومکھی لڑائی تھی لیکن صد شکر کہ پاکستان بچ نکلا۔ مقصد تھا ملک کو ڈیفالٹ کرنا تھا کہ ایٹمی اثاثوں کے ساتھ ساتھ اگر ممکن ہو تو ملک کے بھی حصے بخرے کر دیے جائیں لیکن دشمن کی مکروہ مکاریوں پر ہمیشہ کی طرح اس بار بھی اللہ کی تدبیر غالب رہی اور پاکستان بچ نکلا۔

جاتے جاتے پہلی چال ملکی خزانے سے متعلق چلی گئی۔ ایک صوبے میں اپنی حکومت تھی۔ وہاں کی حکومت کو ڈالر کی سمگلنگ میں استعمال کیا گیا۔ منصوبہ یہ تھا کہ جب ملک میں ڈالروں کی کمی ہو گی تو درآمدات یا تو بالکل رک جائیں گی یا کم از کم متاثر ضرور ہوں گی جس سے ملک کے اندرونی حالات خراب ہوں گے، چیزوں کی کمیابی ہو گی، قیمتیں اتنی زیادہ بڑھ جائیں گی کہ عوام کی دسترس سے دور ہو جائیں گی، ڈالر کی قیمت دن بدن بڑھتی جائے گی جس سے ملک کے اندر بھی مہنگائی کا ایک سیلاب الگ سے اثرانداز ہو گا، اس مقصد کے لیے پہلے ہی ڈالر کا ریٹ طے کرنے کے لیے ریاستی بینک کو آزاد کر دیا گیا تھا تاکہ ڈالر کی شرح حکومت کے ہاتھوں سے نکل جائے، لامحالہ ایل سیز کا کھلنا کار دشوار ہو جائے گا، ملک کے ذمے واجب الادا قرضوں کی اقساط ادا کرنا مشکل ہو جائے گا اور یوں ایک دن پاکستان کے ڈیفالٹ ہونے کا اعلان کر دیا جائے گا۔

اس ”نیک“ کام کے لیے ہر روز سوشل میڈیا پر ”پاکستان کے ڈیفالٹ“ ہونے کی ”بشارتیں“ سنائی جاتیں اور باقاعدہ ٹرینڈ چلائے جاتے کہ پاکستان آج نہیں تو کل ڈیفالٹ کر جائے گا لہذا اس ملک سے نکلیں اور اپنا سرمایہ ڈوبنے سے پہلے کسی اور ملک منتقل کر لیں۔ یوں ڈالر نے پاکستان سے دائیں بائیں پرواز شروع کی، کچھ کام موصوف کی صوبائی حکومت کی سرپرستی میں جاری تھا، باقی کام لوگوں کی بے یقینی نے کر دکھانا تھا، لوگوں نے ڈیفالٹ کے ڈر سے اسٹاک مارکیٹ اور بینکوں سے ڈالر نکالنا شروع کیا اور جن کے پاس تھا انھوں نے مزید مہنگا ہونے کے لالچ میں چھپائے رکھا۔ اس سے پہلے ملک میں خانہ جنگی کا محاذ گرم کرنے کے لیے بھی باقاعدہ اہتمام کیا گیا تھا۔ اس مقصد کے لیے سری لنکا کے حالات کو بطور لائحہ عمل پیش کیا جاتا رہا تاکہ یہاں کے عوام بھی ایسی صورت میں کپتان کپتان کے مخالف سیاستدانوں پر پل پڑیں۔ منصوبہ مکمل تھا لیکن اللہ تعالیٰ کے کرم سے پاکستان بچ نکلا۔

ڈیفالٹ کو یقینی بنانے کے لیے دوسری چال کا تعلق صوبوں سے تھا۔ اس مقصد کے لیے ملکی تاریخ میں پہلی پختونخوا نے دو تین بار ہاتھ کھڑے کیے کہ ہمارے پاس ملازمین کو تنخواہ دینے کے پیسے نہیں۔ مقصد یہی تھا کہ ڈیفالٹ ہونے کا اعلان ایک ایسے صوبے سے کیا جائے جو پہلے ہی امن و امان کے حوالے سے حساس ہو لیکن سترہ کلو میٹر کے وزیراعظم شہباز شریف نے ہر بار پیسا دے کر اس منصوبے کو بھی ناکام بنایا اور یوں اللہ کے کرم سے پاکستان بچ نکلا۔

تیسری چال کا تعلق آئی ایم ایف سے تھا۔ ہچکیاں لیتے پاکستان کو قرضے کی ضرورت تھی لیکن پاکستان کے ”حقیقی دردمند“ کپتان کی صوبائی حکومتیں اپنے گرو کی منشا کے مطابق خطوط لکھ کر عملی اقدامات کر رہی تھیں کہ پاکستان کو قرضہ نہ ملے۔ یہ فرضی باتیں نہیں بلکہ اس مکروہ منصوبے کی آڈیو کالیں پکڑی جا چکی ہیں۔ مقصد یہ تھا کہ نہ تو پاکستان میں سرکاری ملازمین کو تنخواہیں مل سکیں گی اور نہ ہی پاکستان باہر سے پٹرولیم مصنوعات درآمد کر سکے اور یوں ملک میں ڈیفالٹ کر جائے لیکن اللہ کے کرم سے پاکستان بچ نکلا۔

چوتھی چال کے تحت نہ صرف ملک بلکہ ہمسائے کی جیلوں سے بھی ریاست کو مطلوب دہشت گرد ایک نام نہاد امن معاہدے کے تحت رہا کر دیے گئے۔ انھیں ملک میں بسا دیا گیا۔ یوں موصوف کی حکومت جانے کی دیر تھی کہ ملک میں دھماکوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ ریاست کو بیرونی دباؤ کے ساتھ ساتھ اندرونی دباؤ کا شکار بنا کر ڈیفالٹ کرنے کا منصوبہ مکمل تھا لیکن اللہ کے کرم سے پاکستان بچ نکلا۔

اندرونی افراتفری اور خانہ جنگی کے لیے پانچویں چال کا تعلق آٹے کی سمگلنگ سے تھا۔ منصوبہ کے تحت جونہی گندم مارکیٹ میں آنا شروع ہوئی، باردانہ کی بجائے اسے قریبی ملک سمگل کیا جانے لگا۔ اس مقصد کے لیے پنجاب اور کے پی کے کی حکومتیں قائم رکھی گئیں تاکہ کسی قسم کی رکاوٹ نہ ہو۔ روٹی بیس پچیس روپے تک جا پہنچی۔ شہباز حکومت نے تاریخی سبسڈی دے کر آٹے کی سستی فراہمی کو یقینی بنایا۔ کیا دھرا عمران کا تھا لیکن بھرنا شہباز کو پڑا لیکن اللہ کا شکر کہ اندرونی افراتفری اور خانہ جنگی کے مقاصد پورے نہ ہو سکے اور اللہ کے کرم سے پاکستان بچ نکلا۔

ایک اور مکروہ چال ترقی کے نام پر چلی گئی۔ پنجاب حکومت نے جاتے جاتے اتنے منصوبے شروع کیے جتنا کپتان چار سال بھی نہ کر پایا تھا۔ بنے بنائے روڈ بھی اکھاڑ کر دوبارہ بنائے جانے لگے۔ کسی نے نہ پوچھا کہ اگر ملکی خزانے میں پیسے نہیں اور پاکستان ڈیفالٹ کر رہا ہے تو اتنے منصوبے کیونکر؟ لیکن منصوبہ یہی تھا کہ اسمبلی تحلیل کرنے سے پہلے خزانے کو مکمل خالی کر دیا جائے تاکہ ڈیفالٹ کا سہرا نگران حکومت کے سر باندھا جا سکے لیکن اللہ کے کرم سے پاکستان بچ نکلا۔

آخری چال کا تعلق بیرونی آقاؤں کو میدان میں اتارنا تھا۔ نیوکانز، سمتھ فیملی اور ”ظلمے“ خلیل زاد کا درد دیکھا جا سکتا ہے۔ ایک شخص چار سال جنھیں اپنا، پاکستان اور عوام کا دشمن بتایا کرتا تھا کیا عجیب نہیں کہ وہی دشمن آج اسی شخص کو بچانے کے لیے ایڑی چوٹی کا شور لگائے بیٹھے ہیں؟ عجیب و غریب قسم کے لوگ عجیب و غریب کے خطوط لکھ رہے ہیں اور تمام تر شرائط منوانے کے باوجود آئی ایم ایف قرضہ نہیں دے رہا تو کیوں؟ جواب ایک ہی ہے کہ کوششیں جاری ہیں کہ دشمن کی آنکھوں میں کانٹے کی کھٹکتی واحد ایٹمی اسلامی ریاست ڈیفالٹ کر جائے لیکن اللہ کے کرم سے پاکستان بچ نکلے گا۔