مکران کے ماہی گیروں کے لیبر حقوق اور حیثیت کے موضوع پر گول میز کانفرنس


گوادر پریس کلب میں مختلف مکتبہ فکر کے لوگوں اور ماہی گیری سے متعلق موضوع پر ہر کسی نے اپنے تاثرات بیان کئیے ان سب کا حکومت اور محکمہ فشریز سے مطالبہ تھا کہ ماہی گیروں کی زندگی میں بہتری آ جائے۔

اس سیمینار میں کہا گیا کہ ماہی گیر کون ہیں؟

ماہی گیر وہی ہے جو سب سے پہلے وہ تیرنا جانتا ہو ماہی گیری کے کام میں بلد ہو، موسم اور سمندری اتار چڑھاؤ سے متعلق بہت کچھ جانتا ہو۔ اس سلسلے میں اشرف حسین نیشنل پارٹی کے رہنما نے کہا کہ ماہی گیر اور کاشتکار کسی بھی ملک میں لیبر تسلیم نہیں ہوتے۔ وہ اپنے ملکیت کے مالک خود ہیں۔

اگر اس سیمینار میں کوئی شخص مجھے کسی بھی ملک کی مثال دے کہ وہاں کے ماہی گیر لیبر تسلیم کیے گئے ہیں۔ پورے ہال میں کسی نے اس پر مزید بات نہیں کی۔ تو انہوں نے کہا کہ اگر محکمہ فشریز یا حکومت اس نوٹیفکیشن پر عمل کیوں نہیں کر رہی ہے۔
البتہ ماہی گیر محکمہ فشریز کو ٹیکس دیتا ہے اس کو ہر حقوق ملنے چاہئیں۔
آر سی ڈی کونسل کے صدر ناصر سہرابی نے اپنے تجاویز شرکاء اور منتظمین کو پیش کیے ۔ جو مندرجہ ذیل تھے۔
ماہی گیروں کو لیبر کا درجہ دینے کے حکومت بلوچستان کے نوٹیفکیشن پر عمل در آمد کرایا جائے۔
اور اس سلسلے میں محکمہ ماہی گیری اور دیگر اداروں کو پابند کیا جائے۔
2 ماہی گیروں کی رجسٹریشن کا عمل مکمل کیا جائے۔ ایسے ماہی گیر جو کشتی : میراث نہیں رکھتے مگر بطور جانشو خلاصی کام کرتے ہیں ماہی گیر کو بطور، ان کو بھی نا خدا ملکیت (کشتی یا لانچ ) کے مالک ماہی گیر کے برابر حقوق دیے جائیں۔ خاص طور پر ماہی گیروں کے لیے مراعات کی تقسیم میں ناخدا کے ساتھ ساتھ جانشو کو بھی شامل کیا جائے۔

3۔ ماہی گیروں کے شکار گاہوں، ساحل سمندر تک رسائی کے حق کو تحفظ دیا جائے۔ اور ان کی آمد و رفت میں خلل ڈالنے سے گریز کیا جائے۔

4۔ ماہی گیروں میں امداد، مراعات میں انجن، جال وغیرہ۔ ایک ہی شخص یا ایک ہی خاندان کے افراد کو بار بار نواز نے کے سلسلے کو روکا جائے۔
اجتماعی بہتری کے منصوبوں کو فوقیت دی جائے۔

اس سیمینار میں قرار داد پر بھی اعتراض کیا گیا کہ اس زمانے میں مچھلی کو بہت کم جگہوں پر نمک لگاتے ہیں بلکہ زیادہ تر انہیں فریز کر کے باہر کے ممالک میں بھیجا جاتا ہے۔

اس سیمینار میں شریک اکثر افراد کا کہنا ہے کہ گوادر یا بلوچستان کی مچھلیاں کراچی میں اور ایران میں فروخت ہوتی ہیں اس کے فوائد بلوچستان حکومت کو نہیں ملتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ یہاں گوادر پورٹ سے ڈائریکٹ دوسرے ممالک میں برآمد ہوں۔

اس سیمینار میں کہا گیا کہ یہاں زیادہ سے زیادہ فیکٹریاں قائم کی جائیں تاکہ گوادر کے مقامی مزدوروں کو روزگار میسر ہو۔

ایسی کانفرنسوں کی بڑی افادیت ہے۔ تاکہ لوگوں کو مزید آگاہی حاصل ہو کہ مچھلی کے انڈوں سے لاکھوں بچے پیدا ہوتے ہیں لیکن گجہ نیٹ سے ان کی نسل کشی ہوتی ہے۔ اس کی روک تھام ضروری ہے۔

اور کنٹانی ہور کے بارے میں بھی سیمینار ہوں جہاں ہزاروں لوگ ڈیزل پٹرول اور دیگر آئل گرانے سے مچھلی کی قیمتیں گر گئی ہیں یا مچھلی ڈی گریڈ کو پہنچی ہے۔ اور بیرون ملک ہماری مچھلی کی کوئی قیمت نہیں رہی۔ ماہی گیروں کے لیے روز بروز حالات ناسازگار ہوتے جا رہے ہیں۔ اس پر سوچنے کی ضرورت ہے۔ اس سیمینار میں جیوز کے کے بی فراق، نیشنل پارٹی کے ماہی گیر سکریٹری آدم قادر بخش، آر سی ڈی کونسل کے صدر ناصر سہرابی، فشریز کے ملازم عارف ازمل، پسنی کے سلام بلوچ، بلوچستان نیشنل پارٹی کے ماہی گیر سکریٹری واجو خدا داد، سر بندن کے عبدالغفار شوہاز بلوچ، اور دیگر شرکاء نے بھی اپنی رائے دی۔

Facebook Comments HS