استقبال کی تیاریاں کیجیے گا


بیس سال سے امریکی جیل میں سڑنے والی عافیہ صدیقی کیس کے سلسلے میں ان کے لیے سینٹ اور دیگر مختلف فورمز پر مسلسل آواز اٹھانے والے جناب مشتاق احمد خان، عافیہ صدیقی کی بہن فوزیہ صدیقی کے ساتھ امریکہ تشریف لے گئے ہیں اور فی الحال ان کے وکیل کلائیو سمتھ کی کاوشوں سے ملاقات کی ایک کرن اور رہائی کے سلسلے میں امید کی کوئی رمق دیکھنے کو ملی ہے جس پر یہاں پاکستان میں واویلا مچایا گیا ہے اور ہر کوئی ”دیگ اپنے مدرسہ لے جانے پہ مصر ہی کیا، مرنے مارنے پہ تلا ہوا ہے“

ہم صرف اتنی گزارش کریں گے کہ اللہ کے بندوں فی الحال دعائیں کیجیے کہ اللہ تعالیٰ غیب سے کوئی سبیل فرمائیں اور اس مظلوم اور مقہور پاکستانی بیٹی کو وطن واپس لایا جا سکے۔ بے شک پھر کریڈٹ جو بھی لے جائے، لینے کی پوری کوشش کیا کرے کہ ”بے شرمی کے اس طرح کے کارناموں کے علاوہ ہمیں آتا کیا ہے“

تجویز ہماری یہ ہوگی کہ جناب حافظ عاصم منیر صاحب کی قیادت میں صاحبان حضرت مولانا فضل الرحمان، ”علامہ“ مریم نواز، آصف علی زرداری، عمران خان اور دیگر سب فلاں فلاں ہاتھوں میں گلدستے لئے اسلام آباد ائرپورٹ پر عافیہ صدیقی کی زندہ لاش کو وصول فرمائیں۔

ساتھ یہ ضرور یاد رہے کہ وصول شدہ لاش کسی عافیہ نامی پاکستانی مسلمان خاتون کی نہیں بلکہ ریاست پاکستان، مقتدرہ پاکستان، حکومت پاکستان، سیاستدانان پاکستان اور عوام پاکستان کی آزادی، خود مختاری، غیرت، حمیت اور شرم و حیاء کی لاش ہو گی جسے پورے اعزاز، احترام، وقار اور تزک و احتشام کے ساتھ وصول کرنے کا پورا اہتمام کرنا لازمی ہو گا۔

اور ہاں اسے سیدھا قبرستان لے جائیے گا اور پرویز مشرف والے گڑھے کے پہلو میں اسے دفن کیجیے گا۔ مشرف کے سرہانے ایک کتبہ ضرور نصب کیجیے جس پہ تحریر ہو کہ یہ پاکستانیوں کی بے غیرتی، خود غرضی، لالچ، بھوک اور دلالی کی علامت اور دوسرے والے مزار پہ بھی کتبہ لازمی ہو گا جس پہ صرف اتنا ہی لکھنا کافی ہو گا کہ ”پاکستانیوں کی بے حسی اور بے شرمی کی علامت“

دنیا کیا یاد رکھے گی کہ کیسے کیسے لوگ یہاں شب و روز گزار کے پناہ ہوچکے ہیں۔
آزادی کیا بلا ہے،
خود مختاری کیا مصیبت ہے،
غیرت کون سی بیماری ہے،
اور خود داری و شرم و حیاء کون سا نشہ ہے۔
یہ سب جائے بھاڑ میں۔
ہمارے لئے یہ اعزاز کوئی کم ہے کہ ”پاکستانی تو ڈالرز کے لئے اپنی مائیں تک بھی بیچنے سے نہیں ہچکچاتے“
ان بے شرموں کی وجہ سے اس عظیم ملک کے باشندوں کے مقدر میں کیا کیا لکھا گیا ہے۔

Facebook Comments HS