ہے عیاں شورش انصاف کے افسانے سے
ہم حسب سابق، ہر کمال را زوال است، کے سبق سے سبق حاصل کرنے پر اب بھی آمادہ نہیں ہوئے۔ دیگر جماعتوں کی طرح تحریک انصاف بھی ایک طویل مایوس کن سفر کے بعد 2012ء میں باطفیل دست شفقت ظفر یاب ہوئی۔ مقبولیت و جنونیت کا جادو کچھ ایسے سر چڑھ کر بولا کہ خان صاحب تکبر و نرگسیت کا پیکر بن بیٹھے۔ ادھر چاہنے والوں نے شخصیت پرستی کے تمام ریکارڈ توڑے اور انہیں ہر خامی کے ساتھ قبول کرنے کی ٹھان لی۔ اس قدر شہرت اور قبولیت جہاں نعمت ہیں وہیں اللہ کا امتحان بھی ہیں۔ جب تئیس کروڑ میں سے ایک بھی اپنے جیسا نہ لگے تو اللہ کی لاٹھی سے بچنا محال ہو جاتا ہے۔ بھلا دیا گیا کہ کائنات کا پہلا گناہ کفر و شرک نہیں بلکہ، میں سب سے بہتر ہوں، ہی تھا۔ سید میراں بھیکھ نے خوب لکھا ہے،
اونچا اونچا ہر کوئے چلے، نیچا چلے نہ کوئے نیچا ہو کر وہی چلے، جو اونچے گھر کا ہوئے
ماضی میں ان پڑھ اور جہلاء ہی، بڑوں، کے حصے کے بے وقوف سمجھے جاتے تھے مگر اس تحریک نے تعلیم یافتاؤں کو بھی اخلاق باختہ کر کے ثابت کیا کہ جہالت پر صرف جاہلوں کا ہی اجارہ نہیں ہے۔ علاوہ ازیں اسٹیبلشمنٹ پراس تحریک کو لانچ کرنے کے بعد جلد ہی عیاں ہو گیا کہ بے حد خود پسند نیم حکیموں کو لاکر ملک کے ساتھ وہ خود بھی پھنس چکی ہے مگر جان نہ پائے کہ وہی حکیم چورن بیچنے کے فن کی معراج تک جا پہنچا ہے۔ پہلی بار انہیں ٹکر کے لوگوں سے سابقہ لاحق ہوا تو ماتھا ٹھنکا۔ پھر یہ کہاوت شدت سے یاد آنے لگی،
سیکھتوا کو دیجئیے جا کو سیکھ سہائے سیکھ نہ دیجئیے باندرا جو بئیے کا گھر جائے
جس کی زندگی ہر روز، روز عید اور ہر شب شب برات گزری ہو، جسے جوتے کپڑے بغیر خریدے مداحوں کی جانب سے مل جائیں، جس نے غربت اور مسائل حیات محض سنے یا پڑھے ہوں، جو اپنے گھر والوں اور خاندان کے ساتھ بھی چل نہ پائے اور جو زندگی کے اسرار و رموز سے عملاً نا آشنا ہو تو اسے ہی فرقوں، قوموں اور نظریوں میں بٹا ملک کھیلنے کو مل جائے تو پھر کیا تماشا ہو؟ سو وہ تماشا ہوا اور خوب ہوا۔ معاشی نظام کے قلع قمع کے بعد دوست ممالک سے ذاتی انا کے باعث تعلقات بگاڑ لئے۔
چین کے اقتصادی منصوبوں کو زک پہنچائی۔ کرپشن کے نعرہ لے کر اٹھے پر تاریخ ساز کرپشن انہیں کے دور میں ہو گئی۔ قرض لینے پر خود کشی کا وعدہ تو ایک طرف ستر سال کے برابر کا قرض فقط تین برس میں لے کر لٹیا ڈبوئی۔ پھر اسلامی ٹچ اور ریاست مدینہ کے دلاسے بھی چورن کا حصے رہے۔ کہہ مکرنیوں کے کوہ گراں نے کوئی پہلو نہ چھوڑا جس کے برعکس کچھ کہا یا کیا نہ ہو۔ نیوٹرلز کو جب تک خبر ہوئی کہ اس جماعت کا سیاسی نہیں، نفسیاتی مسئلہ ہے تب پانی سر سے گزر چکا تھا اور تاریخ ایک نیا حسن بن صباح متعارف کروا چکی تھی۔
خان صاحب کی نمایاں خوبی رہی کہ کام کی بجائے اپنا وقت اپنے دشمن ڈھونڈنے میں صرف کیا، نہ ملے تو از خود پیدا کر ڈالے۔ حق و باطل اور نفرت کے فلسفے کو ہوا دی مگر حشیشین کی غیر مشروط غلامی نے انہیں ہیرو بنائے رکھا۔ سن رکھا تھا کہ طاقت اور دولت کے زور پر استحصال ہوتے ہیں مگر مقبولیت اور افرادی قوت کے بل بوتے پر اخلاق، قانون اور مذہب کی توہین کا عروج دیکھا گیا۔ ویسے تو پوری قوم عقابوں کی حامل اور فاختاؤں سے محروم ہے مگر یہ تحریک اپنی مثال آپ ہے۔
شورش انصاف سے اس بات کا اعادہ ہوا ہے کہ آج بھی زر، زن اور زمین کے بعد سب سے برا فتنہ کرسی ہے۔ یہاں سٹیبلشمنٹ کی خامیوں کا اندازہ اقتدار میں آنے سے قبل یا اقتدار سے نکالے جانے کے بعد ہی ہوتا ہے۔ البتہ اس تحریک نے امیر طبقات کو سیاسی عمل کا حصہ ضرور بنایا مگر وہاں بھی بے مہار اور کم لباس نوجوان نسل کو گل کھلانے کا موقع مل گیا۔ بڑے بڑے خاندانوں کی بچیوں کی جلسوں میں شرکت اور رقص و سرود ملت اسلامیہ کے اس راہ نما کو نظر نہیں آتے۔
حقیقی آزادی کے لئے پرائی عورتوں اور بچوں کا سیاست میں استعمال بھی متعارف کروایا۔ ان کا ہر جلسہ لڑکیوں اور ہر فیصلہ چند خواتین کا مرہون منت رہا۔ شاید یہ لوگ کامیاب مرد کے پیچھے عورتوں کے ہاتھ کے شدید قائل ہوں۔ تاہم اب پوری جماعت کو یہ حقیقت با جماعت تسلیم کرنی ہوگی کہ ایک ناکام شخص کے پیچھے بھی کسی عورت کا ہی ہاتھ ہوتا ہے بھلے وہ مرشد ہی کیوں نہ ہو۔ ویسے بھی یہ سب سے زیادہ، شخصیت پرست، جماعت نکلی۔ شورش انصاف نے یہ عقدہ بھی عیاں کیا کہ پارٹی کے سینئیر اور با شعور لوگوں کی بات پر کان نہ دھرنا دانش مندی نہیں۔
اسمبلیوں کی ادھیڑ بن اور استعفوں کے لطیفے احمقانہ اقدام تھے جن کے بعد مطالبہ سرعت انتخاب بھی جگ ہنسائی کا موجب بنا۔ تحریک ہٰذا کو چار چاند لگانے اور پہلے سے ہی بنی قوم کو مزید بنانے میں اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا کا ید طولیٰ بھی شامل ہے۔ نوجوانان ملت نے بھی عقل برائے گھاس چھوڑی اور اپنے تئیں بے خطر آتش نمرود میں کود پڑے۔ شورش انصاف کے افسانے سے مظلوم عوام کی جارحانہ حقیقت بھی عیاں ہوئی۔ مہر ثبت ہوئی کہ ہم قوم نہیں بپھرا ہوا ہجوم ہیں جس کا علاج معالجین کے سوا کچھ اور نہیں۔
بلا شبہ عوام اور سیاسی قیادت میں میچورٹی کا بلا کا فقدان ہے اور پورا معاشرہ اور سوشل میڈیا اس کا منہ پھٹتا ثبوت ہے۔ کوئی بھی دودھ کا دھلا نہیں اور حسب استطاعت ہر شخص ہی جرم میں شریک ہے۔ جمہور کے راگ کے لئے شعور شرط ہے وگرنہ بندر کے ہاتھ ماچس تھمانا چہ معنی دارد؟ یاد رہے کہ نامعقولوں کی ایک معقول تعداد سادہ اکثریت جبکہ ایسے نامعقولوں کی انتہائی معقول تعداد واضح اکثریت کہلاتی ہے۔ اب اگر اوپر والے غیر جانبدار ہونا بھی چاہیں تو ہم اور ہمارے قائدین کمبل کے مصداق انہیں چھوڑ نہیں پاتے۔ ہر جگہ ہرزہ سرائی، طعن و تشنیع اور دشنام طرازی کی آگ لگی ہے، میر تقی میر ہوتے تو وطن عزیز کو دیکھ کر کہہ اٹھتے، یہ دھواں سا کہاں سے اٹھتا ہے ۔
ایک اور اہم نکتہ برآمد ہوا کہ اس شورش اور اس کے جواب شورش پر شعراء اور ادباء پر ، ہو، کا عالم طاری ہے۔ جبکہ ماضی میں فیض، فراز اور جالب نے غضب کی مزاحمت لکھی۔ اس کے پیچھے بھی، مدعی سست اور گواہ چست، کے حقائق کار فرما ہیں۔ جن ادوار میں مزاحمتی ادب تخلیق ہوا اس دور میں سیاسی طبقات نے پہلے خود مزاحمت کی، جیلیں کاٹیں، کوڑے کھائے، حتیٰ کہ پھانسی پر لٹکے۔ مگر وہ نہ صرف ثابت قدم رہے بلکہ اداروں پر یلغار سے بھی گریز کیا۔
لیکن یہاں تو گنگا کے ساتھ راوی و چناب بھی الٹا بہنے لگے۔ جب دوسروں کو چور کہنے والے خود ڈکیت نکلیں، جب اہم اداروں اور تنصیبات پر ، یا شیخ الجبال، کہتے ہوئے ٹوٹ پڑیں، جب موروں کو بھی چور پڑنے لگیں، جب زن، نازن، ہونے پر فخر کرنے لگے، اور پھر ٹکر کا جواب ملنے پر نیلسن منڈیلے، چی گویرے اور ارطغرل غازی، جیل کی پہلی رات، ہی تائب ہونے لگیں، بھاگنے اور چھپنے میں عافیت سمجھیں، جعلی بیماریوں اور مضحکہ خیز لنگڑاہٹ کی ڈھال برتیں، اور شور انگیز پہلوئے دل سے اک بوند خون کی بھی نا نکلے تو شعراء و ادباء کس کی خاطر اور کیوں ادبی جہاد پر نکلیں؟
کیا ان کے ہاں، بھیجے، نہیں ہیں کہ وہ اس طرح کی بارات میں عبدااللہ دیوانے بنے پھریں۔ کیا وہ ان لوگوں کی آواز بنیں جو ڈیڑھ سال سے وطن عزیز کے ڈیفالٹ ہونے اور سری لنکا بننے کی دعائیں اور حسرتیں لئے ہوئے ہیں۔ اس تحریک سے یہ بھی ثابت ہوا کہ معاملات و انتظامات جادو ٹونے اور مرغیاں جلانے سے نہیں چلتے بلکہ ان کے لئے نیک نیتی، احترام رائے، اہلیت، معاملہ فہمی اور اخلاقیات ضروری ہیں۔ یہ کیوں بھول گئے کہ باریاں لینے والوں کو باریوں کے حساب بھی دینے پڑتے ہیں۔
تاہم یہ سب کے لئے سبق ہے۔ سچی بات ہے کہ کچھ دنوں سے ملک میں مثبت بدلاؤ ہے۔ کاش خان صاحب نے ایسی تبدیلی کی کوشش کی ہوتی۔ اب لوگ اپنے دوست احباب اور عزیزوں کی طرف لوٹ رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر تو خاص نزول رحمت ہے۔ ہم نے بحثوں اور تبصروں میں زندگی کا وہ حصہ برباد کر دیا جس میں ہم مسکرا سکتے تھے، دوسروں کو ہنسا سکتے تھے، کچھ کر سکتے تھے، کچھ سیکھ اور کچھ سکھا سکتے تھے۔ مگر افسوس۔ ہم تو دوسروں کو رلاتے ہی رہے۔


