مشال خان سے ستوریا خان تک
پاکستانی قدامت پسند معاشرے میں غیرت، توہین مذہب وغیرہ ناموں پر کسی کو قتل کرنا نہ نئی بات ہے نہ حیرانی کی۔ البتہ مشال خان شہید کیس کو میں یکسر مختلف زاویے سے دیکھتا ہو، کیونکہ مشال خان کو نہ فیض آباد کے لبیکیوں نے نہ جنت کی تلاش میں نکلے جہادیوں نے قتل کیا بلکہ سیکولر نظریات رکھنے والوں کی بنائی ہوئی یونیورسٹی میں تعلیم یافتہ لوگوں نے بے دردی سے شہید کیا۔
چند دن پہلے دخترک اقبال لالا ہمشیرہ مشال خان شہید محترمہ ستوریا خان نے بفلو یونیورسٹی سے بائیو میڈیکل انجنیئرنگ میں ڈگری حاصل کی، اس پر ستوریا خان، خاص کر والد محترم ستوریا خان جناب اقبال لالا کو اور خواب مشال خان کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ بقول
دینوس کرسٹیانوپولس وہ ہمیں دفن کرنے کی کوشش کرتے رہے ؛ انہیں یہ معلوم نہیں تھا کہ ہم بیج ہیں۔
پاکستان سے انتہا پسندی ذہنیت خاتمہ موجودہ نظام یا موجودہ طریقہ کار سے تقریباً ناممکن ہے، سیاست سے لے کر گھر کی آنگن تک مذہبی کارڈ مملکت خداداد کے رہنے والے استعمال کرتے ہیں۔ کیونکہ ہم سب جانتے ہیں کہ یہاں پر یہ کارڈ دیگر اہم کارڈز جیسے اے ٹی ایم، سی این آئی سی وغیرہ سے زیادہ کار آمد اور تاریخ انقضا سے مشروط ہے۔ جب اس کارڈ کے ساتھ قوم پرستی کارڈ بھی شامل ہو جائے تو کیا کہنے۔
پاکستانی سیاست دانوں سے زیادہ یہ دونوں کارڈز یونیورسٹی کے طلباء دل کھول کر استعمال کرتے ہیں، پاکستان کے بڑے جامعات کے طلباء مذہب اور قوم پرستی کو بغیر خوف کے استعمال کرتے ہیں، مختلف کونسل اور تنظیمیں یہاں پر کسی گینگز سے کم نہیں ہے۔ پاکستانی سیاست دانوں کے آشیرواد سے یہ گینگز دن بہ دن بڑھتے جا رہے ہیں۔ روح مشال خان شہید آج بھی انصاف پانے کے لئے منتظر ہیں۔ دوسری طرف پاکستانی یونیورسٹیز کے طلباء مشال خان شہید جیسے واقعات کو مزید ہوا دینے کے لئے بے صبری سے منتظر ہیں۔ یہ گینگز عافیہ صدیقی کو قوم کی بیٹی مانتی ہے نہ کہ ملالہ یوسفزئی کو نہ ہی ستوریا خان کو۔


