ذہنی صحت اور ہماری ذمہ داریاں
یوں تو ہم اکثر اپنے معاشرے کے مسائل پر گفتگو کرتے رہتے ہیں اور ان کے پھیلاؤ، اثرات ان کے نتائج پر بھی بات کر لیتے ہیں مگر ان کے حل، سدباب کے لئے کسی بھی سطح اپنا کوئی کردار نہ ادا کرتے ہیں اور نہ ہی اس کی کوشش کرتے ہیں کیونکہ دراصل ہم سب ہی ان مسائل کی کہیں نہ کہیں وجہ ہیں یا وجہ کا باعث ہیں جو کہ ہم تسلیم کرنے کو تیا ر ہی نہیں ہیں۔
ایک اور اہم بات کہ ہم ذہنی صحت کے بارے میں ایک خاص نظریہ رکھتے ہیں کہ جس شخص کو کوئی بھی اگر ذہنی مسئلہ ہے تو وہ لازما کسی قابل نہیں رہا اب وہ معاشرے میں کسی کردار کو ادا کرنے کہ لائق نہیں ہے اس پر طنزیہ جملے، اس کی صورتحال سے لطف اندوز ہونا ہم سب کی عادات میں شامل ہو گیا ہے جبکہ دوسرے جسمانی مسائل کے حامل افراد کے لئے ہمارا رویہ قدرے مختلف ہوتا ہے ہم نہ صرف ان کے ساتھ ہمدردی کرتے ہیں، ان کا خیال رکھتے ہیں بلکہ وقتاً فوقتاً ان کی تیمار داری اپنا فریضہ بھی سمجھ کر ادا کرتے ہیں جبکہ یہی سب کچھ ایک ذہنی مریض کو بھی درکا ر ہوتا اور ہمیں اس کے ساتھ بھی یہی سب کچھ کرنا چاہیے۔
ایسی گمبھیر معاشرتی صورتحال میں اب بھی کچھ ایسی ادارے اور لوگ ہیں جو کہ ان اپنی ذمہ داری کو سمجھتے ہوئے اپنے دائرہ کار میں اپنی صلاحیتوں کا استعمال کرتے ہوئے اپنا کردار ادا کر رہے ہیں ایسے کئی افراد اور ادارے ہیں جو کہ لا محدود شعبوں میں انسانیت کی فلاح و بہبود اور بہتر اور محفوظ مستقبل کے لئے کام کر رہے ہیں ان میں تعلیم، صحت، غربت کے خاتمے، خواتین اور بچوں کے حقوق وغیرہ شامل ہیں پچھلے دنوں کراچی سے تعلق رکھنے والی ایک تنظیم یا ادارے میک ون ٹو فائیو پیپل ہیپی ’کی ایک کاوش سے نظر گزری ہمارے ایک فنکار شجاع سمیع کی ایک مختصر دورانیے کی وڈیوز سوچ دیکھنے کا موقع ملا کہ جس میں انھوں نے ذہنی تناؤ اور مسائل سے دوچار شخص کی ذہنی حالت کو بڑے اچھے انداز سے اجاگر کیا اس طرح کی وڈیوز کو سراہا جانا ضروری ہے فلاحی کام اور ادارے تو بہت سے لوگ کر رہے ہیں تاہم ذہنی صحت کے حوالے اس طرح میڈیا کے ذریعے شعور و آگہی کو فروغ دینا شجاع سمیع کی بہت اچھی کاوش ہے کیونکہ میڈیا کے اثرات دوررس ہوا کرتے ہیں اسی طرح ان ہی کی ایک مختصر دورانئے کی فلم“ خوشیاں ”بھی ہے جس میں ایک عام انسان کس طرح روزمرہ کے مسائل کو حل کرتے کرتے ذہنی صحت کے مسائل سے دوچار ہو جاتا ہے ہماری روزمرہ کی زندگی کے اعصابی تناؤ کے ماحول میں اپنے اور اپنے خاندان کی ضروریات کے نہ ختم ہونے والے سلسلے میں ضروریات کے نہ پورا ہونے پر کس طرح ذہنی مسائل کا شکار ہوتے ہیں دکھایا گیا اور پھر جو معاشرتی رویوں کے حسن کو کس طرح فروغ دیا جاسکتا ہے پر بنائی گئی ہے اس میں ذہنی
صحت کے حوالے سے عام مسائل کو خاص انداز میں پیش کر کہ ان کی حل کی بات کی گئی ہے اس طرح کی انفرادی اور اجتماعی، ادارتی کاؤ شوں کو سراہنا ہمارا اخلاقی و قومی فریضہ بھی ہے اور ذمہ داری بھی کیونکہ ان کی کاوشوں کو کامیاب بنا کر ہی ہم اپنے معاشرے کو ایک صحت مند معاشرہ بنانے میں ایک اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

