چھ جولائی کا دن میری زندگی کا تلخ ترین دن ہے
چھ جلائی کی صبح تین بجے فون کی گھنٹی نے مجھے ہلا کر رکھ دیا تھا۔ جب میں نے فون اٹھایا تو میری بہن کی روتی ہوئی آواز آج تک میرے کانوں میں گونجتی ہے کہ باجی ابو فوت ہو گئے ہیں۔ میرے ابو کوئی بوڑھے نہیں تھے نہ سخت بیمار تھے۔ چلتے پھرتے مری روزے گزارنے گئے تھے اور گھر واپسی پر ہارٹ اٹیک ہو گیا اور ہمیں چھوڑ کر چلے گئے۔ ایک ایک لمحہ ایک ایک پل ان کے بغیر کیسے گزرتا ہے یہ بیان کرنا بہت مشکل ہے۔
میرے ابو ایک چھوٹے شہر کے بڑے آدمی تھے۔ وہ ایک عظیم خوددار جاگیر دار اور بہادر انسان تو تھے ہی مگر اولاد کے لئے وہ عظیم ہستی تھے جنھوں نے خود کو مٹا کر اولاد کو پالا پڑھایا لکھایا تربیت کی شادیاں کیں اور ہمیں زندگی گزارنے کے لئے ڈائریکشن دی۔ وہ جب آفس سے گھر آتے تو مجھے پاس بٹھا لیتے مجھ سے سیاست پر برادری پر دنیا داری پر حیا پر خرچ کرنے پر دنیا کے ہر موضع پر بات کرتے رہتے کبھی کبھی رات بہت ہو جاتی اور گرمیوں میں چھت پر ان کے پاس بیٹھے بیٹھے مجھے نیند اجاتی تو کہتے چائے کے لئے دل تھا مگر شاید آپ کو نیند ارہی ہے۔
میں کچن میں جاتی تو کہتے بیٹا دو کپ لے آنا چائے کے بعد نیند غائب ہو جاتی اس وقت جمعہ کو چھٹی ہوتی تھی آفس میں اور سکول کالج میں۔ ساری رات گزر جاتی ان کی مجھ سے باتیں کرتے ہوئے۔ روزے ہوتے تو افطاری کے لئے اتنا سارا سامان لاتے اور کہتے جاؤ پڑوس میں بھی دے کر آؤ ڈھونڈ ڈھونڈ کر کچوریاں سموسے نجانے کیا کیا لاتے ہوتے۔ وہ زندگی ایک جنت تھی جو میرے ابو نے ہمیں دی تھی دنیا میں سب باپ اچھے ہوتے ہیں بیٹی کی سب سے مضبوط چھت ہوتے ہیں۔
میرے ابو جیسے باپ بہت کم ہوتے ہیں جب میں اپنی دوستوں کے کزنز کے یا رشتے داروں کے باپ دیکھتی ہوں تو اندازہ ہوتا ہے کہ میرے ابو کچھ زیادہ ہی اچھے تھے۔ سخت بھی بہت تھے اصول پرست اتنے تھے کہ اپنے اصولوں پر کبھی سمجھوتا نہیں کرتے تھے۔ نہ کبھی جھکتے تھے۔ ہمیشہ سکھاتے تھے کبھی جھکنا اور جھکنا (ہمدردی حاصل کرنا ) نہیں زندگی میں اور نہ کبھی کسی کو کاپی کرنا آپ جو ہو جیسے ہو جس حال میں ہو خود ہونا چاہیے نقل کو تصدیق کی ضرورت پڑتی ہے۔
اصل ہمیشہ اصل ہوتا ہے۔ میرے دادا ابو سادہ سے ایک شریف آدمی تھے اکثر ان سے میں پوچھتی کہ ابو جی سب سے مختلف سب سے الگ کیوں ہیں آپ لوگوں نے کیسے تربیت کی ہے جب آفس میں ہوں تو ماڈرن پڑھے لکھے ہوتے ہیں۔ جب گاؤں جائیں تو اردگرد گرد کئی لوگ حقہ پانی چارپائیاں بندوق تو بالکل گاؤں کے لگتے ہیں۔ الیکشن ہوں تو سیاسی لگتے ہیں بلکہ اس دور میں اپنے سے زیادہ طاقتور جاگیردار کے مقابلے میں الیکشن بھی لڑے تھے وہ بھی اس وقت جب مالی حالات کمزور تھے۔
بزنس مین بھی تھے اپنی فیکٹری لگائی۔ تو دادا ابو کہتے تھے میں نے ہمیشہ ان کو اچھے دلیر اور ایماندار لوگوں کی محفل میں بٹھایا تھا اور آزادی دی تھی کبھی روک ٹوک نہیں کی تھی تعلیم دلوائی اور حلال کھانا سکھایا سخاوت اتنی مجھ میں نہیں تھی جو انھوں نے باہر سے سیکھی کہتے تھے ایک بار زمین کا کچھ پیسا اکٹھا ملا جس سے دو شادیاں یا گھر بن سکتا تھا
ان کا ایک دوست تھا وہ کسی کیس میں آ گیا اس کے چھوٹے بچے بیوی اور بوڑھا باپ تھا۔ یہ پیسا اس کے باپ کو دے آئے میرے منع کرنے کے باوجود بھی وہ پیسا کیس پر لگاتے رہے مگر اس کو سزا ہو گئی۔ جب ان کے گھر گئے تو اس کا باپ زمین کے کاغذات لے آیا کہ بیٹا تیرا قرضہ ہے اور ہم ادا نہیں کر سکتے تم زمین اپنے نام کرا لو۔ کھانا لگا ہوا تھا آپ کے ابو نے کہا انکل آپ بیٹھیں میں ہاتھ دھو کر آتا ہوں۔ دوسرے دروازے سے نکل کر سیدھا گھر آ گئے اور ہمیں سختی سے منع کیا کہ وہ لوگ میرا پوچھیں یا کبھی آپ سے رابطہ کریں تو مت بتانا اور نہ مڑ کر خود ان کے گھر گئے۔ اپنے بچوں کو جب میں بتاتی ہوں تو وہ افسوس کرتے ہیں کہ آپ ان کو چھوڑ کر کیوں یورپ آئیں تھیں۔ ہم آج بھی کالج کے لئے پرسنل سٹیٹمنٹ لکھتے ہیں تو ان کی کوئی بات کوئی واقعہ لکھیں تو وہ سٹیٹمنٹ دوسروں سے مختلف ہوتی ہے۔ اللہ ان کو جنت میں اعلی مقام عطا فرمائے (آمین )


