بلوچستان قومی دھارے میں شامل ہو جائے گا؟

بلوچستان اس وقت تاریخی طور پہ اپنی سماجی ساخت، سیاسی، اقتصادی، ثقافتی اور موروثی عوامل میں فطری توازن لانے کی طرف گام فرسائی کرتا دکھائی دیتا ہے اور وہاں کے لوگ اب علاقائی تعصبات کی تنگنائیوں سے نکل کر مرکزی دھارے کے سیاسی کشمکش کا حصہ بننے کو بیقرار ہیں۔ چنانچہ پیپلز پارٹی اور جے یو آئی کے علاوہ نواز لیگ کے لئے بھی یہاں سیاسی جگہ بنانے کے مواقع پیدا ہو گئے۔ ماضی قریب میں بلوچستان کی سیاست پہ جے یو آئی کے علاوہ پختون خوا میپ اور بلوچ قوم پرستوں کا غلبہ رہا لیکن مرور ایام کے ساتھ لوگ قوم پرستی کی تنگ دامنی سے اکتا کر مرکز کی طرف دیکھنے لگے۔
اس وقت وہاں بلوچ اور پشتون قوم پرست جماعتیں تعصبات کی فرسودگی کے باعث داخلی تضادات میں الجھ کر مفقود ہوتی نظر آتی ہیں، خاص کر عثمان کاکڑ کی ناگہانی موت پختون خوا ملی عوامی پارٹی میں گہری تفریق کا محرک بن گئی، بلاشبہ عثمان کاکڑ کی فطری ذکاوت، شعلہ بیانی اور بلوچستان کے لوگوں کے لئے فلاحی خدمات ان کے جواں سال بیٹے خوشحال کاکڑ کے لئے غیرمعمولی پذیرائی کا وسیلہ بن گئیں اور اسی مقبولیت کی بل بوتے خوشحال خان نے پارٹی قیادت پہ مسلط اچکزئی خاندان کو ہدف تنقید بنا کر پارٹی کے ناراض عناصر کو اپنے اردگرد اکٹھا کر لیا۔
عثمان کاکڑ معاشی طور آسودہ اور فراخ دل انسان تھے، وہ زندگی بھر بلوچستانیوں کی بلا تفریق مدد کرتے رہے خاص کر ان بلوچ و پشتون طلبہ کے تعلیمی فیس اور ہاسٹلز کے اخراجات سمیت تمام ضروریات پوری کرنے کے لئے ہمہ وقت تیار رہے جن کے پاس اعلی تعلیم کے لئے وسائل نہیں تھے، اس لئے جب ان کے جسد خاکی کو کراچی سے کوئٹہ لایا جا رہا تھا تو بلوچ علاقوں سے لوگ دیوانہ وار میت کے استقبال کو نکل آئے۔ عثمان کاکڑ کی فلاحی خدمات کی وجہ سے خوشحال کو پشتونوں کے علاوہ بلوچوں میں بھی پذیرائی ملی، چنانچہ متوقع عام انتخابات میں انہیں کوئٹہ کے علاوہ مستونگ، خضدار اور قلات کے بلوچوں کی سیاسی حمایت مل سکتی ہے لیکن خوشحال کاکڑ نے فی الحال ان چودہ پشتون ضلعوں کو توجہ کا مرکز بنا لیا، جن میں سے گیارہ اضلاع میں کاکڑ قوم کی اکثریت ہے، وہ پختون خوا میپ پہ محمود اچکزئی کے دائمی تسلط کو چیلنج اور ان کی سیاسی پالیسیوں کو پارٹی کے زوال کی وجہ قرار دے کر انہیں پیچھے ہٹنے پہ مجبور کرنا چاہتے ہیں، جس سے پختون خوا میپ کی تقسیم کا امکان بڑھ گیا۔
بلوچستان میں جے یو آئی بھی موثر سیاسی قوت ہے، بلوچوں کے اٹھارہ میں سے صرف دو، خضدار اور قلات، ڈسٹرکٹ میں مولانا غفور حیدری کے اثرات کے سوا جمعیت کا وجود ہمیشہ ناپید رہا مگر پشتون علاقوں میں بھی اب مقامی قیادت کی سہل انگاری بجائے خود جماعت کے اثرات کو محدود کرنے سبب بن رہی ہے، بلوچستان کے صوبائی امیر مولانا عبد الواسع، جو وفاقی وزیر بھی ہیں، کا اسلام آباد میں مستقل قیام اور کارکنوں سے لاتعلقی، جماعت کے اندر پائے جانے والے اختلافات کو زیادہ گہرا کر رہی ہے، مولانا فضل الرحمن نے اگر پارٹی کے داخلی تنازعات پہ بروقت قابو نہ پایا تو عام انتخابات میں انہیں اچھے نتائج نہیں ملیں گے۔
بلوچ ایریا میں اختر مینگل کی جماعت کے علاوہ بی این پی بزنجو گروپ کا اثر و رسوخ قائم ہے خاص کر عبدالمالک بلوچ کے ڈھائی سالہ دور حکمرانی میں گورننس میں بہتری اور کرپشن پہ قابو پانے کی مساعی انہیں عام لوگوں کا پسندیدہ سیاستدان بنا گئی۔ تاہم مجموعی طور پہ بلوچستان کے عوام خاص کر پشتون ایریا کے لوگ قوم پرستی کی فرسودگی سے نجات پانے کی خاطر مرکزی دھارے کی جماعتوں کی طرف دیکھ رہے ہیں، اس لئے ملک گیر سیاسی جماعتوں کے لئے یہاں قدم جمانے کا امکانات بڑھ گئے، بلوچ علاقوں میں پیپلز پارٹی اور پشتون ایریا میں نواز لیگ ایڈوانٹیج لے سکتی ہیں۔
کئی ناقابل بیان عوامل کے علاوہ بلوچستان سے قومی جماعتوں کے اغماض کی بڑی وجہ وہاں قومی اسمبلی کی کم نشستیں تھیں۔ 342 کے ایوان میں قومی اسمبلی کی صرف اٹھارہ نشستوں کے لئے کوئی جماعت یہاں سر کھپانے کی زحمت گوارا نہیں کرتی، پچھلے الیکشن میں نواز لیگ اور پیپلز پارٹی کو تو بلوچستان میں داخل ہونے کی اجازت نہ ملی لیکن عمران خان نے بھی فقط آدھے دن میں بلوچستان کی انتخابی مہم نمٹا دی، وہ ڈیرہ غازی خان میں جلسہ کے بعد ہیلی کاپٹر کے ذریعے لورالائی گئے، جہاں عوامی اجتماع سے خطاب اور ری فیولنگ کے بعد وہ نصیرآباد اور پھر کوئٹہ میں ری فیلنگ اور علامتی جلسوں میں تقریروں کے بعد اسی دن اسلام آباد واپس لوٹ آئے۔
سماجی، معاشی و سیاسی اصلاحات کے ذریعے بلوچستان کو قومی دھارے میں لانے کے لئے سینٹ کی لاء اینڈ جسٹس کمیٹی نے وہاں قومی اسمبلی کی 38 اور صوبائی اسمبلی کی نشستیں 88 تک بڑھانے کی جو سفارشات مرتب کی تھیں وہ آج بھی قابل عمل ہیں۔ بدقسمتی سے اس وقت لاء اینڈ جسٹس کمیٹی کے چیئرمین مصطفے نواز کھوکھر نے آصف علی زرادی کی ایما پہ بلوچستان میں قومی اسمبلی کی نشستیں بڑھانے کی مخالفت کر کے معاملہ کھٹائی میں ڈال دیا۔
تاہم اب تازہ مردم شماری میں بلوچستان کی آبادی میں کچھ اضافہ کے باعث قومی و صوبائی اسمبلی کی نشستوں میں اضافہ کی امید پیدا ہو گئی۔ وفاقی وزیر احسن اقبال کی یہ بات توجہ طلب ہے کہ آبادی کے لحاظ سے وسائل کی تقسیم کا اصول بلوچستان جیسے پس ماندہ علاقوں کو قومی دھارے میں لانے کی راہ میں حائل رہے گا، اگر وسائل کی تقسیم کسی بھی علاقہ کی حقیقی ضروریات کے مطابق کی جائے تو بلوچستان سب سے زیادہ وسائل کا مستحق ہے۔
بہرحال، بلوچستان میں اصلاحات سے قبل وہاں کے سیاسی نظام میں اسٹبلشمنٹ کی مداخلت روکنا از حد ضروری ہے تاکہ بلوچستان کا ووٹر آزادانہ رائے سے قیادت کا انتخاب کرنے کے علاوہ سیاسی عوامل کو فطری خطوط پہ استوار کیا جا سکے۔ بلوچستان میں باپ پارٹی کی تخلیق کا تجربہ مہلک ثابت ہوا جس نے اہلیت کی بجائے دولت کو حصول اقتدار کا آلہ بنا کر جمہوریت کو صدمہ پہنچایا، سسٹم کی انہی خرابیوں کا نتیجہ تھا کہ تعمیراتی کمپنی کا مالک مٹھا خان ٹھیکیدار جیسا ناخواندہ دولت مند ڈاکٹر نواز خان جیسے عبقری کو شکست دے کر سینٹر بن گیا، بن کمائی دولت کی کرشمہ سازی کے باعث جے یو آئی کے مولوی سرور ندیم جیسے انتھک اور مخلص سیاسی کارکن کو ٹیکنیکل بنیادوں پہ نا اہل کر کے ایسے حریص دولت مندوں کو آگے لایا گیا جن کا سیاسی وظائف سے دور کا واسطہ بھی نہ تھا۔
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بلوچستان میں فوج کی موجودگی وہاں اعلی تعلیمی اداروں اور اچھے ہسپتالوں کے علاوہ غریب لوگوں کو مفت تعلیم کے مواقع مہیا کرنے کا وسیلہ بنی لیکن ترقیاتی کاموں اور سیاسی عمل میں مقتدرہ کی تلویث نے کئی لاینحل مسائل بھی پیدا کیے ۔ اب نئے آرمی چیف کے ویژن کے مطابق سیاسی عمل میں مداخلت روکنے کی وجہ سے سماجی اور سیاسی عوامل میں صحت مند تغیرات کی امید پیدا ہو چلی ہے۔

