
کراچی کے ریگل چوک کے فٹ پاتھ پر ادھیڑ عمر کا ایک شخص اور ایک عورت، دو معصوم کم عمر بچوں کو ٹوکریوں میں بٹھائے اپنے آگے رکھے بیٹھے تھے اور آوازیں دے رہے تھے :
”بچے لے لو! بچے لے لو!“
خاتون کا چہرہ مرجھایا ہوا اور مایوس تھا، لیکن مرد اپنی مایوسی اور درد پر اپنی مصنوعی مسکراہٹ کا پردہ ڈالنے کی ناکام کوشش کر رہا تھا۔
لوگوں کے ہجوم میں سے ایک گاہک بولا: ”کتنے کے! ؟“
”دو دو ہزار۔“ آواز لگانے والا آدمی بولا۔
”نہیں! ایک ایک ہزار!“ گاہک بولا۔
”لے لو ایک ایک ہزار میں!“ بندے نے ہاتھ دراز کرتے ہوئے کہا۔
”نہیں نہیں۔ مجھے نہیں چاہئیں! میں نے بس ایسے ہی بولا۔ دام معلوم کرنے کے لیے!“
بچوں کی ماں دکھتے ہوئے لہجے میں گویا ہوئی:
”پیسے بھلے نہ دو! تم بچے ایسے ہی لے جاؤ! بس میرے بچوں کو پیٹ بھر کھانا کھلا دینا!“
یہ کہتے ہی ماں کی آنکھیں آبشار بن کر بہنے لگیں۔
مترجم: یاسر قاضی