شام ہوتے ہی تیرے ہجر کا دکھ
میں تمہارے سرہانے بیٹھا تمہیں بغور تک رہا تھا۔ تم سفید براق لباس زیب تن کیے ہوئے بڑے سکون سے سو رہی تھیں۔ تمہارے چہرے پر پھیلی ہوئی سرشاری اور طمانیت کی امتزاجی کیفیت نے اس میں ایک ایسا انو کھا نکھار پیدا کر دیا تھا۔ کہ تم زمینی مخلوق کی بجائے کسی اور ہی دنیا کی باسی معلوم ہو رہی تھیں۔ ایک متبرک اور مقدس آسمانی نور کے غیر مرئی ہالے نے تمہارے پورے وجود کو گھیر رکھا تھا۔ اور مجھے ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ آ کر میں تمہارے اور قریب ہوا تو حسن و تقدیس کا یہ ہالہ مجھے بھی تمہاری طرح منور کر دے گا۔
میں سوچ رہا تھا کہ اس سے پہلے کبھی بھی مجھے تمہاری اس مقدس اور متبرک خوبصورتی کا احساس کیوں نہیں ہوا۔ شاید کاروبار حیات کی مصروفیتوں، تلخیوں اور سختیوں نے کبھی اتنی فرصت ہی نہیں دی کہ تمہیں ان نظروں سے دیکھ سکوں۔ جن سے آج دیکھ رہا ہوں۔ چلو یہ بھی غنیمت ہے کہ آج فرصت مل گئی۔ سو آج ہی جی بھی کر دیکھتے ہیں۔ میں جس جگہ پر بیٹھا ہوا تھا۔ وہاں سے ابھی مجھے تمہارا نصف چہرہ ہی دکھائی دے رہا تھا۔ کیوں کہ تم نے اپنا منہ دوسری طرف موڑ رکھا تھا۔
ایک بار تو جی میں آیا کہ یہاں سے اٹھ کر تمہارے عین سامنے جا بیٹھوں۔ اور تمہارے پورے وجود کو پورے چہرے سمیت اپنی آنکھوں کے پردے پر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے نقش کر لوں۔ لیکن عورتوں کی بڑی تعداد نے تمہاری چارپائی کو چاروں طرف سے گھیر رکھا تھا۔ کچھ اس وجہ سے اور کچھ اپنی فطری جھجک کی بدولت میں اپنی اس معصوم سی خواہش کو عملی جامہ نہ پہنا سکا۔ میں انہی سو چوں میں غرق تھا۔ کہ اچانک میرے ذہن میں روشنی کا ایک جھما کا سا ہوا۔
اور میں پل بھر میں ہی میں تصورات کے لطیف اور خوبصورت بادلوں سے گر کر حقائق کی سخت، بھدی اور سنگلاخ چٹانوں کے ساتھ سر کے بل آ ٹکرایا۔ مجھے اس تلخ حقیقت کا احساس ہوا۔ کہ میری نظروں کے سامنے پڑا ہوا تمہارا یہ حسین و جمیل وجود خاکی تو اپنی روح سے عاری ہے۔ تم تو اسے چھوڑ کر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اپنے سوہنے رب کے پاس پہنچ چکی ہو۔ تم جب بھی اللہ کا نام لیتی تو اس کے ساتھ سوہنا کا لفظ اس صدق، عقیدت اور یقین کے ساتھ بولتیں کہ یوں محسوس ہوتا کہ تم اس ازلی و ابدی حسین و جمیل ذات با ری کو اگر اپنی ان خانی آنکھوں کی مدد سے دیکھ نہیں رہی ہو۔
تو کم از کم اس کے حسن و جمال کا تصور تمہارے ذہن کے پردے پر نقش ضرور ہے۔ اور مجھے یقین کامل ہے کہ تمہارے ساتھ تمہارے سوہنے رب کا حسن سلوک بھی تمہاری تصوراتی حسین و جمیل ذات باری سے کہیں بڑھ کر اس کی شان رحیمی اور کریمی کا غماز ہو گا۔ میرے لیے یہ ایک تکلیف دہ احساس تھا کہ تم مجھے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے چھوڑ کر اپنے سفر آخرت پر روانہ ہو چکی ہو۔ شاید لفظ تکلیف دہ میرے جذبات کی عکاسی کرنے سے عاری ہے۔ یہ ایک ایسی کیفیت ہے جس کو صرف میں ہی جان سکتا ہوں۔
اس کو بیان نہیں کر سکتا۔ گزرے ہوئے وقت کے سمندر میں تمہاری یادوں کی لہریں اٹھ رہی تھیں۔ آج سے سینتیس سال قبل ہمارے دونوں کے خاندانوں نے ہمیں نکاح کے مقدس بندھن میں باندھ کر ایک نئے خاندان کے سماجی ادارے کی بنیاد رکھی تھی۔ اور کائنات میں تخلیق کے مقدس عمل کے اصولوں کی پیروی کرنے کے انعام میں قدرت نے ہمیں پانچ عدد خوبصورت نعمتوں اور رحمتوں سے نوازا تھا۔ اور فطرت کے اصولوں کے عین مطابق ہم دونوں نے مل جل کر ان کی پرورش کی۔
ویسے مل جل کر پرورش کرنے والی بات درست نہیں ہے۔ کیوں کہ پرورش کے عمل میں میرا حصہ صرف اسی قدر تھا جس قدر بچوں کی پیدائش کے عمل میں تھا۔ گویا کہ پانچ بچوں کی پیدائش اور پرورش کے عوامل کا زیادہ تر بوجھ تمہارے نازک کندھوں پر ڈال کر میں بآسانی اپنے فرائض سے عہدہ بر آ ہو گیا تھا۔ اس قدر مشقت اور تکلیف کے باوجود ان دونوں مراحل کے دوران کبھی تمہاری زبان پر حرف شکایت نہ آیا۔ میں حیران ہوں کہ بچوں کے ساتھ ساتھ تم میرا خیال بچوں سے بھی بڑھ کر کیا کرتی تھیں۔
میری ذات سے وابستہ اکثر کاموں کو تم نے ہنسی خوشی اپنے ذمہ لے لیا تھا۔ ریزر کی مدد سے میرے بالوں کی قلموں کو ٹھیک کرتے ہوئے تم اکثر کہا کرتیں کہ انجم تم جب بھی شیو کرتے ہو تو ایک قلم بڑی اور ایک چھوٹی کر دیتے ہو اسی طرح قینچی کی مدد سے میری مونچھوں کو بھی برابر کیا کرتیں ہفتے میں ایک بار صابن ملے نیم گرم پانی میں میرے پاؤں ڈبوا کر جھاویں کی مدد سے رگڑ رگڑ کر انہیں صاف کرتیں۔ تولیے کی مدد سے خشک کرتیں اور کہتیں یہ کون سا مشکل کام ہے۔ نہاتے وقت انہیں خود صاف کر لیا کرو۔ میں نے کون سا کپڑا پہننا ہے۔ حتیٰ کہ جرابیں، جوتے، بنیان، رومال اور عینک تک ہر چھوٹی سے چھوٹی چیز کو تم نے از خود ہی اپنی ذمہ داری میں شامل کر لیا تھا۔ بعض اوقات میں کپڑے پہن رہا ہوتا۔ تم میرے سر میں کنگھی کر دیتیں۔ میں سکول سے واپس آ کر جوتوں سمیت بیڈ پر لیٹ جاتا تو تم میرے بوٹ اور جرابیں اتار دیتیں۔ میں ہر مہنیے کی پہلی تاریخ کو اپنی تنخواہ تمہارے ہاتھ میں دے کر خود بے فکر ہو جاتا۔
تم اسی سے سارے گھر کے اخراجات چلاتیں۔ میری کم مائیگی کے بارے میں کبھی حرف شکایت تمہاری زبان سے نہیں سنا۔ میرے جھونپڑے نما چھوٹے سے گھر میں محدود آمدنی کے ساتھ ایک ملکہ کی سی طمانیت اور سرشاری سے خوشی خوشی میری ذمہ داریاں بھی اپنے کندھوں پر لیے پھرتیں۔ تمہیں یاد ہے کہ جب ہاؤس بلڈنگ فنانس والوں کی طرف سے عدم ادائیگی واجبات کا نوٹس وصول ہوا تھا۔ اور تم نے میرے انکار کے باوجود اپنے ہاتھوں میں پہنے ہوئے سونے کے کڑے اتار کر یہ کہہ کر مجھے دے دیے تھے کہ انہیں بیچ کر اپنی جان چھڑاؤ اور ساتھ ہی یہ فلمی ڈائیلاگ بھی مارا تھا کہ انجم تم میرے سب سے خوبصورت زیور ہو۔
تمہاری موجودگی اور تمہارے ساتھ میں مجھے کسی قسم کے زیور کی ضرورت نہیں۔ اور میں نے اسے من و عن تسلیم کر کے تمہاری خواہش پوری کر دی تھی۔ تم نے مجھے اپنا اس قدر عادی کر لیا تھا کہ اگر کبھی کبھار ایک دو دنوں کے لیے تیرے بغیر رہنا پڑتا تو میری جان مصیبت میں آجاتی۔ تمہیں معلوم ہے کہ آج چھٹا دن ہے جو میں تیرے بغیر گزار رہا ہوں اور یہ چھ دن میں نے کیسے گزارے ہیں۔ یہ میں ہی جانتا ہوں۔ ویسے تمہیں ایسا کرنا نہیں چاہیے تھا۔
یا تو مجھے اس قدر اپنی عادت نہ ڈالتیں اور یا پھر راستے میں یوں چھوڑ کر نہ جاتیں۔ لیکن تمہارا بھی کوئی قصور نہیں۔ قضا و قدر میں کس کی مرضی چلتی ہے۔ یہ تو اس سوہنے رب کے فیصلے ہیں۔ کس کی مجال ہے کہ دم مارے!
شام ہوتے ہی تیرے ہجر کا دکھ
دل میں خیمہ لگا کے بیٹھ گیا


