دو درخت، ایک بلی اور آدھا چاند


ذہنی طور پر خود کو ہلکا کرنے کے لیے وہ رات کے کھانے کے بعد اکیلی گھر سے باہر نکل آئی۔ رات کا دس بج رہا تھا لیکن اندر کا اکیلا پن ذہن کو اس قدر بوجھل کر رہا تھا کہ اس نے خود ہی باہر جانے کا سوچا اب گھر کے پاس بنے چبوترے پر بیٹھی ٹھنڈی ہوا، خاموشی اور ماحول کی خوبصورتی کو اپنے اندر جذب کر رہی تھی۔ جب سے جوڑوں کا درد ہوا تھا وہ بہت کم کہیں نکلتی، چلنا پھرنا تو تقریباً موقوف ہی ہو چکا تھا ایک اسٹیپ بھی مشکل سے اترا جاتا لیکن اپنی ہمت مجتمع کر کے وہ باہر آ گئی تھی، اور اب گھر کے باہر بیٹھی آسمان پر بادل اور آدھے چاند کو دیکھ رہی تھی۔ بے چارہ چاند بھی بجلی کے کھمبے سے لگے انٹرنیٹ کے تاروں کے جال میں جکڑا عجیب منظر پیش کر رہا تھا جیسے قید میں ہو، پتہ نہیں اس کے آس پاس ستارے تھے بھی یا نہیں لیکن آوارہ بادل آتے جاتے اس آدھے چاند کے ادھورے پن کو چھپا لیتے، کبھی خود چاند بادل کی اوٹ سے جھانک کر ان انٹرنیٹ کے تاروں کو گھورنے لگتا۔

وہ اس آدھے چاند کی طرح ہی اپنے آپ کو جکڑا محسوس کر رہی تھی لیکن اس کی ذات اتنی اہم نا تھی جتنے اہم یہ تار تھے، یہی تار تو تھے جو ہر گھر می انٹر نیٹ پہنچانے کا ذریعہ تھے بلکہ اب تو ہر کام نیٹ پر ہی ہو رہا تھا۔ چھوٹے بڑے سب موبائل ہاتھ میں لیے اپنے اپنے کام میں لگے ہوتے ویڈیوز کے مزے لیتے، ارد گرد سے بے خبر، خیر مجھے کیا۔

جب سے وہ چبوترے پر بیٹھی تھی ایک کالی سفید بلی وہیں سامنے دھرنا دے کر بیٹھ گئی تھی جیسے کہہ رہی ہو آپا جی فکر نا کرو تم اکیلی نہیں میں بھی بے زار بیٹھی ہوں بس کبھی کبھار اپنا بھولا سا منھ اٹھا کر اسے تکنے لگتی اس نے بھی بلی کو بھگانے کی کوشش نہیں کی اس سناٹے میں اس بلی کا دم غنیمت تھا ساتھ دینے کو ورنہ کبھی کوئی بائیک ہی خاموشی کو توڑ دیتی تھی۔

وہ دس سال سے اس علاقے میں تھی، کیا رونق والی گلی تھی روزانہ سبزی والے کی آواز پہ ہر گھر سے خواتین نکل آتیں، سلام دعا خیر خیریت اور آج کیا پکائیں سے لے کر سیاست پر بھی بات ہوجاتی۔ سامنے والے سمیع کی امی ساڑھی میں، ان کے برابر والی حنا کی دادی ٹوکری لیے، اوپر والی آمنہ باجی آواز لگاتیں سبزی والے رکنا جانا نہیں، اسی بہانے محلے بھر کی خیریت پتہ چل جاتی، پھر محلہ سونا ہو گیا، لڑکے پڑھ لکھ کر باہر چلے گئے، بچیوں کی شادیاں ہو گئیں۔

سمیع کی امی کا کینسر میں انتقال ہو گیا، آمنہ باجی عمرے پہ گئیں اور مدینے کی مٹی میں جگہ پائی کیا سعادت نصیب ہوئی سبحان اللہ، تھیں بھی بہت اللہ والی ہر سال میلاد کرتیں تھیں۔ حنا کے دادا دادی بھی نا رہے بس پڑوس میں ظاہر کی امی سے فون پر بات ہوجاتی ہے وہ بھی کبھی کبھار۔ میں بھی بہت ایکٹیو تھی بیٹی جامعہ میں پڑھتی تھی تو اسے رکشہ دلانے چوراہے تک پیدل چلی جاتی تھی اب تو گھر کے اندر چلنا پھرنا محال تھا، دس سال میں سب بدل گیا۔

افوہ کیا ہر وقت اپنا رونا شکر ہے تم زندہ ہو اس نے سر جھٹکا اور نظر سامنے دو درختوں پر ٹک گئی، دس سال پہلے چھوٹے چھوٹے پودے ذرا فاصلے سے لگائے تھے حنا کے دادا نے اپنی حیاتی میں گھر کے سامنے۔ وہ حیات تھے تو بہت خیال رکھتے تھے کٹائی چھٹائی کا پھر ان کے بعد سب نے بے لگام بڑھنے دیا اب وہ دونوں درخت تناور اور گھنے ہو گئے تھے بلکہ آپس میں اس قدر گڈمڈ ہو گئے تھے کہ لگتا ایک ہی درخت ہے جب تنے پر نظر پڑتی تو پتہ چلتا کہ دو درخت ہیں۔ آج وہ ان دو درختوں کو دیکھ کر ہی سوچ رہی تھی کہ انسان بھی تو ایسا ہی ہوتا ہے، کہیں کا لڑکا اور کہیں کی لڑکی اسی طرح ساتھ رہتے رہتے گڈ مڈ ہو جاتے ہیں بس دیکھنے والے کی آنکھ چاہیے کہ وہ ان کے تنے اور جڑیں دیکھ سکیں جو الگ الگ ہوتیں ہیں لیکن اپنے الگ ہونے کا اظہار نہیں کر سکتیں۔

کھٹ سے گیٹ کھلنے کی آواز آئی اور اس کے شوہر نے جھلا کر کہا ”کمال کرتی ہو یہاں کہاں بیٹھی ہو، آنے جانے والے کیا کہیں گے پاگل عورت۔ سونے کا وقت ہو رہا ہے“ ۔

سامنے سڑک پر ایک کتا کتیا کی بو سونگھتے ہوئے اس کے پیچھے جا رہا تھا۔

Facebook Comments HS