مقدس مصلوب مائیں


مئی کے مہینے میں دو اہم دن آتے ہیں یکم مئی یوم مزدور اور 14 مئی کو ماؤں کا عالمی دن منایا جاتا ہے اور یہ دن ماؤں کو خراج تحسین کے طور پر منایا جاتا ہے۔ دونوں دن اپنی جگہ اہم ہیں اور ایسے طبقات کو خراج تحسین ہیں جن کا زندگی اور معاشرے دونوں میں اہم کردار ہے لیکن اگر آپ پاکستان سے تعلق رکھتے ہیں اور تھوڑا حساس بھی ہیں تو ہمہ وقت ہونے والی تبدیلیوں سے بقول مشتاق احمد یوسفی تھرمامیٹر کے مرکری کی طرح ہولتے رہتے ہیں کہ سمجھ نہیں آتی کہ اس پر لکھیں جو اسکرین پر چل رہا ہے یا اس موضوع پر لکھیں جو دماغ کی اسکرین پر چل رہا ہے۔  کچھ موضوع لکھاری سے خود اپنے آپ کو لکھواتے ہیں۔ وہ اس وقت تک لکھاری کی جان نہیں چھوڑتے جب تک وہ ان کو لکھ نہیں لیتا۔ میرے لیے ماؤں کا عالمی دن اسی طرح کا مضمون ہے کہ حالات کچھ اور لکھوانا بھی چاہیں تب بھی اس مضمون کی حساسیت، اہمیت اور اس کے ساتھ کیا گیا سطحی سلوک لکھنے والے کو اس کی طرف متوجہ رکھتا ہے مادر وطن کے حالات بھی ہماری ماؤں جیسے ہیں ساون بھادوں کا موسم ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا۔

ماؤں کو اس دن پھول اور تحفے دیے جاتے ہیں ان تحفوں کو مزہ زیادہ اس وقت آتا ہے اگر اپنے کارڈ سے ان کی ادائیگی کی گئی نہ کہ اماں کے کارڈ سے۔ ماں سے پیار ہر تہذیب ہر زبان ہر لٹریچر میں پایا جاتا ہے۔ ماں کا رتبہ اس کی عزت اس کی اولاد کے لیے قربانیاں کہانیوں کی صورت میں ہر زبان میں موجود اور بجا ہے کہ نو مہینے اپنے جسم اور دماغ کے ہر پرزے کو ہلا دینے کے عمل کے بعد بچے کو پالنا اس کا خیال رکھنا صحت اور تعلیم ہر طرح سے ماں کی ذمہ داری بنتا ہے۔ یہ ایک مشکل لیکن انتہائی دلچسپ اور محبت سے بھرا عمل ہے۔ جس کو دنیا بھر کی خواتین سرانجام دیتی ہیں اور اس کی پیچیدگی کی وجہ سے ماؤں کے پیروں کے نیچے جنت بتائی جاتی ہے اور دیوی کے رتبے پر فائز کیا جاتا ہے۔ لیکن جیسے سکے کے دو رخ ہیں اس محبت اور رشتے کے بھی دو رخ ہیں۔

جب بھی خواتین کے حقوق کی بات آتی ہے پہلا جملہ جو سننے کو ملتا ہے وہ یہ ہوتا کہ عورتوں کی عزت کرنی چاہیے کیونکہ وہ مائیں ہوتی ہیں۔ بالکل درست ہوتا اگر ماں بننے کے عمل کی توقیر کی جاتی۔ ذرا جائیے اور سرکاری ہسپتالوں کے لیبر روم کا چکر لگائے آپ کو اپنے انسان ہونے سے نفرت ہو جائیے گی جس طرح سے خواتین انتہائی تکلیف میں ہوتی ہیں اور سہولیات نہ ہونے کے برابر ہوتی ہیں اور سونے پہ سہاگہ ہمارے ہاں ہر حاملہ خاتون کو یہ باور کرانے کی کوشش کی جا رہی ہوتی ہے کہ یہ کوئی بڑی بات نہیں اور اس کو ثابت کرنے کے لیے جو مثالیں دی جاتی ہیں وہ اپنی مثال آپ ہوتی ہیں کہ دیکھیں مزدور یا کسان خواتین کام کے دوران ڈلیوری کرتی ہیں وہیں ناف کاٹتی ہیں اور تھوڑی دیر بعد پھر کام پر ہوتی ہیں انہی مثال دینے والوں کا اپنا اپینڈکس کا بھی آپریشن ہو تو مہینہ چارپائی سے نہیں اٹھتے۔ ان رویوں کی وجہ سے پاکستان میں دوران زچگی خواتین کی اموات شرح ایشیا میں سب سے زیادہ ہے اور یہ تکلیف اس وقت زیادہ بڑھ جاتی ہے کہ ان خواتین کے نام پر سب سے زیادہ فنڈ کھایا گیا ہے۔

پاکستان دوران زچگی خواتین کی اموات میں دنیا میں پانچویں نمبر پر ہے۔ یہ اموات ان اموات سے الگ ہیں جن کا خواتین کو بار بار حمل اور زچگی، حمل کا ضائع ہو جانا، خوراک کی کمی اور صحت کی سہولیات کی عدم دستیابی کی وجہ سے سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ صرف ایک چھوٹی سی جھلک ہے ان جسمانی مسائل اور بیماریوں کی طرف جن کا سامنا خواتین کو کرنا پڑتا ہے۔ ماں کا عہدہ حاصل کرنے کے لیے لیکن ان کے ساتھ ایک لمبی فہرست ان ذہنی مسائل کی ہے جس کی معاشرہ یکسر نفی کر دیتا ہے۔ ایک جملہ حاملہ خواتین کو اکثر اپنے اردگرد موجود خواتین اور ڈاکٹروں سے اگر دستیاب ہو، بہت کثرت سے سننا پڑتا ہے اور وہ ہے ”آپ ماں بنے والی ہیں خوش رہیں تاکہ بچے کی صحت پر برا اثر نہ پڑے“ ، جیسے خوش رہنے کا بٹن ہے، دبا دیا، خوشی کی مشین چل پڑی۔ اب ہر طرف خوشی کی کاٹن کینڈی بکھری ہوئی ہے۔

جب کوئی بھی عورت ماں بنتی ہے تو اس کے جسم میں ہارمون کی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں اور اس کا اثر دماغ پر آتا ہے اور اس کی وجہ سے حاملہ خاتون کے رویے میں تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں۔ کچھ خواتین میں یہ ڈپریشن کا باعث بن جاتی ہیں اور یہ جب جسمانی تبدیلیوں کے ساتھ اکٹھا ہوتی ہیں تو یہ حاملہ خواتین کے لیے بہت زیادہ مشکلات کا باعث بنتی ہیں۔ یہ ہر ایک کے لیے اسی طرح مختلف ہوتا ہے جیسے دیگر تکالیف کی علامات ہر شخص میں مختلف ہوتی ہیں۔

اس میں جب اردگرد کے لوگ ہر وقت حاملہ خواتین کو یہ بتاتے رہتے ہیں کہ یہ تکالیف کچھ نہیں ہیں اور ان کو شکر کرنا چاہیے کہ وہ ماں بنے کے منصب پر فائز ہونے جا رہی ہیں۔ اس لیے وہ خوش رہیں۔ یہ مزید ڈپریشن کا باعث بنتا ہے۔ اس لیے ان کی تکالیف کو جھٹلانے کی بجائے ان کا احساس کرنا ان کو پر سکون ماحول کی فراہمی اور طبی سہولیات کی موجودگی اس کیفیت کو پر سکون کرنے میں مددگار ہوتے ہیں اور خالی لفاظی اور ہر سال بچوں کی لائن لگانے سے خاتون کو کوئی خوشی حاصل نہیں ہوتی۔ اس کو زیادہ نفسیاتی بحران کی صورت میں پری پارٹم ڈپریشن کا نام دیا جاتا ہے اور عموماً خواتین کو بچے کی پیدائش کے بعد بھی اس قسم کے جذباتی کیفیات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ نارمل صورت حال میں یہ پیدائش کے بعد سے لے کر دو ہفتے تک کا ٹائم ہوتا ہے۔ جس کی وجہ ڈلیوری کے بعد ہارمون کی تبدیلی بنتی ہے لیکن اصل جذباتی بحران کا سامنا ان خواتین کو کرنا پڑتا ہے جو پوسٹ پارٹم ڈپریشن میں چلی جاتی ہیں اور یقین مانیے کوئی ماں بھی خوشی سے اس ذہنی صورتحال میں نہیں جانا چاہتی کہ وہ نہ ہی اپنا اور نہ ہی اپنے بچے کا خیال رکھ سکے۔ لیکن یہ ایک ایسی ذہنی کیفیت ہوتی ہے کہ ماؤں کو عام معمولات زندگی جاری رکھنا مشکل ہو جاتے ہیں۔

اپنے شدید ڈپریشن کے باعث جب مائیں اپنے بچوں سے پیار کا رشتہ استوار نہیں کر پاتیں اور ان کے لیے بچے کا خیال رکھنا مشکل ہو جاتا ہے تو ایسے لمحوں میں اسپورٹ سسٹم نہیں ہوتا۔ خاص کر مڈل کلاس اور غریب طبقے میں پیسوں کی قلت اور کہیں بچوں کی بہتات اس میں اضافے کا باعث بنتے ہیں۔ اس صورتحال میں ماؤں کو کثرت سے ان جملوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے کہ ”شکر کرو تمہاری پاس اولاد کی دولت ہے“ یا یہ کہ ناشکری ہو اور پھر تعویزوں اور پیروں کا سلسلہ ہے۔

یہ صورتحال ابتر ہو جاتی ہے۔ خاتون پر نوزائیدہ بچے کے علاوہ بھی ذمہ داریوں کا بوجھ ہوتا ہے اور اگر ان کو اس ڈپریشن کا سامنا نہ بھی ہو تب بھی ماؤں سے جس قسم کی دیومالائی توقعات رکھی جاتی ہیں وہ ماؤں سے محبت نہیں، ان کی مشکلات میں اضافے کا باعث بنتی ہیں۔ سب مائیں اپنے بچوں سے بہت پیار کرتی ہیں لیکن وہ پہلے ایک انسان ہیں ان کو اپنے لیے وقت کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ ملٹی ٹاسکنگ کی اصطلاح جب سے نکلی ہے وہ سب سے زیادہ خواتین کی جڑوں میں بیٹھی ہے کہ چوبیس گھنٹے بغیر چھٹی کے کام کو اب ایک فینسی نام مل گیا۔ عورتوں کو ہر حال میں بہت سے کام بیک وقت کرنے پڑتے ہیں اور ضروری نہیں کہ سب اس ملٹی ٹاسکنگ کو انجام دے سکیں۔ اس صورتحال میں جو مائیں کسی کام کو سرانجام نہ دے سکیں یہ اپنی جسمانی یا ذہنی صحت کو ترجیح دیں ہماری نظر میں وہ بری عورتیں اور مائیں بن جاتی ہیں اور اچھی مائیں بنتے بنتے ان کی جسمانی اور ذہنی صحت کا کباڑا ہو جاتا ہے۔ جسمانی بیماریوں کو تو پھر بھی توجہ مل جاتی ہے لیکن ذہنی مسائل کے لیے ہم شروع ہی لفظ پاگل سے ہوتے ہیں اور خواتین کی ایک بڑی تعداد ذہنی بیماریوں کو ساری عمر چھپاتے گزارتی ہے۔

اس لیے عورت کی عزت کرنا کہ وہ ماں ہے انسان ہونے کی توہین ہے کہ وہ صرف اس لیے آپ کی عزت کی حقدار نہیں بلکہ بطور انسان اس کا عزت اور وقار پر اتنا ہی حق ہے جتنا کسی مرد کا چاہے وہ کسی کی ماں ہے یہ نہیں اور بطور ماں اس کی عزت اس لیے نہ کیجیے کہ وہ آپ کے لیے قربانیاں دے بلکہ اس کو انسان رہنے کا حق دیں اور اس سے قربانیوں کی توقع کی بجائے ماؤں کی ذہنی اور جسمانی بہتری کی طرف توجہ دیں۔

گھڑی نے صبح کے چھے بجا دیے
اٹھو
ناشتہ بناؤ بچوں کو اسکول چھوڑو
کام پر بھاگو
واپس آؤ
کھانے کا انتظام کرو
خیال رکھو کھانا صحت بخش اور لذیذ ہو
ورنہ اچھی اور بری ماں کی جنگ چھڑے گی
اور مائیں گلٹ کی ازلی مریض بنا دی جاتی ہیں
جلدی جلدی برتن دھو، کپڑے دھو استری کرو
بچوں کو ہوم ورک کراؤ، کل کے کھانے کا مینیو بناؤ سستا اور صحت بخش
”ارے تم تو ہر وقت فون دیکھتی رہتی ہو
تو یہ کام کیسے ہوتے ہیں، جواب ندارد
لیکن مائیں سیلف تھراپی کی ماہر ہوتی ہیں
خود ہی سو وضاحتیں گھڑتی ہیں، غصے میں ہو گا اس لیے کہا ہو گا
اچھی بیوی اور ماں بنے کے لیے ہر قربانی دیتی ہیں
ہر کام کرنے کی حامی بھر لیتی ہیں
ویسے بھی ملٹی ٹاسکنگ اوپر والے نے عورتوں کو
اپنی ورکشاپ میں سیکھا کر بھیجا ہے
اگر اس انکار کریں یا اس سے سٹریس کا شکار ہوں
تو اچھی عورت نہیں
اچھی ماں، بیوی، بہن، بہو نہیں
الارم بج رہا ہے
مائیں گھڑی کے اندر بھاگ رہی ہیں
ہر دن عموماً ً اور مدرز ڈے پر خصوصاً
انہیں بتایا جاتا ہے
کہ ان کے پاؤں کے نیچے جنت ہے
یہ حیرانی اور ہنسی دونوں کا مقام ہے
حیرانی اس لیے
کہ یہ کیسی جنت ہے کہ
وہ خود اس کے دودھ اور شہد سے محروم ہیں
اور ہنسی اس لیے کہ وہ تو اس کی حور بھی نہیں
وہ کسی کا خواب کسی کی فینٹسی نہیں
دکھتے ہوئے پاؤں بھاگتے ہوئے
حقیقت کو آشکار کرتے ہیں
وہ عیسی کی مانند مصلوب ہیں
اپنی صلیب کندھوں پر اٹھائے
گھڑی میں بھاگ رہی ہیں
ان کو بتایا جاتا ہے وہ مقدس ہیں
لیکن عیسی مرد تھے
وہ پیغمبر بن سکتے تھے
لیکن ماں عورت ہے
صدیوں سے خاموش مصلوب
مقدس لیکن ناپاک

مائیں انسان بھی ہیں۔ ان کو اپنے گناہ ثواب اور فینٹسی کی بھینٹ چڑھانے سے پہلے ان کو انسان ہونے کا مارجن دیں۔ ان سے قربانیوں کی توقع کرنے کی بجائے ان کی مدد کریں۔ ان کی زندگی آسان بنائیں۔

Facebook Comments HS