اردو کو اس کا حق کب ملے گا؟


اپنا کاروباری فریضہ نبھانے کے حوالے سے ہر ماہ دنیا کے کسی نہ کسی ملک جانے کا اتفاق ہوتا ہے۔ چونکہ میں جس کمپنی آسٹن مارکیٹنگ (Aston Marketing) کے لئے کام کرتا ہوں وہ انوسٹمنٹ کی بنیاد پر مختلف یورپئین اور کیریبئین ممالک وغیرہ کے قانونی پاسپورٹ اور شہریت بیچتی ہے تو میرا واسطہ دنیا کے تقریبا ہر ملک کے عام اور سرمایہ دار شہریوں سے پڑتا ہے جن میں سے اکثر ملنے والے میری پاکستانی (اور اندازاً ہندی) شکل و شباہت کو دیکھ کر مجھ سے ہندی (اردو) فلموں کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ ان میں سے بعض دفعہ کوئی ملنے والا ‘ہوا میں اڑتا جائے میرا لال دوپٹہ ململ کا’ جیسا کوئی ہندی گیت گنگنا دیتا ہے یا بلا تکلف امیتا بچن، شاہ رخ اور سلمان خان یا غالب، اقبال یا ٹیگور وغیرہ کے بارے میں پوچھ لیتا ہے۔
ہندوستان اور پاکستان میں اور  اس سے باہر بہت سارے ملکوں کی دانش گاہوں میں اردو زبان و ادب کی تدریس و تحقیق کے شعبے موجود ہیں، انڈیا کی فلمیں اور موسیقی دنیا بھر میں دیکھی اور پسند کی جاتی ہیں، تمام بڑے اور اہم ریڈیو اسٹیشن چوبیس گھنٹے میں کئی بار اردو خبریں، مباحثے اور کلچر پروگرام نشر کرتے ہیں۔ کلاسیکی، جدید ہندستانی اور مغربی دھنوں کے ساتھ اردو غزلیں اور گیت پورے جنوبی ایشیا میں رات دن گائے جاتے ہیں۔ اس زبان کی مٹھاس، لے اور ترنگ کو ساری دنیا سنتی ہے اور لطف اندوز ہوتی ہے۔ ان سب باتوں سے "سارے جہاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے” کے شاعرانہ دعوے کی تصدیق ہوتی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اب انگریزی، فرانسیسی اور عربی کے ساتھ اردو کا شمار دنیا کی سب سے زیادہ بولی جانے والی چند زبانوں میں ہوتا ہے۔
دنیا کی کوئی بھی اصل زبان بول چال کی زبان اور تحریری زبان ہوتی ہے۔ کسی زبان کو پوری طرح جاننے کا مطلب ہے کہ آپ اس کی ان دونوں شکلوں کو جانتے اور انہیں استعمال کر سکتے ہیں۔ اس لئے کسی زبان کو پوری طرح جاننے کے لئے اس کی تمام مہارتیں حاصل کرنا ضروری ہیں۔ زبان کی بنیادی مہارتیں چار ہوتی ہیں یعنی سن کر سمجھنا، بولنا، پڑھنا اور لکھنا، جبکہ ان چاروں مہارتوں پر اردو زبان مکمل طور پر پورا اترتی ہے۔
اردو زبان کا رسم الخط بھی اس کا اپنا منفرد رسم الخط ہے اور دنیا کے حسین ترین رسم الخطوں میں سے ایک ہے۔ یہ ایک طویل تاریخی عمل سے وجود میں آیا ہے۔ ہم اسے صدیوں سے اسی شکل میں برتتے اور قبول کرتے آئے ہیں اور اب بھی کرتے ہیں۔ ہمارا رسم الخط ہمارے تلفظ، ہماری شائستگی اور ہمارے لسانی، ادبی، علمی اور ثقافتی سرمائے کے تحفظ کی ضمانت ہے۔
اردو زبان میں کام آنے والی اصوات جتنی بھی ہیں اردو کے حروف اور اعراب و علامات ان تمام اصوات کو بخوبی انجام دیتے ہیں۔ اردو اس اعتبار سے ایک غیر معمولی ہندوستانی زبان ہے کہ اس میں مستعمل اصوات کی تعداد فرداً فرداً سنسکرت، عربی، فارسی، انگریزی اور اپنے علاوہ دوسری تمام ہندوستانی زبانوں سے کہیں زیادہ ہے۔ اور اصوات کی اسی افراط کی وجہ سے ہی اردو والے دنیا کی کسی بھی زبان کو نسبتاً جلد سیکھ لیتے ہیں اور اس زبان کا ان کا تلفظ بھی اہل زبان جیسا ہو جاتا ہے۔
اردو اتنی اہم اور وسعت پزیر زبان ہے کہ یہ دنیا کی ہر زبان کے الفاظ اور اصطلاحات کو اپنے اندر سمونے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔ اتنی عظیم زبان ہونے کے باوجود ہماری حکومت اس کو اس کا جائز حق کیوں نہیں دے رہی ہے اور اعلان قومی اور دفتری زبان قرار دیئے جانے کے باوجود ابھی تک ‘انگریزی’ ہی ہماری دفتری اور عدالتی زبان کیوں ہے؟
میں پاکستانی برٹش اور نسلا پختون ہوں اور میری مادری زبان ‘پشتو’ ہے لیکن میں نے آج تک احساس کمتری کا شکار ہو کر اردو پر انگریزی یا پشتو کو کبھی ترجیح نہیں دی۔ مجھے اردو سے دیوانگی کی حد تک عشق یے اور اسی وجہ سے میں نے سکول اور کالج میں اردو کو بطور ‘آپشنل سبجیکٹ’ چنا۔ میرا ہر پاکستانی سے سوال ہے کہ وہ اپنی ثقافت اور تہذیب کو زندہ رکھنے کے لئے اردو زبان کو اس کا حق دلانے کے لئے آواز کیوں نہیں اٹھاتے؟ اردو زبان کے تحفظ، فروغ اور اس کے حقوق کی بحالی کے بغیر ملکی اور قومی ترقی تقریبا ناممکن ہے۔ کنگا، جمنا کے کنارے جنم لینے والی اور لکھنو میں بولی جانے والی زبان (اردو) کو زندہ رکھنا ہی ہماری اصل تہذیب ہے۔
Facebook Comments HS