میں سیاست پر کیوں نہیں لکھتا؟
ایک دوست نے مجھ سے پوچھا کہ میں سیاست پر کیوں نہیں لکھتا ہوں اور زیادہ تر تحریریں معاشرتی مسائل پر کیوں ہوتی ہیں۔ اس کا جواب آپ سب کو بھی بتا دیتا ہوں۔ اگر معاشرے میں سدھار آجائے تو سیاست پر بھی مثبت اثرات ہوں گے۔ معاشرتی مسائل پر لکھنا معاشرے کی اصلاح کے لئے میری ایک ادنٰی سی کوشش ہوتی ہے، یقینی طور پر یہ کسی فرد واحد کے لیے ممکن نہیں لیکن اپنے حصے کی شمع ہر کسی کو جلانی ہو گی۔ قطرے قطرے سے شاید دریا نہ بنے، اب کچھ زیادہ کرنا ہو گا۔ پاکستان کو بنے ہوئے چھہتر سال ہونے والے ہیں اور جس قسم کی سیاست ہو رہی ہے اللہ اس کے برے اثرات سے ہمارے ملک کو محفوظ رکھے۔
پاکستان اور افواج پاکستان سے محبت پر میں پچھلے سال ایک مضمون "ہمارا عشق: پاکستان اور افواج پاکستان” کے عنوان سے لکھ چکا ہوں جو "ہم سب” پر موجود ہے اور یہ ایسی محبت ہے جس پر کوئی اور چیز غالب آنا اپنے ساتھ اور وطن کے ساتھ زیادتی ہے۔ پاکستان کی بہتری، اتحاد اور حفاظت کے لئے ہم سب جو کچھ ہنگامی بنیادوں پر کر سکتے ہیں، کرنا ہو گا۔
پاکستان کی عوام کی وطن سے محبت کے حوالے سے سروے رپورٹ کا بتاتا چلوں۔ میں نے پچھلے سال کی ایک رپورٹ پڑھی ہے جس میں گیلپ پاکستان اور ورلڈ وائڈ انڈی پینڈنٹ نیٹ ورک آف مارکیٹ ریسرچ کے سروے کا بتایا گیا ہے اور اس کی تفصیلات ملک کے معروف اخبار میں شائع ہوئی تھیں۔ سروے کے نتائج کے مطابق پاکستان دنیا کے ان چوبیس ممالک میں سب سے اوپر ہے جہاں کے نوے فیصد شہری ناصرف اپنی سرزمین سے بہت زیادہ جڑے ہونے کے دعویدار ہیں بلکہ چھیانوے فیصد کسی جنگ کی صورت میں ملکی دفاع کیلئے اپنی جان قربان کرنے کیلئے بھی تیار ہیں۔ اس کےعلاوہ ستر فیصد پاکستانی بیرون ملک اچھے مواقع ملنے کے باوجود بھی پاکستان چھوڑنا نہیں چاہتے۔ پاکستان کے بعد سب سے زیادہ ترکی میں ملکی دفاع کیلئے پچیاسی فیصد افراد نے تیار ہونے کا کہا، جبکہ جنگ کی صورت میں لڑنے سے انکار کرنے والوں کی سب سے زیادہ شرح نیدرلینڈز میں اڑسٹھ فیصد اور جاپان میں اڑتالیس فیصد ہے۔
ایک اور قابل فخر رپورٹ پر گفتگو کر لیتے ہیں جو حال ہی میں شائع ہوئی ہے۔ فوجی طاقت کی 2023 کی عالمی درجہ بندی میں پاکستانی فوج نے ساتویں طاقتور ترین فوج کا اعزاز حاصل کرلیا ہے۔ 2020 میں ہم پندرہویں نمبر پر تھے، 2021 میں دسویں نمبر پر اور 2022 میں ہماری پوزیشن نویں تھی۔ ابھرتی ہوئی عالمی فوجی طاقت کا اعزاز سر اٹھا کر جینے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
ہم اکثر سنتے ہیں کہ پاکستان میں صلاحیتوں کی کمی نہیں، جی ہاں یہ سچ ہے، اگر کمی ہے تو سچی نیتوں کی، ایمانداری کی، اپنی صلاحیتوں کو مثبت کاموں کی طرف موڑنے کی اور با صلاحیت افراد کی صحیح انداز میں قدر کرنے کی۔ اگر ایسا ہو جائے تو بہت سارے ڈاکٹر عبدالقدیر خان نظر آئیں، عبدالستار ایدھی کی کبھی کمی نہ ہو، ڈاکٹر سلیم الزماں صدیقی جیسے بے شمار سائنس اور ٹیکنالوجی کے ماہر موجود ہوں۔
پاکستان کی ایک قابل فخر شخصیت، جن کا تعلق نیشنل یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز اسلام آباد سے ہے، ڈاکٹر وسیم سجاد ہیں جن کی کاربن کے خاتمے اور دیگر نامیاتی مرکبات سے توانائی کے حصول سے متعلق تحقیق نے گلوبل آئیڈیا مارکیٹ سسٹینیبلیٹی اینڈ انوویشن 2022 کا عالمی مقابلہ جیتا ہے۔ نیشنل یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسزکے بایو لوجیکل سائنسز ڈیپارٹمنٹ میں استاد کی ذمہ داریاں سر انجام دینے والے ڈاکٹر وسیم سجاد مائیکرو بایولوجی میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری رکھتے ہیں جن کا کہنا ہے کہ ان کی ایوارڈ یافتہ تحقیق کا اصل مرکز مائیکرو ایل جی سے متعلق ایسی جدید ٹیکنالوجی ہے جو ناصرف کاربن کی مقدار کم کرنے میں مددگار ہے بلکہ یہ قابل تجدید صاف توانائی کا ایک ذریعہ بھی ہے۔ ڈاکٹر وسیم کے مطابق کاربن کا بڑھتا ہوا اخراج ایک عالمی مسئلہ ہے جس سے متعلق نئی نئی تحقیقات اکثر منظر عام پر آتی رہتی ہیں، ان کی تحقیق اس حوالے سے منفرد ہے کہ مائیکرو ایل جی کی نشونما کے لیے کسی فارم لینڈ اور حیاتیاتی کھاد کی ضرورت نہیں ہوتی اور نہ ہی اس کی گروتھ میں زیادہ وقت درکار ہوتا ہے ۔
ایک ایسا ملک جس کے پاس قیام کے وقت نہ مناسب انفراسٹرکچر موجود تھا اور نہ ہی وسائل، آج پاکستان کا شمار دنیا کی ایٹمی طاقتوں میں ہوتا ہے جو عالم اسلام کی سب سے پہلی ایٹمی طاقت ہے۔ یہ اللہ کی مدد، سائنس دانوں کی انتھک محنت اور افواج پاکستان کی بہترین تربیت کی بدولت ممکن ہوا ہے۔
قائداعظم محمد علی جناح نے فرمایا۔ "دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کو ختم نہیں کرسکتی”.
آج کے سیاسی حالات کا جائزہ لیں تو افسوس کے علاوہ کہنے کے لئے کچھ نہیں ہے۔ میری ہر پاکستانی سے درخواست ہے خدارا اس وطن پر رحم کریں اور پوری دنیا میں پاکستان کا تماشا نہ بنائیں۔ ہمارا ہر عمل سچ اور جھوٹ کی گواہی خود دیتا ہے۔ ملک سے محبت ایسے کریں جس کے اظہار کے لئے آپ کو پریس کانفرنس نہ کرنی پڑے اور ثابت اس طرح کریں کہ سب کو یقین آ سکے۔
نفرتوں کے دروازے خود پہ بند ہی رکھنا
اس وطن کے پرچم کو سربلند ہی رکھنا


