کہاں ہے مریض کی شفا؟

چند روز قبل چلڈرن ہسپتال میں پیش آنے والے واقعے پر لواحقین کا ردعمل بالکل بھی قابل قبول نہیں۔ مہذب لوگ ایسا نہی کرتے اور اپنے مسیحا کو پیٹنے والے کبھی بھی مہذب نہی کہلائے جا سکتے۔ لیکن سوچنے کی بات ہے کہ ڈاکٹرز کے ساتھ ایسا کیوں کیا گیا؟
ڈاکٹرز ہڑتال کر رہے ہیں۔ اپنے حق میں آواز اٹھا رہے ہیں لیکن کیا انہوں نے اس کی وجہ جاننے کی کوشش کی کہ کیوں ان کی عزت نہی رہی۔ اور کیوں اب عوام پولیس وکلا اور افسران بالا کی طرح ڈاکٹرز کو بھی مافیا ہی سمجھنے لگی ہے؟
محترم ڈاکٹر صاحباں ہم اس بات کو جانتے ہیں کہ آپ پر بوجھ زیادہ ہے۔ پاکستان میں سہولیات کا فقدان ہے۔ مگر کیا گورنمنٹ کی نااہلی اس بات کا جواز بن جاتی ہے کہ آپ اپنے مریضوں سے بدتمیزی سے پیش آئیں۔
ایک بستر پر مریض 3 بھی ہوں لیکن اگر ڈاکٹر اخلاق والا ہو توجہ سے سنے تو مریض کو غصہ نہی آئے گا۔ آپ میں سے زیادہ تر مڈل کلاس ہیں۔ آپ معاشرے کا ذہین ترین طبقہ ہیں اور اس کے باوجود آپ کے دل میں درد نا ہونا یہ آپ کا قد کم کر رہا ہے۔
میرا اپنی 30 سالہ زندگی میں 2 بار سرکاری ہسپتال سے واسطہ پڑا ہے۔ ایک 2 سال قبل ایمرجنسی میں مجھے اپنے بھائی کو لے جانا پڑا۔ دوسرا اپنی بیٹی کو چند ماہ قبل چلڈرن ہسپتال لے کر جانا پڑا۔ دونوں دفعہ میں مایوس رہی۔ نا میں نے صحافی کارڈ استعمال کیا نا بدتمیزی کی۔ لیکن اس پر بھی آپ لوگوں کا انداز ایسا تھا کہ انسان کو اپنا وجود بہت گھٹیا محسوس ہوتا ہے۔ میں تو افورڈ کر سکتی تھی لاما لے کر اپنا مریض پرائیویٹ لے گئی۔ لیکن ان لوگوں کا کیا جو افورڈ نہی کر سکتے؟
چلڈرن ہسپتال میں ڈاکٹر کے ساتھ جو ہوا وہ قابل مذمت ہے۔ لیکن کیا اس کی وجہ سے سب ڈاکٹرز کام چھوڑ دیں گے۔ ہڑتال کریں گے؟ کیا قصور ہے باقی مریضوں کا؟ آج کل تو آنے جانے کا خرچہ ہی برداشت نہیں ہوتا اور جو لوگ دور دراز سے آتے ہیں وہ کیا کریں؟
یہ اچھی بات ہوئی قصور گورنمنٹ کا اور ذلیل آپ بھی عوام کو ہی کریں گے۔ خود ہی بتائیں اگر گورنمنٹ ظالم ہے تو آپ کیا ہیں؟
سوشل میڈیا پر کچھ ڈاکٹر حضرات یہ کہہ رہے ہیں کہ اس ملک میں نہی رہنا چاہیے۔ یہ۔ وہ۔ پہلی بات یہ کہ ملک کے حالات تو آپ کے سامنے ہی تھے۔ ترجیح تو آپ نے بھی گورنمنٹ نوکری کو ہی دی۔ اور اگر آپ باہر جانا چاہتے ہین تو جاتے کیوں نہی۔ یہ بھی شوق پورا کر لیجیے۔ آپ کے کتنے قابل ساتھی دبئی میں 10 10 سال پریکٹس کرنے والے کینیڈا، امریکہ کا ٹیسٹ پاس ہی نہی کر پاتے۔ کیا ان کا ریکارڈ مرتب کریں؟
میں آپ کی قابلیت پر انگلی نہی اٹھا رہی۔ لیکن اگر آپ کو شوق ہے تو کر لیجیے پورا۔ یہ آپ بھی جانتے ہیں اور میں بھی کہ اس سسٹم کی کمزوری کا فائدہ آپ میں سے بہت سوں نے بھی اٹھایا ہے۔ آپ لوگوں کے پاس اللہ کی صفت ہے شفا دینا۔ لیکن ایمان داری سے بتائیے آپ میں سے کتنے ڈاکٹرز خلوص نیت سے کام کرتے ہیں۔ میں نے ینگ ڈاکٹرز میں خلوص بہت کم میں دیکھا ہے۔
آپ پر برڈن ہے۔ سب سمجھ میں آتا مگر جو آپ سے عزت سے بات کریں اپ لوگ ان سے بھی بدتمیزی کرتے ہیں۔ کیا ایسے ہوتے ہیں شفا والے۔ جیسے آپ لوگوں نے ہڑتال کی ہے۔ لوگوں کو شفا سے محروم کر رہے ہیں کبھی اللہ نے تو ہڑتال نہی کی اپنی نعمتوں کی اپنے انسانوں پر۔ کچھ تو لحاظ کریں اس صفت کا۔
ساری دنیا غلط ہو جائے، حالات غلط ہو جائے مگر آپ کو اپنی اس صفت کا حق ادا کرنا ہے۔ کیونکہ آپ کا ایک مقام ہے۔ کبھی سوچیے گا کیا آپ لوگ اس قابل بن رہے ہیں؟ کبھی سوچیے گا آپ کی عزت میں کمی کیوں ہو رہی ہے؟
لڑیے احتجاج کیجیے آپ کا حق ہے۔ مگر مافیا نا بنیں۔ اپنے مریض کو آگے رکھیں وہ مریض جس کے ٹیکس پر ہی آپ کی تنخواہ ہے۔ آپ تو خوش قسمت ترین ہین تنخواہ تو ملتی ہی ہے مگر دعائیں بے حساب ملتی ہیں۔
سسٹم سے لڑیں۔ مگر اپنا انداز بہتر کر لیجیے۔

