35 پنکچر کون لگائے؟


مشہور کہاوت ہے جب کشتی ڈوبنے لگتی ہے تو بوجھ اتارا کرتے ہیں، سب سے پہلے چوہے چھلانگ لگاتے ہیں۔ لیکن کبھی کبھار معاملہ صرف طوفان کے خوف سے جان بچانے کا ہوتا ہے۔ اکثر قائد انہی کو کھوٹے سکے کہتے ہیں۔ حالانکہ یہی ان کے ستون کہلاتے ہیں۔

بانی پاکستان نے بھی یہی اصطلاح استعمال کی اور کہا تھا کہ میری جیب میں کھوٹے سکے ہیں۔ سیاست اور حکمرانی میں ان کا چولی دامن کا ساتھ ہوتا ہے۔ جناح پر بھی جلد یہ سب آشکار ہو گئے۔ قائد کی سوچ کیا تھی مگر مملکت کے امور سنبھالنے والے نہ جانے کہاں کہاں سے نکل آئے۔ سیاست اور ریاست کے معاملات اداروں میں بیٹھے ذمہ داروں کو کیوں سنبھالنا پڑے۔ یہ سوال کئی نسلوں تک جواب طلب رہا۔

جیسے ملک کا آئین تاخیر سے معرض وجود میں آیا، ویسے ہی جمہوریت کا تعارف بھی لوگوں کو بہت دیر سے ہوا، قائد کی بہن کا ایک فوجی جنرل کے ساتھ مقابلہ ہوا، جس میں لوگوں نے ووٹ ڈالے۔ مورخین کا اصرار ہے کہ ان انتخابات میں بھی ووٹ کو عزت نہیں مل سکی، شاید یہی نقطہ آغاز تھا، عوامی حق رائے دہی کی توہین کا۔ اس خاتون کو سیاسی طور پر دیوار سے لگانے کے لئے ذاتی حملے کیے گئے۔ یہ حربے آنے والے دنوں میں زیادہ بھرپور طریقے سے آزمائے اور سیاست کے بڑے بڑے شاہ سواروں کو اوندھے منہ گرایا گیا۔

جمہوری فیصلے تسلیم نہ کرنے کی بنیاد 70 کے الیکشن میں رکھی گئی، مشرقی حصے والوں سے سیاسی اختلافات پارٹیوں کے شاید اتنے نہ تھے جتنے ذمہ دار حلقے رکھتے تھے، مورخین کا کہنا ہے بھٹو اس دوسری تقسیم کے سہولت کار بنے، اور ملک ایک نئے جغرافیائی تعارف میں تبدیل ہو گیا۔ غیر جمہوری قوتیں جنہیں سیاسی بندوبستی کا شوق چرانے لگا تھا انہوں نے اپنے تیار کیے کھلاڑی کی مقبولیت بالائے طاق رکھتے ہوئے اس کے ساتھ ایسا سلوک کیا کہ تاریخ بھی فیصلہ نہیں کر پائی کہ یہ سب کس قدر اصولوں کے مطابق عمل تطہیر تھا۔ بہرکیف بھٹو کو راستے سے ہٹانے کی کارروائی مخالفین بھی بھلا نہیں پائے۔

آنے والے برسوں میں ذمہ داروں نے اس ڈیوٹی کو آسان کر لیا اور جمہوری عمل کی تقویت کے لئے ایسا فارمولا بنایا کہ کسی کو بھی حکمرانی کا تاج پہنا دیتے۔ 90 کی دہائی میں یہ ایک کھلا راز تھا کہ تیس سے پینتیس حلقوں کو ادھر سے ادھر کر کے مرضی کا نتیجہ حاصل کر لیتے۔ اسی کو بنیاد بنا کر اپنے ہی کھلاڑی نے مخالف کو چیلنج کر دیا کہ 35 پنکچر لگائے گئے۔ یہ وہ ہوتے ہیں جنہیں الیکٹ ایبل اور لوٹے بھی کہا جاتا ہے۔ ماضی میں مختلف نوعیت کی کنگز پارٹیاں وجود میں آئیں جن کا مقصد کسی مقبول پارٹی کو کمزور کرنا اس کی قیادت کو منظر سے ہٹانا ہوتا ہے۔ یہ کام کسی نہ کسی طور جاری ہے۔ بھٹو۔ بے نظیر۔ نواز شریف کی پارٹیوں میں توڑ پھوڑ کے بعد ٹیسٹ ٹیوب میں نئی جماعت پیدا کی گئی۔ اس کام کے لئے مختلف شعبوں سے وابستہ لوگوں کی خاص ذمہ داری لگائی جاتی ہے۔

حالات نے پلٹا کھایا۔ اپنے بنائے کھلاڑی جب خودسری دکھانے لگتے ہیں تو پھر کوئی نیا بندوبستی فارمولا بنانا پڑتا ہے۔ اس سب کے لئے پہلے کچھ ہلچل پیدا کرنا پڑتی ہے تاکہ تبدیلی کا کوئی جواز نظر آئے یہ بالکل غیر حقیقی عمل نہ لگے۔ ملک میں نیا بندوبست اور 35 پنکچر لگانے کا عمل جاری ہے۔ اس مرتبہ معاملہ صیغہ راز میں بھی رکھا ہے، میدان کھلا چھوڑ دیا۔ صرف ایک فریق کے دروازے بند ہیں باقی ذمہ داروں نے کسے بندوبستی سونپنی ہے۔ ابھی حالات نئی پارٹی کے لئے سازگار دکھائی نہیں دیتے کیونکہ جسے توڑا جا رہا ہے وہ ابھی مکمل طور پر ٹوٹ نہیں پایا۔

یہ بھی واضح نہیں کہ پنکچر کتنے اور کس نے لگانے ہیں۔ سیاست کی گاڑی پہلے ہی جمہوریت کی شاہراہ کے کنارے بند کھڑی ہے آئین اور قانون کے جیک بھی اسے انتخابی عمل کے سفر پر چلنے میں مدد نہیں دے پا رہے۔ ذمہ داروں کا غصہ گاڑی کے رکنے سے زیادہ کسی اور بات پر ہے۔ اس لئے مسافر ڈر کے مارے سوال بھی نہیں کرتے کہ کب آگے بڑھیں گے۔

Facebook Comments HS

نعمان یاور

نعمان یاور پرنٹ اور الیکٹرانک صحافت میں وسیع تجربہ رکھتے ہیں اور ان دنوں ایک نجی ٹی وی چینل سے وابستہ ہیں

nauman-yawar has 153 posts and counting.See all posts by nauman-yawar