تانگا – چند یادیں چند باتیں


آج ایک زمانے بعد تانگا نظر آیا، تھکا تھکا سا اور آثار قدیمہ کی علامت معلوم ہوتا تھا یوں محسوس ہوا گویا میوزیم میں رکھا ہوا تانگا حرکت میں آ گیا ہے۔ بہرحال تانگا دیکھتے ہی ذہن و قلب میں ماضی کے سینکڑوں دریچے کھل گئے اور یادوں کی پٹاری سے نکل کر سینکڑوں سجے سجائے تانگے نگاہوں کے سامنے کشاں کشاں چلنے لگے۔

وہ وقت بھی یاد آیا جب ریل کے ذریعے خانیوال سے میری پھوپھی مع اہل و عیال آیا کرتی تھیں، سمبڑیال ریلوے اسٹیشن سے تانگا ان کو ہمارے گاؤں پہنچاتا۔ صبح سویرے جب تانگا ہمارے گھر کے سامنے بڑے گلے میں داخل ہوتا تو گھوڑے کی ٹاپوں سے آنکھ کھل جاتی میں کھڑکی سے نیچے جھانکتا تو پہلی نگاہ گھوڑے کے کانوں کے درمیان سجے خوبصورت تاج پر پڑتی جس کو کوچوان نے بڑی محبت سے گھوڑے کے سر پر دھرا ہوتا گویا وہ کسی سلطنت کا شہزادہ ہو مہمانوں کی آمد سے گھر کھل اٹھتا۔

کوچوان پانچ روپے کرایہ لے کر جب واپسی کے لیے تانگا موڑتا تو میں دور تک گھوڑے کے ٹاپوں کی آواز سنتا رہتا۔ آج ذہن کے نہاں خانے سے وہ ٹک ٹک کی آواز نکل کر کانوں کو مسرور کر رہی ہے تو سوچتا ہوں کہ سینکڑوں موسیقار اور مطرب مل کر بھی گھوڑے کے قدموں کا وہ ساز اور اس کی جھکی گردن کا نیاز پیدا نہیں کر سکتے۔

تانگوں کے کوچوان اکثر بوڑھے ہوتے تھے زندگی کا بڑا حصہ تانگے کی ایک بائی پر بیٹھے بیٹھے گزر جاتا مگر دل مطمئن اور چہرہ مسرور ہوتا کبھی کسی کوچوان کو حالات کا شکوہ کناں نہیں دیکھا۔ ہمارے محلے کا انور کوچوان دن کی پہلی سواری سے معاوضہ لیتا تو نوٹوں کو گھوڑے کے سر سے وار کر جیب میں ڈالتا۔ اور بڑی معصومیت سے کہتا: ”میاں گھوڑے تمہارے وسیلے کی دال روٹی پر گزر بسر ہے ورنہ انو کوچوان (انور کی عرفیت) تو بھوکا مر جاتا“ ۔

اکثر کوچوان تانگے کو سجانے کے شوقین ہوتے تھے۔ تانگا ایسے شوق سے سجایا جاتا گویا کسی نئی نویلی دلہن کی سیج سجائی گئی ہو۔ تانگے کی بائیوں اور سیٹوں پر نقش و نگار بنائے جاتے۔ چھت کے ساتھ خواتین کے پراندوں کی طرح رنگین لڑیاں لٹکائی جاتیں۔ گھوڑے کی باگیں رنگین رسیاں ہوتیں اور اس کے سر کی کج کلاہی جو مختلف رنگوں کا تاج ہوتا گھوڑے کی خوبصورتی میں اضافہ کرتا تھا۔ کبھی کبھار تو گھوڑے کے مکمل چہرے سے صرف آنکھیں ہی نظر آتی تھیں باقی حصہ نقش و نگار سے ڈھانپا رہتا۔

گھوڑے کی چال ایک الگ ہی لطف رکھتی تھی۔ گھوڑا سانس بند کرتا اور جسم کو ایک خاص زاویے میں ڈھال کر چال میں اعتدال لاتا تھا۔ ذرا جو اس کی چال دھیمی پڑتی تو کوچوان کے ہاتھ میں موجود چھانٹا حرکت میں آ جاتا تھا۔ لیکن اکثر کوچوان چھانٹا گھوڑے کو مارنے کی بجائے تانگے کے ٹائر میں موجود چکر میں دے دیتے تھے۔ اس عمل سے کٹڑ کٹڑ کی پر شور آواز بلند ہوتی اور گھوڑا ڈر کے مارے تیز ہو جاتا۔

کوچوان کی ایک بڑی ذمہ داری سواروں کے بچوں کو خوش کرنا بھی ہوتی تا کہ وہ تانگے کی تیز رفتاری سے خائف ہو کر رو نہ پڑیں۔ چنانچہ وہ بچوں سے کہتا: ”گھوڑا خدا کا ذکر کرتا ہے کیا تمہیں“ سبحان اللہ ”کی صدا نہیں سنائی دیتی؟“ بچے اثبات میں سر ہلاتے تو کوچوان جھٹ سے کہتا یہ سبحان اللہ گھوڑا ہی تو کہہ رہا ہے۔ کبھی وہ کسی بچے کو تانگے کی بجائے گھوڑے کی پشت پر موجود گدی پر بٹھا دیتا۔ سواریاں زیادہ ہونے کی صورت میں کوچوان ایسی ایسی جگہوں پر بیٹھنے کی گنجائش نکالتا کہ عقل دھنگ رہ جاتی۔

میری نگاہوں کے سامنے گاؤں کے کچے راستوں پر تانگا دوڑ رہا تھا۔ سفید کپڑوں اور پگڑیوں میں ملبوس نوجوان، بوڑھے اور ادھیڑ عمر مرد سوار تھے۔ عورتوں کے رنگین آنچل تانگے کی تیز رفتاری سے اڑے جاتے تھے جنہیں وہ اپنے حنائی ہاتھوں سے سنبھال رہی تھیں مگر ہوا کی برق رفتاریاں ان کی کوششوں کو ناکام کیے جاتی تھیں۔ تنگ آ کر عورتیں دوپٹے کا ایک پلو منہ میں دبا لیتیں کہ کہیں ان کی ردائے عصمت تانگا اڑا ہی نہ دے۔

تانگے کی سرعت خرامی نے کچے راستے پر دھول کے بادل اڑا دیے تھے میں دیوانہ وار تانگے کے پیچھے بھاگ رہا تھا۔ تانگا سواریاں نہیں بلکہ میرا بچپن، میرا ماضی، میری تہذیب سب کچھ سوار کیے لے جا رہا تھا۔ اور میں کوچوان کو صدائیں دیتا پیچھے پیچھے دوڑ رہا تھا میری آنکھوں سے آنسو بھی بہہ رہے تھے گویا میرے عزیز تانگے پر سوار ہو کر مجھے تنہا چھوڑے جاتے ہوں۔ ناگاہ مجھے ڈھیڈا لگا اور میں منہ کے بل زمین پر گرا۔ ہوش آیا تو تانگا جا چکا تھا۔

Facebook Comments HS