مارگلہ کی پہاڑیوں سے
شام کے سائے افق تا افق پھیل رہے تھے۔ آسمان پر بادلوں کے ٹکڑے یوں پھیلے ہوئے تھے گویا قافلے سے بھٹکے ہوئے کچھ مسافر منزل کی جستجو میں سرگرداں ہوں۔ ڈوبتے سورج کی نارنجی دھوپ صرف پہاڑوں کی چوٹیوں پر باقی رہ گئی تھی۔ میں نے اپنے قدموں کی جانب دیکھا تو میرا آدھا دھڑ شام کے سائے میں ڈوبا ہوا تھا اور سینے سے اوپر کے حصے پر سورج کی الوداعی شعاعیں بکھری ہوئی تھیں۔ میں نے سوچا
Read more
