عثمان بزدار: پلس نہیں ٹھس
ملک میں چلنے والی ”تبدیلی“ کی ہوا نے تحریک انصاف کے رہنماؤں کو تنکوں کی طرح اڑا دیا ہے۔ سیاسی جماعتوں کو ”ادھیڑنا“ کوئی نئی بات نہیں ہے مگر تحریک انصاف پاکستان کی واحد سیاسی جماعت ہے جس کے کار کنوں نے تو مزاحمت کی (ان کی مزاحمت کی حمایت نہیں کرتا) مگر رہنما ریت کی دیوار ثابت ہوئے۔ پی ٹی آئی رہنماؤں کی اکثریت ایک رات جیل کی مار نکلے۔ ٹی وی شوز میں ایسے روئے نجانے ان پر کیا آفت ٹوٹ پڑی ہے
گرفتاری سیاستدانوں کا حسن اور ان کے کیریئر کا زیور ہوتا ہے۔ کوئی مانے یا نہ مانے سیاستدانوں پر اکثر مقدمے سیاسی بنائے جاتے ہیں جن کا کوئی سر ہوتا ہے نہ ہی پیر۔ یہ مقدمات ایسے بھونڈے ہوتے ہیں کہ جن کو سن کر ہنسی نہیں رکتی۔ جیسے چودھری ظہور الہی پر بھینس چوری کا مقدمہ بنایا گیا تھا۔ مقدمے کیونکہ سیاسی ہوتے ہیں، اخلاقی جرم کے نہیں۔ اس لئے سیاستدان ہتھکڑیاں پہنے وکٹری کا نشان بناتے ہوئے جیل جاتے ہیں مگر اب کی بار تو حالات ہی مختلف دیکھے۔ پہلی بار ممی ڈیڈی کارکنوں کو دیکھا تو یقین آیا کہ ممی ڈیڈی نوجوانوں کی قیادت بھی ایسی ہی ہونا تھی۔ خود ان کے چیئرمین ایک رات میں ہی ڈھیر ہو گئے
افسوس تو یہ ہے ”تبدیلی“ اور ”ٹکر کے لوگ“ کا نعرے لگانے والے ٹکر دیکھ کر چھپ رہے ہیں۔ لگتا ہے تبدیلی 2018ء میں نہیں، اب آئی ہے۔ تبدیلی کا گانا گانے والا اور تحریک انصاف کا بانی رکن سابق گورنر سندھ عمران اسماعیل بھی نیوا نیوا ہو کر نکل گیا۔ تیرا باپ بھی دے گا آزادی کے نعرے لگانے والا موٹا تازہ لیڈر پولیس دیکھ کر اسلام آباد ہائیکورٹ چھپ جاتا ہے۔ وہ دونوں چند دنوں بعد ہی پھر میڈیا میں آ کر نیا چورن بیچتے نظر آئے۔ کمال لوگ ہیں۔ کمال ہی کر رہے ہیں۔
2018ء کے انتخابات سے قبل چیئرمین تحریک انصاف نے تبدیلی کا نعرہ لگایا جس پر عوام نے لبیک کہتے ہوئے ساتھ دیا۔ جس سے تحریک انصاف کو وفاق۔ پنجاب اور خیبر پختونخوا میں حکومت بنانے کا موقع مل گیا۔ پاکستان کی سیاست میں ہمیشہ پنجاب نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ وزیراعظم تو عمران خان نے ہی بننا تھا پورے پاکستان کے عوام کی نظریں پنجاب پر تھیں۔ تحریک انصاف میں پنجاب کی وزارت اعلی کے امیدواروں میں شاہ محمود قریشی۔ علیم خان۔ فواد چودھری اور پرویزالہی جیسے سیاستدان تھے۔ اس حوالے سے تحریک انصاف میں شدید گروپنگ بھی ہو گئی تھی
چیئرمین تحریک انصاف، جن کو بچپن سے ہی سرپرائز دینے کا شوق ہے، نے ڈیرہ غازی خان کے پسماندہ ترین علاقے کے ایم پی اے عثمان بزدار جو کہ تحریک انصاف میں الیکشن سے چند ماہ ہی شامل ہوئے تھے اور پہلی مرتبہ رکن پنجاب اسمبلی منتخب ہوئے تھے، کو پنجاب کی وزارت اعلی کے لئے نامزد کر دیا۔ پھر کیا تھا۔ زیادہ پرانی بات نہیں سب کو یاد ہو گا خود تحریک انصاف کے بڑے رہنما خان کے اس فیصلے پر دانتوں میں انگلیاں دبا کر بیٹھ گئے
میڈیا پر بے تحاشا تنقید کے باوجود عمران خان عثمان بزدار کو سپورٹ کرتے رہے۔ میڈیا میں بزدار کے لطیفے بھی مشہور ہوئے مثلاً ”کرونا کاٹتا کیسے ہے“ ۔ ویسے یہ خبر ایک بڑے صحافی نے غلط دی تھی۔ ملتان میں ہونے والے اس اجلاس میں میرا کلاس فیلو جو اس وقت سرکاری افسر ہے بھی موجود تھا اس نے خبر پڑھ کر مجھے فون کیا اور دوچار اس صحافی کو سنا کر کہا شاہ جی میں وہاں موجود تھا۔ ایسی کوئی بات نہیں ہوئی لیکن بڑے صحافی کا بڑا انگریزی اخبار تھا اس لئے سب نے خبر کو درست سمجھا
عثمان بزدار کا خاندان سیاسی ہے۔ ان کے والد سردار فتح محمد دو بار پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوچکے تھے مگر عثمان بزدار 2018 ء کے الیکشن میں خواجہ شیراز خاندان کی سپورٹ کی وجہ سے پہلی بار ایم پی اے منتخب ہوئے۔ خواجہ شیراز ایم این اے اس کے نیچے عثمان بزدار ایم پی اے بنے۔ عثمان بزدار کی عمران خان تک رسائی کیسے ہوئی یہ ایک الگ کہانی ہے جو کسی وقت لکھوں گا۔ میری اطلاع کے مطابق یہ بات سو فیصد غلط ہے کہ عمران خان کی اہلیہ نے ”قرعہ“ عثمان بزدار کا نکالا تھا
عثمان بزدار پہلی نظر اور پہلی ملاقات میں ہی عمران خان کے دل میں اتر گئے تھے۔ معصوم۔ سادہ۔ شریف۔ کم گو۔ جی سائیں جی سائیں کرنے والا عمران خان کو اپنی پارٹی میں نظر نہ آیا تو عثمان بزدار کو پنجاب کی وزارت اعلی سونپ دی۔ یہ عمران خان کا ایسا سرپرائز تھا جو شاید عثمان بزدار کے لئے بھی سرپرائز تھا
عثمان بزدار کو وزیراعلی نامزد کرنے پر بہت شور شرابا ہوا تو عمران خان نے یہ کہہ کر سب کو خاموش کرا دیا کہ عثمان بزدار میرا وسیم اکرم پلس ثابت ہو گا۔ قارئین کو یاد ہو گا کہ کرکٹر وسیم اکرم کو آگے لانے میں عمران خان نے بہت اہم کردار ادا کیا تھا اور دنیا کو سوئنگ کا سلطان دیا۔ پلس کا اعلان سن کر ایک بار تو میں بھی حیران اور پریشان ہو گیا کہ ایسا کیا ہے اس بندے میں۔
ڈھائی سال زکریا یونیورسٹی میں بزدار کے ساتھ پڑھا۔ غیرمعروف شخص۔ کلاس میں کم حاضری دینا۔ یونیورسٹی ایک ایک ماہ آتا ہی نہیں تھا۔ کلاس میں کوئی پوزیشن بھی نہ تھی۔ صرف اس حوالے سے عثمان بزدار کو کچھ لوگ جانتے تھے کہ 91۔ 93 کے سیشن میں ”جماعتیوں“ کا ”سرغنہ“ ایک بزدار ہوا کرتا تھا جس کے ایک اشارہ پر طالب علم کو اٹھا لیا جاتا تھا۔ کمرہ ڈبل لاک ہو جاتا تھا۔ وغیرہ وغیرہ۔ عثمان بزدار کی رشتہ داری اس سے بتائی جاتی تھی اور بس (عثمان بزدار نے اپنی وزارت اعلی میں ”اس“ بزدار کو نوازا بھی بہت ہے۔)
عمران خان کا عثمان بزدار پر احسان نہیں تھا بلکہ بارتھی کے بزدار قبیلے پر بہت بڑا احسان تھا جس کا بدلہ شاید سو سال تک بزدار قبیلہ نہ چکا سکے۔ اس وقت کے آرمی چیف جنرل باجوہ اور پارٹی کے اندر شدید ترین مخالفت کے باوجود عمران خان بزدار کے ساتھ ڈٹ کر کھڑا رہا۔ سدا بادشاہی تو اللہ کی ہے۔ سب نے دیکھا دنوں میں وقت بدلا۔
عمران خان نے اپنے دور میں جن کم ظرفوں کو بے تحاشا نوازا تھا وہ سب وقت کی سختی کے سامنے ٹک نہ سکے۔ جیل سے سیدھے پریس کانفرنس کرتے۔ خان اور اس کی پارٹی کو خدا حافظ کہتے اور گھر جاکر ائر کنڈیشنر چلا کر جیل کی گرمی ختم کر کے سکون سے سو جاتے۔ یہ عمل ماضی میں کئی پارٹیوں پر آزمایا ہوا ہے مگر جس تیزی سے پی ٹی آئی کے ارکان بھاگے ہیں ایسے تو چور بھی نہیں بھاگتا۔ ادھر پریس کانفرنس کی اور ادھر سکون ڈاٹ کام۔
عمران خان کے ساتھی رفتہ رفتہ چھوڑ گئے۔ عمران اسماعیل۔ پرویزخٹک۔ اسد عمر جیسے لیڈر بھی وقت کی سختی نہ سہ سکے اور ہتھیار پھینک گئے۔ عثمان بزدار پر عمران خان کا جتنا بڑا احسان تھا۔ حق تو یہ تھا کہ وہ ڈٹ جاتا بالکل اسی طرح جیسے حالات بدلنے پر وزارت اعلی خان کے قدموں میں رکھ دی تھی۔ اسی طرح یہ موقع تھا اور ایسا موقع بار بار نہیں آتا۔ یہی موقع تھا حالات کی سختیاں جھیل کر عثمان بزدار ثابت کر دیتا وہ عمران خان کا وسیم اکرم پلس ہے مگر عثمان بزدار تو ٹھس ہو گیا۔


