یوم تکبیر، نواز شریف اور ڈاکٹر عبد القدیر خان


پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے میں جہاں مختلف سائنسدانوں اور سیاست دانوں کا کر دار ہے۔ وہاں ڈاکٹر عبد القدیر خان کا کلیدی رول ہے جب امریکہ نے پاکستان پر ایران اور لیبیا کو ایٹمی ٹیکنالوجی سمگل کرنے کا الزام عائد کیا تو جنرل پرویز مشرف نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو قربانی کا بکرا بنا دیا اور ساری ذمہ داری ان پر عائد کر دی۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے ریاست پاکستان کو بچانے کے لئے سارا بوجھ اپنے سر لے لیا۔

ڈاکٹر خان نے اپنی وفات سے چند ماہ قبل مجھے ٹیلی فون پر دیے گئے انٹرویو دیا میں انہوں نے کہا کہ میں ایک سرکاری ملازم تھا۔ بھلا کس طرح از خود ایٹمی ٹیکنالوجی بیرون ملک بھجوا سکتا تھا۔ ڈاکٹر اے کیو خان لیبارٹریز کی حفاظت کا فول پروف سسٹم تھا۔ بھلا وہاں سے سوئی تک بھی باہر نہیں جا سکتی ہے۔ زبردستی کے اعتراف جرم کے بعد ہل سائیڈ روڈ پر ڈاکٹر عبد القدیر خان کی رہائش گاہ کو غیر علانیہ زندان میں تبدیل کر دیا گیا جس میں ڈاکٹر عبد القدیر خان اپنی زندگی کی آخری سانس تک قید رہے بظاہر عدلیہ کے حکم پر ڈاکٹر عبد القدیر خان پر پاکستان کے آزاد شہری کی حیثیت سے نقل و حرکت پر کوئی پابندی نہیں تھی لیکن ایسی بھی کیا آزادی تھی جب وہ کبھی زندان سے باہر کھلی فضا میں سانس لینا چاہیں تو اوپر سے کلیئرنس درکار ہوتی ہے۔

ڈاکٹر خان نے 1976 ء کے بعد سے شاید ہی کوئی دن آزاد شہری کے طور پر گزارا ہو اس کی ایک بڑی وجہ یہ تھی۔ انہوں پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کے جس کام کی بنیاد رکھی تھی۔ اس کا تقاضا بھی تھا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو دنیا کی نظروں سے اوجھل رکھا جائے لیکن کے آر ایل سے ریٹائر ہونے کے بعد انہیں کئی سال تک حفاظتی تحویل میں رکھا گیا انہوں نے کئی بار اس بات کا بھی گلہ کیا کہ ان کے احباب کو بھی ان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جاتی۔

چار عشرے قبل مغرب کو ہمارے ایٹمی پروگرام کے بارے میں کچھ سن گن ہوئی تو بی بی سی کے نمائندے نے ڈاکٹر خان تک رسائی اور کہوٹہ پلانٹ کا سراغ لگانے کی کوشش میں اپنی درگت بنوا بیٹھا جب کہ فرانسیسی سفارت کار کہوٹہ جانے کے شوق میں اپنے دانت تڑوا بیٹھے پھر کسی نے کہوٹہ کا رخ نہ کیا پاکستان نے بھارت کے جارحانہ عزائم کو بھانپ لیا تو روزنامہ مسلم کے ایڈیٹر مشاہد حسین سید کی وساطت سے بھارتی صحافی کلدیپ نیر کی ڈاکٹر عبد القدیر خان سے ملاقات کرائی گئی ملاقات میں باتوں باتوں میں ڈاکٹر خان نے باور کرا دیا کہ اگر بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا تو پاکستان اپنی سلامتی کے لئے ایٹم بم کا استعمال کر کے بھارت کو صفحہ ہستی سے مٹا سکتا ہے۔

اسی طرح جب جنرل ضیا الحق نئی دہلی پہنچے تو انہوں نے باتوں باتوں میں بھارتی وزیر اعظم راجیو گاندھی کو باور کرا دیا کہ ہمارے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی گئی تو ہمارے پاس بھی چھوٹا سا ہتھیار موجود ہے جو پورے خطے کو دنیا کے نقشے سے مٹا سکتا ہے۔ اس کے بعد بھارت نے اپنی افواج کو پاکستان کی سرحدوں سے واپس بلا لیا۔ مسلسل نظر بندی نے ڈاکٹر خان کی طبیعت میں چڑچڑا پن آ گیا تھا۔ وہ حکومتی طرز عمل سے سخت نالاں تھے۔ ڈاکٹر خان کی آف دی ریکارڈ گفتگو کو ضبط تحریر نہیں لایا جا سکتا وہ ایٹمی پروگرام کو کامیابی سے ہمکنار کرنے میں سابق صدر غلام اسحق ٰ کے معترف ہیں۔

ان کا کہنا ہے اگر غلام اسحقٰ خان اس پروگرام سے وابستہ نہ ہوتے اور اس اہم ترین منصوبے کے لئے مطلوبہ فنڈز فراہم نہ کرتے تو پاکستان کے ایٹمی قوت بننے کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوتا۔ ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں کہوٹہ میں یورینیم افزودہ کرنے کا پلانٹ لگانے کے لئے جگہ کا انتخاب کیا گیا جسے جنرل ضیا الحق کے دور میں کامیابی سے ہمکنار کیا گیا جب کہ وزیر اعظم محمد نواز شریف کے دوسرے دور حکومت میں ایٹمی دھماکے کر کے پاکستان کے ایٹمی قوت بننے کا باضابطہ اعلان کیا گیا۔

یہ ان دنوں کی بات ہے جب جنرل پرویز مشرف کے دور میں مسلم لیگ (ق) کا طوطی بولتا تھا۔ مسلم لیگ (ن (ق) کے سیکریٹریٹ میں بیگم عابدہ حسین مسلم لیگ (ق) کے سیکریٹریٹ میں مرکزی سیکریٹری اطلاعات کے دفتر میں براجمان تھیں بیگم عابدہ حسین ذاتی طور پر میری بڑی عزت کرتی ہیں۔ میں نے اسی تعلق سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ان سے شکوہ کیا بیگم صاحبہ آپ یہاں بیٹھی اچھی نہیں لگتیں آپ نے نواز شریف کو مشکل وقت میں چھوڑ کر اچھا نہیں کیا، تو انہوں کہا کہ وہ کون سی خوبی ہے کہ میں نواز شریف کو نہ چھوڑتی انہوں نے تو مجھے بجلی چور بنا دیا تھا۔

میں نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں کوئی ایسا وزیر اعظم بتا دیں جس نے صدر مملکت، چیف جسٹس آف پاکستان اور آرمی چیف کو گھر بھجوایا ہو گو کہ آرمی چیف کو گھر بھجوانے کے نتیجے میں نواز شریف کو جیل جانا پڑا۔ میں نے کہا کہ ایسا وزیر اعظم کہیں سے ڈھونڈ لائیں جس نے امریکی صدر کی پانچ ٹیلیفون کالز کی پروا کیے بغیر بھارت کے 5 ایٹمی دھماکوں کے مقابلے میں 6 ایٹمی دھماکے کر پاکستان کو ایٹمی کلب بنا دیا تو بیگم عابدہ حسین نے برملا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ اتنا بڑا جگرا تو نواز شریف کا ہی ہو سکتا ہے۔ جس روز وزیر اعظم محمد نواز شریف نے ایٹمی دھماکے کرنے کا فیصلہ کیا تھا، اس وقت اس معاملہ پر ان کی کابینہ منقسم تھی۔ کچھ وزراء انہیں ایٹمی دھماکے کے نتیجے میں لگائی جانے والی پابندیوں سے خوفزدہ کر رہے تھے۔ ایک وزیر ملک سے دوبئی فرار ہو گئے تھے لیکن میاں نواز شریف نے تمام تر خطرات کو مول لے کر ایٹمی دھماکے کرنے کا وہ فیصلہ کر دیا جو کسی حکمران میں جرات نہیں تھی۔

میرے ساتھی دفاعی رپورٹر سہیل عبدالناصر اور میں نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان سے ملاقات کے بعد ایٹمی دھماکہ سے ایک روز قبل مشترکہ ایکسکلوسو سٹوری فائل کی تھی۔ ہاتھ سے لکھی ہوئی خبر کا مسودہ آج بھی میرے پاس محفوظ ہے۔ راقم السطور نے 1985 ء میں ڈاکٹر عبد القدیر خان کے اعزاز میں راولپنڈی اسلام آباد پریس کلب میں تقریب پذیرائی منعقد کر کے ڈاکٹر خان کی خدمات کا پوری قوم سے اعتراف کرایا۔ ان کو گولڈ میڈل دیا گیا۔ اسی طرح جب میں راولپنڈی اسلام آباد پریس کلب کا صدر تھا تو ڈاکٹر خان کو پریس کلب کی جانب سے ان کی قومی خدمات پر سونے کا تاج پہنایا گیا۔

نواز شریف کے دو ادوار میں ڈاکٹر خان ایٹمی پروگرام سے وابستہ رہے لیکن ان کی آپس میں کبھی نہیں بنی تاہم ایٹمی پروگرام کے حوالے سے میاں نواز شریف ڈاکٹر خان کی خدمات کے معترف رہے ہیں جب کہ ڈاکٹر خان جنرل پرویز مشرف کے ستائے ہوئے تھے جب ان کے سامنے کوئی جنرل پرویز مشرف کا نام لیتا ہے تو ان کا خون کھول اٹھتا ہے۔ ڈاکٹر خان کے ساتھ پرویز مشرف دور میں جو سلوک روا رکھا گیا وہ کسی دشمن کے ساتھ نہیں کیا جاتا۔

ڈاکٹر خان کی اپنی زندگی میں سب سے بڑی غلطی سیاست کی خار دار وادی میں کودنا تھا۔ ان کو سیاسی بونوں نے اپنے سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کیا۔ جب ڈاکٹر خان کو اپنی غلطی کا احساس ہوا تو انہوں نے تحریک تحفظ پاکستان کو ختم کرنے کا اعلان دیا۔ یہی سیاسی عناصر ان کے اور نواز شریف کے درمیان فاصلے پیدا کرنے کا باعث بھی بنے (ختم شد) ۔

 

Facebook Comments HS