بیگانی شادی میں عبداللہ دیوانہ
”بیگانی شادی میں عبداللہ دیوانہ“ کچھ لوگ اس کہاوت سے شاید اتفاق نہ کریں، اگرچہ میں بھی اس کہاوت سے اتفاق نہیں کرتا۔ مگر اس کالم میں جو میں کہنا چاہتا ہوں۔ اس کو پڑھنے کے بعد اس کہاوت پر سوچیں گے اور اتفاق بھی کریں گے۔ پاکستان کے آئین یا کسی بھی سیاسی پارٹی کے منشور میں ایسی کوئی رکاوٹ ہرگز نہیں کہ اقلیتیں کسی بھی سیاسی جماعت کا رکن نہیں بن سکتیں۔ یہ حقیقت ہے کہ قومی سیاست کو سمجھنے اور حکومتی امور میں حصہ لینے کے لئے اقلیتوں کو ملکی سیاست اور سیاسی پارٹیوں کا حصہ بننا چاہیے۔
یہ ہمارے قومی مفاد میں ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ ہم سیاسی پارٹیوں کا حصہ بننے کے باوجود بھی اپنی جگہ نہیں بنا سکے اور نہ ہی اپنی کمیونٹی کے بڑے مسائل کے لئے کوئی قانون سازی کروا سکے ہیں۔ بیشک آپ کسی بھی سیاسی پارٹی کی رکنیت اختیار کریں مگر ایسی پارٹی کا چناؤ کریں جو آپ کو اہمیت دیں یا برابر کی حیثیت سے دیکھیں۔ آپ کے حقوق کو تسلیم کریں اور اس کے لئے قانون سازی کی جدوجہد بھی کریں۔ مگر ابھی تک ملک کی ایسی کوئی بھی سیاسی پارٹی نظر نہیں آئی جس نے منارٹیز کے لئے سنجیدگی سے عملی اقدام کیے ہوں۔
کچھ اچھی مثالیں ہیں مگر دوسری طرف ظلم اور غیر امتیازی سلوک کی مثالیں زیادہ ہیں۔ بحیثیت ایک پسی ہوئی قوم اور دوسرے درجے کے شہری ہونے کے ناتے بھی آپ کا فرض بنتا ہے کہ آپ اپنی سیاسی پارٹی میں رہتے ہوئے اپنی مسیحی کمیونٹی کے حقوق اور مسائل کے حل کے لئے نہ صرف اپنی آواز بلند کریں بلکہ عملی طور پر جدوجہد بھی کریں اور اپنا تشخص قائم رکھیں مگر اپنے آپ کو ایسی غیر ذمہ دارانہ سرگرمیوں سے باز رکھیں جن سے ان کی ساکھ کو نقصانات کا اندیشہ ہو کیونکہ یہ کمیونٹی پہلے اپنے مفادات کی حفاظت کر لے تو ان کے حق میں اچھا ہو گا۔
اور اس بات کا بھی خیال رکھیں کہ آپ اپنی سیاسی پارٹی کی منفی سرگرمیوں کا حصہ نہ بنیں۔ اگر کسی سیاسی پارٹی کے رکن نے مسیحی کمیونٹی کے مفاد یا حقوق کے لئے کام کیا ہے تو اس کی تشہیر ضرور کریں۔ سوشل میڈیا پر مسیحی سیاسی کارکنوں کو جذباتی ہو کر تمام اخلاقی حدیں پار کرتے دیکھ کر انتہائی افسوس ہوا۔ جب عمران خان کی حفاظت کی غرض سے زمان پارک میں مسیحی خواتین اور نوجوانوں بیٹھے رہے۔ عمران خان کی اسلام آباد ہائی کورٹ گرفتاری پر پی ٹی آئی کے ہجوم نے 9 مئی کو ملک بھر میں پر تشدد احتجاج کیا۔
انہوں نے ریاستی اداروں کا گھیراؤ جلاؤ کیا، پاک افواج کی تنصیبات پر حملے، شہدا کی یادگاروں کی بے حرمتی، پشاور میں ریڈیو اسٹیشن کی عمارت کو آگ لگا دی۔ اس پر تشدد احتجاج پر وفاقی حکومت و صوبائی حکومتوں اور آرمی کا سخت رد عمل آیا۔ احتجاج میں ملوث اور سہولت کاروں کی گرفتاریاں عمل میں آئیں۔ جب قومی تحفظ کمیٹی نے صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے گرفتار لوگوں کے ناموں کی فہرست بتائی تو ان میں مسیحیوں کے بھی نام بھی تھے۔ صدر پاکستان عارف علوی نے بھی اس پر تشدد احتجاج کی مذمت کی مگر عمران خان پہلے تو یہ کہہ کر لاعلمی کا اظہار کرتے رہے۔ کہ وہ تو گرفتار تھے۔ یہ دہشت گردوں کا کام ہے یہ پی ٹی آئی کے کارکن نہیں ہو سکتے۔
گرفتاری کے بعد رہائی پانے والے بہت سے پی ٹی آئی کے قومی و صوبائی اسمبلی اراکین نے اس سانحہ کی مذمت کرتے ہوئے پارٹی سے علیحدگی کا اعلان کرنا شروع کر دیا۔ جن کی تعداد 100 سے زائد ہے او ریہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔ بہت سے رکن اپنی پرانی پارٹیوں میں جا چکے ہیں۔ جہانگیر ترین بہت جلد اپنی نئی پارٹی کا اعلان کرنے والے ہیں۔ مگر تشویش کا مقام یہ ہے کہ جلاؤ گھیراو میں ملوث کچھ مسیحی نوجوان اور خواتین کی گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں۔
کچھ کو گرفتار کرنے کے لئے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ گرفتار ہونے والے بڑے بڑے سیاسی لیڈرز کو جان کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔ با اثر سیاسی افراد پارٹی سے الگ ہو کر اپنی جانیں بچانے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔ عمران خان صاحب جنہیں صرف خود سے غرض ہے۔ وہ ہر روز نئے نئے بیانات دے کر اپنا دفاع کرنے میں مصروف ہیں۔ صدر مملکت کے احساس دلانے پر انہوں نے اس واقعہ کی ہلکی سی مذمت کی ہے۔ سننے میں آیا ہے کہ انہوں نے وکلا کو ہدایات دی ہیں کہ وہ گرفتار ہونے والے کارکنوں کی رہائی میں مدد کریں۔
ایک حساس ذریعے سے علم ہوا ہے کہ کچھ وکلاء حضرات ضمانت کی منہ مانگی رقم کا تقاضا کر رہے ہیں۔ مگر گرفتار ہونے والے مسیحی کارکنوں کا کوئی بھی پرسان حال نہیں۔ اطلاع یہ بھی ہے کہ لاہور میں کسی ادارے کی مدد سے مسیحیوں کو احتجاج میں حصہ لینے کے لئے دو دو ہزار روپے ادا کیے گئے تھے جن میں ایک اپنی ہی مسیحی رکن موجود تھیں۔ باخبر ذرائع سے اطلاع آئی ہے کہ وہ رکن ملک سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئی ہیں۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ مسیحی کارکنوں کو کیا حاصل ہوا۔ کیا یہ کہاوت ان پر صادق نہیں آتی کہ ”بیگانی شادی میں عبداللہ دیوانہ“

