پروفیسر فتح محمد ملک کی خودنوشت اور جاگیرداری کے خلاف دو کردار
پروفیسر طاہر نعیم ملک صاحب نے کمال محبت سے اپنے والد گرامی پروفیسر فتح محمد ملک صاحب کی خودنوشت، عنایت فرمائی۔ ابتدائی صفحات میں پروفیسر فتح محمد ملک صاحب نے اپنے بچپن کا ایک ناقابل فراموش واقعہ مولانا گل شیر خان کی شہادت کا بیان کیا ہے۔ مولانا گل شیر خان شہید تحریک احرار کے ایک انقلابی رہنما تھے۔ ان کی شہادت پر سب کا اتفاق تھا کہ ان کی شہادت کے ذمہ دار کالا باغ اور پنڈی گھیب کے نواب ہیں۔ جس کی وجہ یہ تھی کہ
مولانا گاؤں گاؤں جاکر جلسے کرتے اور اپنی تقاریر میں لوگوں میں جاگیرداری نظام کے خلاف نفرت پیدا کرتے۔ انہوں نے لوگوں کے ذہنوں میں یہ خیال پختہ کر دیا تھا کہ زمین کا اصل مالک خدا ہے، جاگیر دار نہیں۔ زمین کسان کے پاس اللہ کی امانت ہے۔ وہ اسے کاشت کر کے اپنا رزق پیدا کر سکتا ہے، مگر اس رزق پر کسی اور کا کوئی حق نہیں۔ مجلس احرار کے اس جاں فروش مقرر نے علاقے بھر کے جاگیر داروں کی نیندیں حرام کر رکھی تھیں۔
خودنوشت کے یہ صفحات پڑھتے ہوئے اس حوالے سے دو یادیں تازہ ہو گئیں۔ والد مرحوم محمد اختر مسلمؔ سوشلسٹ خیالات کے حامل تھے۔ ہمارے گھر کی بیٹھک کی ایک دیوار پر رشید رستم قلم کا لکھا ہوا ”الارض اللہ“ (زمین اللہ کی ہے ) ایک فریم میں آویزاں تھا۔ والد مرحوم تمام عمر جاگیرداری اور سرمایہ داری کے خلاف لکھتے رہے۔ دوسرا سبط حسن صاحب کی کتاب ”ماضی کے مزار“ میں شامل صوفی شاہ عنایت پر ”وادی سندھ کا سوشلسٹ صوفی“ کے عنوان سے ایک باب یاد آ گیا۔
صوفی شاہ عنایت کا تعلق ٹھٹھہ کے قریب بستی جھوک سے تھا۔ آج بھی ان کا مزار وہاں موجود ہے۔ شاہ عنایت کا دور مغلیہ سلطنت کے زوال کے قریب کا تھا۔ سبط حسن بتاتے ہیں کہ جس دور میں صوفی شاہ عنایت نے جھوک میں تعلیم و تبلیغ شروع کی تو اس وقت بیشتر مشائخ اپنے فرائض منصبی کو فراموش کر کے خالص دنیا دار زمیندار بن گئے تھے۔ صوفی شاہ عنایت کا معاشی نظریہ پیداواری عمل میں مساوات تھا نہ کہ تقسیم کے دوران مساوات۔ دولت کی منصفانہ تقسیم پیداواری عمل میں مساوی شرکت کے بغیر ممکن نہیں۔ ان کے نزدیک مساوات محمدیﷺ کا بنیادی تقاضا یہ تھا کہ کھیتی باڑی اجتماعی اصولوں پر کی جائے۔ پیداواری عمل میں سب لوگ برابر کے شریک ہوں اور پیداوار کو حسب ضرورت آپس میں تقسیم کیا جائے۔ صوفی صاحب کے مریدوں نے یہ تجویز بہ خوشی منظور کرلی اور اجتماعی کھیتی باڑی میں مصروف ہو گئے۔
صوفی شاہ عنایت کا تجربہ کامیاب ہوا۔ جھوک میں فقیروں کو نہ بٹائی دینی پڑتی، نہ بے گار کرنی پڑتی۔ صوفی شاہ عنایت کی شہرت دور دور تک پھیل گئی۔ سادات بلڑی کے فقیر جو اب تک زمینداروں کے مرید تھے۔ صوفی صاحب کے حلقہ ء ارادت میں شامل ہونے لگے۔ مشہور زمانہ تحفہ الکرم میں درج ہے کہ ”جو درویش خاندان بلڑی سے وابستہ تھے وہ بھی صوفی شاہ عنایت کے سلسلے کا فروغ دیکھ کر سادات کو ترک کر کے اس نئے سلسلے میں شامل ہو گئے“ ۔
تحریک کی یہ مقبولیت سندھ کے خاندانی پیروں اور جاگیر داروں کی پریشان کرنے لگی۔ دیگر زمینداروں کے مزارعے بھی یہ مطالبہ کرنے لگے کہ ہماری زمینوں میں صوفی شاہ عنایت کے طریقے پر عمل کیا جائے۔ مگر دیگر زمیندار پیداوار میں مساوی شرکت کے اصول کے خلاف تھے۔ ان زمینداروں نے اس تحریک کو کچلنے کے لیے ٹھٹہ کے صوبے دار میر لطف علی خاں سے فریاد کی۔ صوبے دار نے خود تو کوئی کارروائی نہ کی مگر زمینداروں کہ شہ دی کہ وہ جس طرح چاہیں صوفی شاہ عنایت سے نپٹ لیں۔
زمینداروں نے جھوک کی بستی پر حملہ کروایا مگر پسپا ہوئے۔ مگر کئی فیقر جاں سے گئے اور مالی نقصان بھی ہوا۔ شہداء کے لواحقین نے زمینداروں کی اس لاقانونیت کے خلاف شاہی دربار میں استغاثہ دائر کیا۔ دربار میں اس واقعے کے ذمہ داروں کو بلایا گیا مگر وہ نہ آئے۔ جس پر سلطانی دستور کے مطابق ان کی زمینیں مقتولین کے ورثاء کے حوالے کر دی گئیں۔ فقیروں کی اس جیت سے دوسرے علاقوں کے مزارعین کے بھی حوصلے بڑھ گئے۔ مگر اس صورت حال میں تبدیلی اس وقت شروع ہوئی جب بادشاہ فرخ سیر نے میر لطف علی کی جگہ اعظم خان کو ٹھٹھہ کا صوبے دار مقرر کیا۔
جسے زمینداروں نے شیشے میں اتار لیا اور اسے صوفی شاہ عنایت اور ان کے فقیروں کے خلاف کارروائی پر آمادہ کر لیا۔ یہاں ایک روایت بھی بیان کی جاتی ہے کہ اعظم خان جب صوفی سے ملنے گیا تو فقیروں نے یہ کہہ کر روک دیا کہ صوفی صاحب وظائف میں مصروف ہیں۔ جب صوفی صاحب سے ملاقات ہوئی تو اعظم خان نے کہا کہ ”درویش کے دروازے پر دربان اچھے نہیں لگتے“ ۔ جس پر صوفی صاحب نے فوراً جواب دیا کہ ”ٹھیک ہے کہ دنیا کا کتا اندر نہ آنے پائے“ ۔
کہا جاتا ہے کہ اسی گفتگو نے ذاتی رنجش اختیار کی اور اعظم خان نے اس تحریک کو کچلنے کا فیصلہ کیا۔ اس نے صوفی سے واجبات طلب کیے جو ”ممنوعہ سلطانی“ تھے۔ صوفی شاہ عنایت نے جواب دیا کہ جب یہ واجبات بادشاہ کی طرف سے معاف ہیں تو آپ کو ان کی وصولی کا کیا اختیار؟ اس جواب پر اعظم خان مزید تلملایا اور بادشاہ کو شکایت لکھ بھیجی کہ صوفی شاہ عنایت اور اس کے فقیر دعوے سلطنت کر رہے ہیں اور خلیفۃ اللہ کا حکم ماننے سے انکاری ہیں۔ فرخ سیر نے تحقیقات کے بغیر ہی ”باغیوں“ کو بزور شمشیر کچلنے کا حکم دے دیا۔ مختصر یہ کہ مختلف جھڑپوں کے بعد صوفی شاہ عنایت قید ہوئے اور 7 جنوری 1718 ء کو اعظم خان کے حکم پر آخری وقت تک اپنے نظریات پر قائم رہنے والے صوفی شاہ عنایت کا سر قلم کر دیا گیا۔
بیان کیے گئے دو کرداروں کے اس مختصر سے تعارف سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر دور میں جاگیر داروں، سرمایہ داروں اور وڈیروں نے معاشی استحصال کے خلاف اٹھنے والی ہر تحریک کو سبو تاژ کیا ہے۔ قرآن مجید میں قارون، فرعون اور ہامان کے تین کرداروں کا ذکر ہے۔ قارون سرمائے کا استعارہ۔ فرعون سیاسی بالا دستی کا استعارہ اور ہامان مذہبی پیشوایت کا ۔ یہ کردار آج بھی موجود ہیں۔ وطن عزیز میں بھی جب تک سرمایہ داروں، جاگیرداروں اور مذہبی پیشوائیت کا وسائل اور سیاست پر تسلط ختم نہیں ہو گا ممکن نہیں کہ عوام کے معاشی اور سماجی استحصال کا خاتمہ ہو سکے۔


