بڑھتی ہوئی ماحولیاتی آلودگی: صفائی نصف ایمان کے دعوے اور زمینی حقائق

ہمارا کرہ ارض اپنے دلکش مناظر اور بھرپور حیاتیاتی تنوع کے لیے مشہور تھا۔ قدرت نے ایک ایسا ایکو سسٹم بنایا ہے۔ کہ اس کرہ ارض پر ایک متوازن ماحول بنا رہے۔ لیکن اشراف مخلوقات ہو نے کے دعویدار انسان نے اپنی، بد انتظامی، غفلت، حرس و ہوس سے ایک خطرناک ماحولیاتی بحران پیدا کر لیا ہے۔ جو کہ نہ صرف بنی نوع انسان بلکہ اس کرہ ارض کی تباہی کا باعث بن سکتا ہے۔ ایک طرف دنیا کے ترقی یافتہ ممالک ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنے کے لئے انتہائی سنجیدہ اور ایک مربوط مہم چلا رہے ہیں۔ اور دیرپا اقدامات کر رہے ہیں تاکہ اس کرہ ارض کو معدوم ہونے سے بچایا جا سکے۔
دوسری جانب بیشتر ترقی پذیر ممالک اور خاص کر ہمارے ہاں آلودگی اور ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے نہ ہی آگہی ہے۔ اور نہ ہی کوئی عملی قدم اٹھایا جاتا ہے۔ ایک فقرہ تو اکثر تواتر کے ساتھ سننے کو ملتا ہے۔ کہ صفائی نصف ایمان ہے۔ لیکن تعفن زدہ شہر، گندگی کے ڈھیر، ابلتے گٹر اور بدبو ہمارے دعوؤں کا بیچ چوراہے پول کھول رہے ہیں۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ انفرادی اور اجتماعی طور پر اکثریت کا صفائی سے دور دور کا کوئی لینا دینا نہیں۔
یہ سب جاننے کے لئے کسی راکٹ سائنس کی ضرورت نہیں۔ ہمارے گلی، محلے، قصبے اور شہر اس بات کا ثبوت ہیں۔ کہ صفائی نصف ایمان والے دعوے محض لفاظی کی حد تک ہی ہے۔ عملی طور پر بلکہ مجرمانہ حد تک ہم لوگ آلودگی میں اضافہ کر رہے ہیں۔ زمینی حقائق ہمارے اصلی روپ، قول اور فعل کو سمجھنے کے لئے کافی ہیں۔ بڑے شہر شدید آلودگی، بڑھتے ہوئے پلاسٹک کے فضلے اور ری سائیکلنگ کی سہولیات کی کمی کا شکار ہیں۔ یہ سنگین صورتحال ماحولیات اور صحت عامہ دونوں کے لیے ایک اہم خطرہ ہے، جس سے نمٹنے کے لئے فوری اور سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے۔
مزید برآں، اسکولوں میں ماحولیاتی تعلیم سے متعلق مضامین کی نصاب میں عدم موجودگی اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بناتی ہے، جو آلودگی سے موثر طریقے سے نمٹنے کی کوششوں میں رکاوٹ ہے۔ جب تک بچوں کو صفائی اور ماحولیاتی آلودگی سے متعلق تعلیم ہی نہیں دی جاتی۔ ایسے میں ان سے یہ توقع رکھنا کہ وہ عملی طور پر ماحول کو آلودہ ہونے سے بچائیں گے۔ محض خام خیالی ہوگی۔ ترقی یافتہ ممالک میں برسا برس کی تحقیق اور تجربات کے بعد تخلیق کردہ ماحولیات سے متعلق مضامین ملکوں اور اس کرہ ارض کو درپیش ماحولیاتی چیلنجوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔
اور پلاسٹک کے فضلے، فضلہ کو غلط طریقے سے ٹھکانے لگانے، کیمیائی آلودگی اور ری سائیکلنگ کی سہولیات کی کمی جیسے مسائل سے نمٹنے کے لیے عملی حل پیش کرتے ہیں۔ پلاسٹک کا فضلہ ایک سنگین مسئلہ ہے۔ پلاسٹک کے تھیلے، بوتلیں، اور دوسری واحد استعمال شدہ پلاسٹک کی اشیاء نالیوں کو بند کر رہی ہیں، ندیوں کو آلودہ کر رہی ہیں، اور زرعی زمین، ندی نالوں، جھیلوں، دریاؤں اور سمندروں کو آلودہ کر رہی ہیں۔ انسانوں، نباتات، جانداروں، جنگلی اور آبی حیات کے لئے شدید خطرے کا باعث ہیں۔ کچرے کو جمع کرنے کے انتظام کا ناکافی ڈھانچہ اس مسئلے کو مزید بڑھاتا ہے۔ محدود سہولیات روزانہ پیدا ہونے والے پلاسٹک اور دیگر فضلے کی بھاری مقدار کو سنبھالنے کے لیے ناکافی ہیں۔ اس کے علاوہ بڑے شہروں اور قصبوں میں ری سائیکلنگ کی سہولیات کا نہ ہونا۔ ناکافی سرمایہ کاری اور ری سائیکلنگ کی اہمیت کے بارے میں محدود آگاہی نے موثر ری سائیکلنگ پلانٹس کے قیام میں رکاوٹ ڈالی ہے۔ اس کے نتیجے میں، پلاسٹک کے فضلے کا ایک اہم حصہ زمین اور پانی کے ذخائر میں ختم ہو جاتا ہے۔ اور کچھ جلا دیا جاتا ہے، جس سے ماحول میں نقصان دہ آلودگی خارج ہوتی ہے۔
ایک بنیادی مسئلہ اسکولوں میں ماحولیاتی تعلیم کی عدم موجودگی ہے۔ نصاب میں اکثر صفائی، فضلے کے انتظام اور ماحولیاتی مسائل سے متعلق اہم موضوعات کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔ نتیجتاً، نوجوان آلودگی اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے نتائج سے بے خبر رہ جاتے ہیں۔ اور ماحول کے حوالے سے شعور، علم اور تحریک کی کمی رکھتے ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک میں آلودگی اور ماحولیاتی تبدیلیوں کی تباہی سے متعلق باضابطہ پرائمری سکول سے ہی بچوں کو تعلیم شعور اور آگہی دی جاتی ہے۔
پلاسٹک، بچوں کے ڈائپر، استعمال شدہ کوکنگ آئل، لوہے، کاغذ، گتے، استعمال شدہ سیل اور بیٹریاں، ناکارہ بلب ٹیوب لائٹس، ناکارہ بجلی کی تاریں، پرانے برتن، جانوروں کی ہڈیاں اور فضلاء، استعمال شدہ جوتے کپڑے، مشروبات کی بوتلیں اور ڈبے پھلوں سبزیوں کے چھلکے، پرانے فرنیچر، شیشے کی بنی اشیاء، مختلف کیمیکلز غرض ہر ایک چیز کو نہ صرف علیحدہ علیحدہ اکٹھا کرنے کا کی تعلیم دی جاتی ہے۔ ہر ایک چیز کو اکٹھا کرنے اور ری سائیکلنگ کا منظم انتظام بھی موجود ہے۔
ماحولیاتی بحران سے نمٹنے کے لیے فوری اور طویل مدتی دونوں حل ضروری ہیں۔ یہاں کچھ قابل عمل اقدامات ہیں جو اٹھائے جا سکتے ہیں۔
ری سائیکلنگ انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری: حکومت اور نجی شعبے کو جدید ترین ری سائیکلنگ سہولیات میں سرمایہ کاری کے لیے تعاون کرنا چاہیے۔ کچرے کو اکٹھا کرنے، ٹھکانے اور تلف کرنے والے انتظام کو یقینی بنایا جائے۔ اس سے ری سائیکلنگ کی صنعت کی حوصلہ افزائی ہوگی، آلودگی کم ہوگی۔ عوامی بیداری اور تعلیم انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ اسکول کے نصاب میں ماحولیاتی تعلیم کو متعارف کرانا اور آگاہی کا انعقاد عوام کو آلودگی کے مضر اثرات کے بارے میں آگاہ کرنے میں مدد کر سکتا ہے۔
اس سے ذمہ داری کے احساس کو فروغ ملے گا۔ ایک بار یا سنگل یوز پلاسٹکس پر پابندی ہونی چاہیے جیسے کہ پلاسٹک کے تھیلے اور بوتلوں پر پابندی لگانے کے لیے سخت ضوابط کو نافذ کرنے سے پلاسٹک کے فضلے کی پیداوار میں نمایاں کمی آئے گی۔ پلاسٹک کے تھیلوں کے متبادل کے طور پر کپڑے اور کاغذ سے بنے تھیلوں کے استعمال کی حوصلہ افزائی اور فروغ دیا جائے۔
فضلہ جمع کرنے، الگ کرنے اور ٹھکانے لگانے کے نظام کو متعارف کرانا بہت ضروری ہے۔ اس میں فضلہ کو اکٹھا کرنے کی سہولیات کا قیام، کمپوسٹنگ کو فروغ دینا، اور فضلہ کو ٹھکانے لگانے کے ذمہ دارانہ طریقوں کی حوصلہ افزائی کرنا شامل ہے۔ تحقیق اور اختراع کی حوصلہ افزائی: پلاسٹک کے پائیدار متبادل میں تحقیق اور اختراع کو فروغ دینا، جیسے بائیو پلاسٹک اور پیکیجنگ مواد، ماحول دوست حل کے لیے راہ ہموار کر سکتا ہے۔
جانوروں کو ذبح کرنے کے روایتی طریقے سے منسلک ممکنہ ماحولیاتی اور صحت کے خدشات کے بارے میں بیداری پیدا کرنا ضروری ہے۔ خاص کر کے عیدالاضحی کے تہوار پر لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں جانوروں کو ذبح کیا جاتا ہے۔ لیکن کچرے کو جمع کرنے کے ناکافی انتظام، وقف شدہ مذبح خانوں کی عدم موجودگی، فضلے، آلائشوں، خون اور ہڈیوں کو ٹھکانے لگانے کے نظام کا نہ ہونا، اکثر آلودگی اور صحت کے خطرات کا باعث بنتے ہیں۔ عوامی مقامات اور گلیوں میں جانوروں کی باقیات، خون اور دیگر فضلہ کو پھینکنے سے ان مسائل میں اضافہ ہوتا ہے۔
جس سے ایک اہم ماحولیاتی خدشہ پانی کے ذرائع کی آلودگی بھی ہے۔ جانوروں کی باقیات اور خون کو غیر مناسب طریقے سے ٹھکانے لگانے سے قریبی آبی ذخائر آلودہ ہو جاتے ہیں، جو آبی حیات اور انسانی صحت کے لیے خطرہ بنتے ہیں۔ مزید برآں، سڑنے کا عمل نقصان دہ گیسیں اور بدبو پیدا کرتا ہے، جو فضائی آلودگی کا باعث بنتا ہے۔ انسانوں اور جانوروں دونوں کے لیے رہنے کے ماحول آلودہ کرتا ہے۔ مزید برآں، جانوروں کے فضلے کا بے قابو ڈمپنگ مکھیاں، چوہے اور آوارہ کتوں سمیت کیڑوں مکوڑوں کو اپنی طرف راغب کرتا ہے، جو بیماریاں پھیلا سکتے ہیں اور متاثرہ علاقوں کی صفائی کی صورتحال کو مزید خراب کرتے ہیں۔
ان مسائل کو حل کرنے کے لیے، کمیونٹیز، حکومتی اداروں اور سول سوسائٹی کی تنظیموں کے لیے مل کر کام کرنا بہت ضروری ہے۔ اچھی طرح سے لیس اور حفظان صحت کے مطابق مذبح خانوں کے قیام سے اس بات کو یقینی بنانے میں مدد مل سکتی ہے کہ جانوروں کے ذبح کو کنٹرول اور منظم طریقے سے انجام دیا جائے، جس سے ماحولیاتی اثرات کو کم کیا جا سکے۔ مزید برآں، عوام کو فضلہ کو ٹھکانے لگانے کے ذمہ دارانہ طریقوں اور جانوروں کی باقیات اور خون کو مناسب طریقے سے ٹھکانے لگانے کے لیے مخصوص جمع پوائنٹس یا سہولیات دی جائیں اور ان کے استعمال کے بارے میں آگاہ کیا جائے۔ اس سلسلے میں الیکٹرانک، پرنٹ میڈیا پر آگاہی مہم چلائی جائیں۔ اساتذہ کرام اور مذہبی پیشواؤں کو اس خصوص تربیت دی جائے۔ تاکہ وہ اپنے شاگردوں کو آلودگی اور ماحولیاتی تبدیلیوں سے متعلق تعلیم شعور اور آگہی دے سکیں۔
چند بنیادی انفرادی اقدامات بھی اس سنگین مسائل کو کم کر سکتے ہیں۔ مثلاً اپنے اپنے گھروں اور محلوں کی حدود تک پلاسٹک کے تھیلوں، بچوں کے ڈائپرز، مشروبات کی بوتلیں اور ڈبے، ٹیٹرا پیک اور دیگر فضلے کو نالیوں، اور کھیتوں اور زمین میں پھینکے کے بجائے۔ تلف کیا جائے۔ تو کم ازکم دیہاتوں، چھوٹے قصبوں، محلوں اور زرعی زمین کو آلودہ ہونے سے بچایا جا سکتا ہے۔
بڑے شہروں میں آلودگی، پلاسٹک کے فضلے اور ری سائیکلنگ کی سہولیات کی کمی کی وجہ سے شدید ماحولیاتی بحران کا شکار ہیں۔ اسکولوں، کالجوں اور مدرسوں میں ماحولیاتی تعلیم کی عدم موجودگی اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بناتی ہے۔ حکومتی اور اجتماعی سطح پر ان چیلنجوں کا موثر طریقے سے مقابلہ کرنے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔ ری سائیکلنگ انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری، عوامی بیداری میں اضافہ، سخت ضابطوں کا نفاذ، اور ویسٹ مینجمنٹ سسٹم کو مضبوط بنانا ان مسائل کو حل کرنے کے لیے فوری اور عملی اقدامات بے حد ضروری ہیں۔
ماحولیاتی تحفظ کو ترجیح دے کر اور پائیدار طریقوں کو اپنا کر، ایک صاف ستھرے، سرسبز مستقبل کی راہ ہموار کی جا سکتی ہے۔ اور اس جنت ارضی کو محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔ جنگلات کی کٹائی پر پابندی ہونی چاہیے۔ ٹمبر مافیا کی حوصلہ شکنی ہونی چاہیے ٹمبر مافیا اور ان کے سرپرستوں کو قرار واقعی سزائیں دینی چاہیے۔ تاکہ بچے کچھے جنگلات کو محفوظ کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ شجرکاری کے لئے حکومتی سطح پر سرپرستی اور مالی امداد فراہم کی جائے۔ تاکہ زیادہ سے زیادہ درخت لگائے جائیں اور آنے والی نسلوں کو آلودگی اور تعفن سے پاک ماحول مہیا ہو۔

