میں اپنی زندگی کی ایک بڑی آزمائش سے کیسے گزرا؟



میری زندگی ایک ہنستی ’مسکراتی‘ اٹھلاتی ’لہراتی‘ فطرت کے گیت گنگناتی ندی کی طرح انجانی منزلوں کی طرف دھیرے دھیرے بہے چلے جا رہی تھی۔

نہ کوئی غم نہ کوئی فکر
نہ کوئی اداسی نہ کوئی پریشانی
مجھے یوں لگ رہا تھا جیسے عمر بھر کی ریاضت کے بعد زندگی پرسکون ہو گئی ہے۔ اسی لیے یہ شعر لکھا تھا
عجب سکون ہے میں جس فضا میں رہتا ہوں
میں اپنی ذات کے غار حرا میں رہتا ہوں
میرا ہر ہفتے کا معمول کچھ یوں تھا
دن کو اپنے کلینک میں مریضوں کی خدمت، شام کو اپنے دوستوں کے ساتھ ڈنر اور ڈائیلاگ، ویکنڈ پر تخلیقی کام کرنا، کتابیں پڑھنا اور ’ہم سب‘ کے لیے کالم لکھنا۔ لیکن پھر اس لہراتی مسکراتی ندی میں غیر متوقع طور پر ایک بھاری پتھر آن گرا اور مجھے زندگی کی ایک بہت بڑی آزمائش کا سامنا کرنا پڑا۔

پچھلے سال اکتوبر کے آخری ہفتے میں میری بھانجی وردہ کا کار کا ایکسیڈنٹ ہو گیا اور اس کی گردن کی ہڈی ٹوٹ گئی۔ اسے ایمبولنس ہسپتال لے گئی اور اس کا ایمرجنسی میں آپریشن کیا گیا۔ اس کی گردن میں ٹائٹینیم کی پلیٹیں لگائی گئیں۔ اس کی گردن پر ’جو ڈھلک گئی تھی‘ پلستر کی بجائے ایک کالر لگایا گیا تا کہ اس کی گردن کی ہڈیاں نہ ہل سکیں۔

چند دن بعد جب میری وردہ کے ڈاکٹر ولسن سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے مجھے بتایا کہ ایکسیڈنٹ کے دوران وردہ کی گردن کے سات مہروں میں سے پہلا، تیسرا، چوتھا اور پانچواں مہرہ ٹوٹ گئے تھے۔ کہنے لگے وردہ بال بال بچ گئی ہے۔ اگر دوسرا مہرہ بھی ٹوٹ جاتا تو یا تو وہ مر جاتی اور یا اس کا گردن کے نیچے کا سارا جسم معذور و مفلوج ہو جاتا۔ میں نے ڈاکٹر ولسن کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے میری بھانجی کی جان بچائی۔

ڈاکٹر ولسن کی باتیں سن کر مجھے اپنی کینیڈین دوست کا شوہر یاد آ گیا جو ایک حادثے میں پارا پلیجک paraplegicہو گیا تھا۔ اس کا گردن کے نیچے کا جسم بالکل حرکت نہ کرتا تھا۔ اس کی بیوی اسے بٹھا کر کھانا بھی کھلاتی تھی اور اس کی کروٹ بھی بدلتی تھی۔

ہسپتال میں چند دن گزارنے کے بعد میں وردہ کو اپنے گھر لے آیا۔ میں نے گھر میں ایک ہاسپیٹل بیڈ hospital bed منگوایا تا کہ وردہ بستر میں آرام سے بیٹھ سکے اور واش روم میں ہینڈل لگوائے تا کہ وردہ آسانی سے واش روم استعمال کر سکے۔

وردہ چند ہفتے اتنی تکلیف میں تھی کہ ساری رات کراہتی رہتی، درد سے بے حال رہتی، رات بھر کروٹ نہ بدل سکتی، صبح اٹھتی تو اتنا تشنج ہوتا کہ بستر سے نہ نکل سکتی۔ میں اس کا خیال رکھتا تو وہ اپنی امی سے کہتی، "سہیل ماموں دن کو ڈاکٹر اور شام کر نرس بن جاتے ہیں”۔

شروع شروع میں وردہ درد میں تخفیف کرنے والی مسکن ادویہ دن میں دو تین دفعہ کھاتی اور سوتی رہتی لیکن جوں جوں درد کم ہونے لگا اس نے ادویہ کھانی بھی کم کر دیں۔ گھر میں اس کا خیال رکھنے ایک پرسنل سپورٹ ورکر آتی اور اس کو ورزش کروانے ایک فزیو تھراپسٹ آتا۔ چند ہفتوں کے بعد وردہ بہتر ہونے لگی۔
پہلے کالر اترا پھر چلنے پھرنے لگی اور سیر کے لیے جانے لگی۔ وردہ کے لیے میرے گھر کے باہر کی سات سیڑھیاں چڑھنا اور اترنا صحتیابی کا ایک سنگ میل تھا۔ جب وردہ بہتر ہو رہی تھی تو میرے سب دوست فون کرتے اس کی تیمارداری کرنے اور صحت کا حال پوچھنے آتے اور اس کے لیے پھول لاتے۔

میں چند مہینوں میں اپنے دوستوں کی محبت کی بارش میں اندر تک بھیگ گیا۔ میرے دوستوں کو اس بات کی بہت حیرانی ہوئی کہ میں نے وردہ کی تیمارداری کی خاطر شام کو دوستوں سے ملنا ترک کر دیا اور میں چند ماہ کے لیے ایک فیملی مین بن گیا۔ میں نے شروع شروع میں جب دوستوں کو وردہ کے حادثے کی کہانی سنائی تو آبدیدہ ہو گیا۔ مجھے کئی دفعہ ایسا لگا کہ میں اس کے ماموں سے ماما بن گیا ہوں۔ میرے دوست بھی وردہ کا اور میرا حال ایسے پوچھتے جیسے وہ میری بھانجی نہ ہو، میری بیٹی ہو۔ وردہ کی اس تکلیف ’اس اذیت‘ اس کرب اور اس درد نے ہمیں ایک دوسرے کے قریب کر دیا۔

وردہ کے اس مصیبت کے دور میں میں نے اس کی حوصلہ افزائی کرنے کی کوشش کی۔ میں چاہتا تھا کہ میں اس کا دل لگائے رکھوں اور اس کی تفریح کا سامان مہیا کروں۔ ایک دن وردہ اچھے موڈ میں تھی، چہک کر کہنے لگی
سہیل ماموں ہم مل کر ایک کام کر سکتے ہیں جس سے میری ذہنی صحت بہتر ہوگی اور میں خوش رہوں گی۔
وہ کیا کام ہے؟ میں متجسس تھا۔
میں آپ کے ٹک ٹاک وڈیوز بناتی ہیں
میں نے زندگی میں کبھی ٹک ٹاک وڈیوز کا سوچا بھی نہ تھا۔ اپنی بھانجی کی خوشنودی کی خاطر میں مان گیا

ڈاکٹر خالد سہیل وردہ کے ہمراہ صحت یابی کے بعد

وردہ مجھ سے سوال پوچھتی میں جواب دیتا پھر وہ گھنٹوں لگا کر اس وڈیو کو ایڈٹ کرتی اسے ٹاک ٹاک پر انسٹاگرام پر اور فیس بک پر لگاتی اور بہت خوش ہوتی

میں اس دن بہت مسکرایا جب وردہ نے ٹک ٹاک ریلز کا نام my wise uncle رکھا۔
وردہ نے پہلا سوال پوچھا۔
سہیل ماموں جب کوئی شخص کہتا ہے۔ میں تم سے محبت کرتا ہوں۔ تو کیسے پتہ چل سکتا ہے کہ وہ سچا ہے۔

میں نے فی البدیہہ جواب دیا۔ وردہ نے پہلا ٹک تاک وڈیو لگایا اور اسے یہ جان کر بہت حیرانی ہوئی کہ اسے 86000 سے زیادہ لوگوں نے دیکھا۔ اس وڈیو سے اس کی حوصلہ افزائی ہوئی اور پھر وہ مختلف موضوعات پر وڈیوز بناتی چلی گئی۔

مجھے وردہ کے حادثے کے بعد سب سے بڑی فکر یہ تھی کہ وہ دوبارہ کار چلا سکے گی یا نہیں۔

چنانچہ جب وردہ میرے ساتھ سیر کے لیے جانے لگی تو ایک دن میں نے مشورہ دیا کہ میں کار میں پیسنجر کی سیٹ پر بیٹھتا ہوں اور تم میرے گھر کے قریب گاڑی چلاؤ۔

وردہ نے گاڑی چلائی اور پھر وہ فاتحانہ مسکراہٹ مسکرائی۔ یہ اس کی بڑی کامیابی تھی۔ پہلے گلی میں پھر بازار میں اور پھر شاہراہ پر۔  مجھے اندازہ ہو گیا کہ وہ صحتیاب ہوتی جا رہی ہے۔
سات ماہ بعد وردہ نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنی بہن اور والدین سے ملنے سعودی عرب اور پاکستان جائے گی۔ اس نے ہوائی جہاز کا ٹکٹ خریدا اور میں اسے ائرپورٹ چھوڑ کر آیا۔ وردہ اس سفر پر روانہ ہوئی جو اس نے حادثے سے پہلے جانا تھا۔ یہ سفر اس کی صحتیابی کا سفر تھا۔

سفر پر جانے سے پہلے میں اسے ڈنر پر لے گیا۔ میں نے اس کا شکریہ ادا کیا کہ اس کی وجہ سے میرے دل میں مزید نرمی پیدا ہوئی دکھی انسانیت کے لیے ہمدردی بڑھی آنکھیں آنسوؤں سے دوبارہ متعارف ہوئیں اور مجھ پر زندگی کے کچھ راز منکشف ہوئے۔ ڈنر کے آخر میں وردہ مجھ سے گلے ملی تو اس کی آنکھیں بھی میری طرح نم تھیں۔ ہم دونوں کو فخر تھا کہ ہم نے اپنی محبت اور دوستی کا ایک نیا باب رقم کیا تھا۔

میں نے وردہ کو مبارکباد بھی دی کہ وہ اس آزمائش میں کامیاب ہوئی۔ اس نے پچھلے چند ماہ میں ایک دن کے لیے بھی اپنے حادثے کو اپنے اعصاب پر سوار نہیں ہونے دیا۔ اس نے امید کا دامن نہیں چھوڑا۔ وہ سب دوستوں اور رشتہ داروں کے لیے ایک انسپیریشن بنی۔ وردہ نے حادثے سے سیکھا کہ زندگی میں یہ جاننا کہ کیا نہیں کرنا اتنا ہی اہم ہے جتنا کہ یہ جاننا کہ کیا کرنا ہے۔

وردہ کو اب بھی گردن میں تھوڑا تھوڑا درد رہتا ہے جو شاید ساری عمر رہے لیکن اس درد کے ساتھ اس نے سمجھوتا کر لیا ہے۔ وہ درد قابل برداشت ہے اور وہ آرام کرے تو کم ہو جاتا ہے۔

مجھے خبر نہ تھی کہ انسان درد سے بھی دوستی کر سکتا ہے۔ وردہ جانتی ہے کہ اس کا زندہ رہنا جدید سائنس اور سرجری کی کرامت ہے۔ وردہ کے سفر پر جانے کے بعد درویش دوبارہ اپنی کٹیا میں اکیلا ہے۔
اب لوگ میرا حال پوچھتے ہیں تو میں کہتا ہوں مجھے اکیلا رہنا پسند ہے کیونکہ خاموشی، تنہائی اور دانائی پرانی سہیلیاں ہیں۔
اور اپنا شعر گنگناتا ہوں
عجب سکون ہے میں جس فضا میں رہتا ہوں
میں اپنی ذات کے غار حرا میں رہتا ہوں

میں اس کالم کے ذریعے اپنے ’ہم سب‘ کے سب دوستوں کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے اپنی چاہت ’محبت‘ خلوص اور اپنائیت سے مجھے اور وردہ کو اپنی مذہبی ’روحانی اور سیکولر دعاؤں میں یاد رکھا۔

دوستوں کے پھولوں کے تحفوں کے ساتھ ان کی دعاؤں اور نیک تمناؤں نے بھی وردہ کو بہت حوصلہ دیا اور اس کی صحتیابی میں اہم کردار ادا کیا۔

Facebook Comments HS

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 803 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail