عثمان بزدار کی جنرل باجوہ کے خلاف گہری سازش
عثمان بزدار کی شکتی اور اثر و رسوخ کا اندازہ رحونیت کے اونچے درجے پر فائز صرف وہی ہستی لگا سکتی جس کے خواب میں عثمان بزدار کا ”ع“ آتا ہے۔ ان خوابوں کے منٹس (minutiae) پہلے احسن جمیل گجر اور نکاح خواں کو بھجوائے جاتے تھے اور بعد میں کابینہ کو بھجوائے جانے لگے۔ سبھی لوگ سیانے تھے۔ منٹس پر من و عن عمل کرتے۔ کالے بکرے کے صدقے کے صدقے پاکستان دن دوگنی اور رات چوگنی ترقی کرتا گیا۔ لیکن پھر غداروں کا جادو وفاداروں کے جادو کو کھا گیا۔ کوئی دیکھے نہ دیکھے، عثمان بزدار فرح گوگی کی آنکھ سے سب دیکھ رہے تھے۔
ابھی عثمان بزدار نے سازش کر کے ایک ایسے شخص کو اپنے گینگ میں شامل کیا جس کی شکل سو فیصد جنرل قمر باجوہ جیسی ہے، اس کی بیوی کی شکل بھی جنرل باجوہ کی بیوی کی شکل سے ایک سو ایک فیصد ملتی ہے اور اس کا بنک بیلنس ساڑھے بارہ ارب روپے ہے۔ عثمان بزدار نے اس بہروپیے کو کالی عینک پہنا کر اس کی بیوی کے ساتھ ایک ڈرٹی (ہیری نہیں) مشن پر فرانس بھیج دیا۔ یہ بہروپیا فرانس کے مختلف شہروں میں گھوم پھر رہا ہے اور سیڑھیوں پر بیٹھ کر عجیب و غریب حرکتیں کرتا ہے۔
نقل پھر بھی نقل ہی ہوتی ہے۔ یہ راز اس وقت فاش ہو گیا جب ایک افغان باشندہ ہمارے چیف کو دیکھ کر خوشی سے پھولا نہ سمایا اور ہمارے ریجن کے ہیرو سے آٹو گراف لینے کی خواہش ظاہر کی۔ عین اس وقت اس بہروپیے کے منہ سے نکل گیا کہ وہ چیف آف آرمی سٹاف نہیں ہے۔ اب لوگ یہ سمجھ رہے ہیں کہ یہ الفاظ خدانخواستہ جنرل باجوہ نے ادا کیے ہیں۔ حالانکہ وہ اگر اس عہدے سے پیار نہ کرتے ہوتے تو ایکس ٹینشن کے لیے اتنے جتن کیوں کرتے۔
عثمان بزدار کے سازشی حملے ابھی جاری ہیں۔ عثمان بزدار اب یہ پروپیگنڈا کر رہا ہے کہ جنرل باجوہ ایک پارٹ ٹائم آرمی چیف تھے۔ وہ کہتا ہے کہ سارا وقت تو وہ سیاست اور حکومتی کاموں میں لگے ہوتے تھے تو اپنی نوکری کب کرتے تھے۔ اس کا زبردست جواب جنرل باجوہ نے تیار کر لیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ان سے پہلے آنے والے چیف کون سے فل ٹائم تھے وہ سارے بھی تو یہی کام کر رہے ہوتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ وہ تو صرف لوکل سیاست میں مصروف تھے جبکہ جنرل راحیل شریف لوکل دھرنوں کے ساتھ ساتھ اپنے لیے بیرون ملک نوکری بھی ڈھونڈ رہے تھے۔ جنرل باجوہ ایک اور جواب پر بھی غور کر رہے ہیں۔ وہ عثمان بزدار صاحب کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ چیف آف آرمی سٹاف کے اپنے دفتر میں کچھ زیادہ مصروفیت ہوتی بھی نہیں اسی لیے تو سبھی آرمی چیف اپنے آپ کو مصروف رکھنے کے لیے سیاسی حکومت کی مدد کرتے رہتے ہیں۔
جنرل باجوہ عثمان بزدار کی سازشوں اور اس کے نام میں ”ع“ کی وجہ سے بہت پریشان ہیں۔ ایک وقت تھا جب جنرل باجوہ کو یہ بتایا جاتا تھا کہ آپ باکسنگ کی دنیا کے مائیک ٹائی سن اور پہلوانی کی دنیا کے انوکی ہو جب کہ اب انہیں باور کرایا جا رہا ہے کہ وہ محض ڈرامے کی دنیا کے طاہر القادری ہیں۔ یہ سب کچھ عثمان بزدار کا ہی کیا دھرا ہے کہ آئی ایس پی آر جنرل باجوہ کے لیے اب انگریزی زبان کے چار حروف تہجی سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں۔
اور تو اور، شہریار آفریدی نے جو رشتہ قائم کیا تھا وہ اس سے مکر گیا۔ اوریا مقبول جان نے اپنے نیک برگیڈیئر دوست کے مرحوم پروفیسر کے فرضی خواب پر جو کالم لکھا تھا وہ اس سے مکر گیا اور وہ جو میرے ہاتھ صاف تھے اس پر احمد نورانی نے یہ کہہ کر پانی پھیر دیا کہ میں نے اور میرے خاندان نے پاکستانی خزانے پر خوب ہاتھ صاف کیے ہیں۔ باقی رہ گئے شیخ رشید، پرویز الہی اور ثاقب نثار تو وہ بھی چپ ہیں۔ کوئی بتا ہی نہیں رہا کہ میں کتنا مقبول ہوں۔ ہائے غفور کہاں ہو، اس عثمان بزدار کی مہم پر تو ریجیکٹڈ کی ایک ٹویٹ رسید کرو۔
عثمان بزدار صاحب سخت ناراض ہیں اور فارغ بیٹھنے والے نہیں۔ ان کا غصہ بنتا بھی ہے۔ انہوں نے ساڑھے تین سال پنجاب کی فل ٹائم چیف منسٹری کی ہوئی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ نوکری تھوڑا عرصہ اور چل جاتی تو اپنے گاؤں میں بجلی لگوا لیتے۔ سب انتظامات ہو چکے تھے۔ انہوں نے گوگی میڈم کا ایک مہنگا پرس بیچنے کا فیصلہ بھی کر لیا تھا اور اس کے منافع سے گاؤں میں بجلی کا کام مکمل ہو جانا تھا۔ ان کے گاؤں میں بجلی لگ گئی ہوتی تو وہ جنرل باجوہ کے خلاف یوں سازش کر کے انہیں پریشان نہ کرتے۔


