بوسنیا کی چشم دید کہانی (38)


ابھی تک ہمارا اسٹیشن ضلع ٹرے بینیا کا حصہ تھا۔ 15 دسمبر سے اسے ضلع موسطار میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس ضمن میں سرائیوو ہیڈ کوارٹر سے احکامات جاری ہو گئے۔ 15 دسمبر ہی سے موسطار کو ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر کے ساتھ ساتھ ریجنل ہیڈ کوارٹر کا درجہ بھی دینے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ ڈسٹرکٹ کمانڈر ٹرے بینیا، فرینک سرور کو موسطار کے پہلے ریجنل کمانڈر کے طور پر منتخب کیا گیا۔ ابھی تک بوسنیا میں بین الاقوامی پولیس کا انتظامی ڈھانچہ تین ریجنل ہیڈ کوارٹروں، سرائیو، پالے اور بانیالیو پر مشتمل تھا۔ نئے انتظام کے تحت اب ریجنل ہیڈ کوارٹروں کی تعداد چار ہو گئی۔

اس دوران سٹولک میں چار نئے افسران کی آمد ہوئی۔ ان میں سے تین کا تعلق ارجنٹائن سے اور ایک کا امریکہ سے تھا۔ اتفاق سے یہ چاروں کپتان کے عہدے کے افسران تھے۔ جان جوزے، نکولس اور روقے ارجنٹائن سے، جب کہ ایڈی گرین امریکی تھے۔ نکولس ملنگ قسم کا آدمی تھا۔ اس نے اپنی بیوی کو بھی یہاں بلوایا ہوا تھا۔ اسٹیشن کے معاملات میں اسے کوئی دل چسپی نہ پہلے تھی اور نہ اب۔ اس کی جو ڈیوٹی لگا دی جاتی اور جس کے ساتھ لگا دی جاتی، اسے قبول ہوا کرتی تھی۔ فارغ وقت میں وہ کبھی بھی کسی کیفے بار یا کہیں اور نہ دیکھا جاتا تھا۔ اس کے بس دو ہی ٹھکانے تھے۔ اسٹیشن اور گھر۔ بولک اس کے معمول کے حوالے سے اکثر کہا کرتا تھا کہ اس سے زیادہ پھیکی زندگی کی مثال ڈھونڈنی مشکل ہی نہیں نا ممکن بھی ہے۔

جان جوزے، نکولس کے مقابلے میں مختلف طبیعت کا آدمی تھا۔ وہ ہر معاملے میں نہ صرف ایک جدا رائے رکھتا تھا بلکہ اسی رائے کو سب سے بہتر بھی خیال کرتا تھا۔ ترجمانوں سے اسے خدا واسطے کا بیر تھا۔ اس حوالے سے اس کی رائے یہ تھی کہ ان سب کے ذہن میں ہر افسر کو یہ بات بٹھانی چاہیے کہ وہ دوسرے درجے کی ملازم ہیں اور کسی طور ہمارے برابر نہیں ہیں۔ سیکا کی اپنے موٹاپے کی وجہ سے یہ کوشش ہوتی تھی کہ وہ گاڑی کی پچھلی سیٹ کے بجائے آگے بیٹھے۔

زیادہ تر مانیٹر اس کے ساتھ اس مروت کا مظاہرہ با آسانی کر دیتے تھے جب کہ جان جوزے کے نزدیک ایسی رعایت ڈسپلن کی دھجیاں بکھیرنے کے برابر تھی۔ ماسوائے امریکی اور مغربی یورپی اقوام کے یہ سوچ ہر ایک کے ہاں کسی نہ کسی درجے تک ضرور پائی جاتی تھی۔ اس سوچ کے بڑے علم برداروں میں ”اردو مافیا“ پیش پیش تھا لیکن جوزے کی طرح اس کا یوں سر بازار اظہار کسی نے نہیں کیا تھا۔

ارجنٹائن سے تعلق رکھنے والا تیسرا مانیٹر روقے تھا۔ اسے اپنی کپتانی پر بڑا مان تھا۔ وہ اسٹیشن کمانڈر اور ڈپٹی اسٹیشن کمانڈر سے ہر معاملے میں ایسے سلوک کی توقع رکھتا تھا جو شاہ شاہوں سے کرتے ہیں۔ اس سلوک سے اس کی مراد گاڑی کا بلا روک ٹوک استعمال تھا۔ اس سلسلے میں وہ کبھی کسی بھی پابندی کو خاطر میں نہیں لاتا تھا۔ اس کے خیال میں اس کے عہدے اور تجربے کا یہ تقاضا تھا کہ اسے کم از کم ڈپٹی اسٹیشن کمانڈر کے طور پر تعینات کیا جائے۔ اس کی یہ خواہش بالآخر مئی 1997 ء میں پوری ہوئی، جب میرے اختتام مشن کے قریب ہونے کی وجہ سے اسے میری جگہ DSC مقرر کیا گیا۔

ایڈی گرین ایک ریٹائرڈ پولیس افسر تھا۔ مشن میں امریکہ واحد ملک تھا جس کے دستے میں ریٹائرڈ پولیس افسران بھی شامل تھے بلکہ ان کی تعداد کو مد نظر رکھا جائے تو یہ کہنا زیادہ بہتر ہو گا کہ اس دستہ میں ریٹائرڈ پولیس افسران کے ساتھ ساتھ حاضر سروس پولیس افسران بھی شامل تھے۔ ایڈی گرین عمر کے اس حصے تھا میں جہاں گرینری (Greenery) یاد رفتگاں ہو جاتی ہے۔ لیکن یہ بوڑھا جوانوں سے بھی زیادہ مستعد تھا اور لگتا تھا کہ پیری سوائے اس کے سر کے بالوں کے اسے چھو کر بھی نہیں گزری۔

وہ اسٹیشن پر موجودگی کے دوران کبھی بیٹھتا نہ تھا۔ وہ یا تو کھڑا رہتا یا پھر ادھر ادھر ٹہلتا رہتا۔ اس کا لہجہ عجیب و غریب تھا اور اس کی گفت گو اتنی ہی ناقابل فہم ہوتی تھی جتنا تجریدی افسانہ۔ شکل و صورت بس واجبی سی تھی جس کی اسے کوئی خاص پرواہ بھی نہ تھی۔ ماشاءاللہ دو بیویوں سے آٹھ بچے پیدا کر کے ان کے جنازوں کو کندھا بھی دے چکا تھا۔ اب تیسری کی گود دو تین سال ادھر ہری کی جا چکی تھی۔ بہت سے ساتھیوں کا یہ خیال تھا کہ آخری خبر بس خواتین ترجمانوں کو متاثر کرنے کے لیے گھڑی گئی ہے اور اس کا مصدقہ ہونا مشکوک ہے۔

ایڈی نے ترجمان خواتین کو بھلا کیا متاثر کرنا تھا۔ اسے تو ان سے خدا واسطے کا بیر تھا۔ ترجمان خواتین کے بارے میں اس کا نظریہ یہ تھا کہ انھیں کسی طور خوش شکل نہیں ہونا چاہیے وگرنہ یہ سیکورٹی رسک ثابت ہو سکتی ہیں۔ آٹھ ترجمانوں میں سے پانچ کا انتخاب تو لگتا تھا کہ ایڈی ہی کی طرح کے کسی صاحب ذوق نے کیا تھا لیکن دو کا معاملہ ذرا مختلف اور تیسری کا کافی مختلف تھا۔ یہ تیسری ترجمان ساشکا تھی جس کے بارے میں اسے پورا یقین تھا کہ یہ سربوں کی جاسوس ہے۔

وہ اس سے مصافحہ کرتے ہوئے بھی کتراتا تھا۔ ساشکا جس میں لڑکپن کا شرارتی پن ابھی تک باقی تھا، جان بوجھ کر ایڈی سے ہاتھ ملانے کی کوشش کرتی اور ساتھ ہی اس سے گلہ بھی کرتی کہ وہ اسے نہ معلوم کیوں نظر انداز کرتا ہے۔ ایڈی اس سوال کا کوئی مہذب جواب دینا ضروری خیال نہ کرتا۔ البتہ کبھی کبھی جب طبیعت اسم با مسمیٰ سر سبز ہوتی تو کوئی نہ کوئی موشگافی کر دیتا۔ ایک دن بولا

میں اور مسٹر خان اگر تمہیں سلام میں پہل نہ بھی کریں تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے کیوں کہ ہم شادی شدہ ہیں جب کہ غیر شادی شدہ ہونے کے ناتے تمہاری ترجیح کنوارے مرد ہونے چاہئیں۔

ایڈی میں تو مسلمان ہوں، ایک تو کیا تین بیویوں کے ہوتے ہوئے بھی کنوارا کہلا سکتا ہوں، تم ساشکا کو بھلا میرے بارے میں کیوں بدگمان کرتے ہو۔ میں نے بھی از راہ تفنن کہا

تم مسلمان مردوں کے بارے میں تو ہر طرح کی بدگمانی پھیلانا کار ثواب ہے کیوں کہ تم اپنے آپ کو تو چار شادیوں کا حق دیتے ہو لیکن عورتوں کو نہیں۔ ایڈی بولا

میرے خیال میں تو ہمارے ہاں اگر ہر مرد شادی کا فیصلہ کرتے ہوئے صرف اتنی سنجیدگی کا مظاہرہ کرے جتنی وہ عید کے کپڑوں کے انتخاب کے وقت کرتا ہے تو شاید بہت سی عورتوں کو ایک خاوند بھی مشکل سے نصیب ہو، تم چار کا رونا روتے ہو۔ میں نے مزید شرارت کی۔

یہ تو خالصتاً مردانہ رائے ہے۔ اگر آپ زنانہ رائے جاننا چاہتے ہیں تو وہ بھی میری ہی زبانی سن لیں۔ امریکہ یا پھر زیادہ تر معاشروں کی عورت کے لیے ایک مرد کا تجربہ ہی اتنا تلخ ہوتا ہے کہ دوسرے کا تصور تک کسی صحیح الدماغ خاتون کے لیے ممکن نہیں۔ ایڈی نے سچ بات کہہ دی۔

ایڈی کے بقول اس کی پہلی بیوی میتھو ڈسٹ (Methodist) تھی۔ اور دوسری پروٹسٹنٹ۔ موجودہ شریک حیات البتہ اس کی ہم عقیدہ یعنی کیتھولک تھی۔ پہلی دونوں بیویوں کے بڑے بیٹے جدید خیالات کے مالک تھے اور ان کی اس جدیدیت کا نشانہ سب سے پہلے ان کی ماؤں کے عقیدے ہی بنے تھے۔ چناں چہ میتھو ڈسٹ ماں کا بیٹا یہودی اور پروٹسٹنٹ کا کیتھولک ہو چکا تھا۔ ایڈی یہ بھی اقرار کرتا تھا کہ اسلام آج کے امریکہ میں دن بہ دن ایک مقبول عقیدے کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔ ہاں اتنا ضرور ہے کہ ابھی تک وہ اور اس کا خاندان اس کی مقبولیت کی زد میں نہیں آئے۔

سٹولک دوسرا اسٹیشن تھا جہاں اس کی تعیناتی ہوئی تھی۔ اس سے قبل اس نے بوگونو میں کام کیا تھا جہاں چار پاکستانی تھے جن کا تعلق سرحد پولیس سے تھا۔ یہاں بھی اسے اتفاق سے سرحد پولیس کے افسران ہی سے واسطہ پڑا تھا۔ اس کے خیال میں پاکستان سے تعلق رکھنے والا ہر شخص خان تھا۔ اکثر کہا کرتا تھا کہ اگر میں پاکستان جاؤں تو کیا لوگ مجھے بھی ایڈی گرین کے بجائے ایڈی خان پکاریں گے۔

Facebook Comments HS