عمران ریاض؛ گمشدگی پر اٹھنے والے اہم سوالات

عمران ریاض خان پاکستان کی صحافت میں ایک نمایاں نام ہیں، آپ نے 17 سالہ صحافتی کیرئیر میں بہادری کے ساتھ اپنے فرائض منصبی بخوبی سرانجام دیے۔ اپریل 2022 سے لے کر اب تک کا ان کا صحافتی سفر یقیناً ان کے لئے مشکل ترین صحافتی سال رہا ہے لیکن وہ پرعزم ہو کر حالات کا ڈٹ کر مقابلہ کرتے رہے۔ جیلیں کاٹنے اور جعلی مقدمات بھگتنے کے باوجود ان کے جذبے میں کمی نہیں آئی، عمران ریاض خان کو 11 مئی کو گرفتار کیا گیا اور اس کے بعد سے وہ گمشدگی کا شکار ہیں
عمران ریاض خان کی گمشدگی میں اٹھنے والے اہم سوالات جواب طلب ہیں جس میں پولیس کی بدنیتی اور عدالت کی بے بسی واضح دکھائی دیتی ہے۔ ان سوالات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ پولیس، انٹیلی جنس ادارے عمران ریاض خان کو بازیاب کرنے میں مخلصانہ کاوشیں ہی نہیں کر رہے ہیں بلکہ ہر بار عدالت سے اگلی تاریخ لینے اور وقت لینے پر زور ہوتا ہے۔
انسپکٹر جنرل پنجاب پولیس نے کہا کہ عمران ریاض خان پنجاب پولیس کو کسی کیس میں مطلوب نہیں تھے، لیکن اس کے برعکس عمران ریاض خان کو سیالکوٹ ائرپورٹ سے 20 کے قریب پنجاب پولیس کے اہلکاروں نے گرفتار کیا، جبکہ عین اسی رات عمران ریاض خان کے گھر پر 50 پولیس اہلکاروں نے دھاوا بولا۔ اگر پنجاب پولیس کو مطلوب نہیں تھے تو یہ ریڈ کسی خوشی میں کی گئی تھی؟ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پنجاب پولیس عمران ریاض خان کسی کے حوالے کرنے کے لئے سہولت کاری کر رہی تھی۔
انسپکٹر جنرل پنجاب پولیس نے کہا کہ عمران ریاض خان کے گھر پر پولیس کا ریڈ ”سسٹر ایجنسی“ کے کہنے پر ہوا۔ سوال یہ ہے کہ وہ سسٹر ایجنسی کون سی ہے؟ کیا سسٹر ایجنسی نے بتایا کہ انہیں عمران ریاض خان کس کیس میں اور کیوں مطلوب ہیں؟
عمران ریاض خان کے گھر میں ریڈ کے دوران پنجاب پولیس کے علاوہ کسی ایجنسی کے اہلکار بھی تھے۔ ان میں سے ایک شخص جیل کے باہر موجود اغوا کاروں کے ساتھ بھی موجود تھا۔ پنجاب پولیس کے ساتھ آنے والے سسٹر ایجنسی کے اس شخص کو منظر عام پر یا عدالت میں کیوں نہیں لایا جا سکا؟ کیا پولیس حقائق کو چھپانے کے لئے یہ سب کوششیں کر رہی ہے؟
پنجاب پولیس کے گھر میں چھاپے کے دوران اسی مشکوک شخص نے عمران ریاض خان کی اہلیہ کو دھمکی دی تھی۔ اس شخص کو دھمکی دینے کے جرم میں ہی ابھی تک لاہور ہائیکورٹ میں کیوں نہ سامنے لایا گیا؟
غیرقانونی طور پر گرفتار کرنے، غیرقانونی طور پر جیل میں ڈالنے اور غیرقانونی ڈیٹینشن آرڈرز جاری کرنے پر بالترتیب ایس ایچ او، ڈسٹرکٹ پولیس افسر اور ڈپٹی کمشنر کے خلاف کارروائی کیونکر نہ ہو سکی؟
ایس ایچ او نے کس کے کہنے پر اور عمران ریاض خان کو بغیر وارنٹ کے سیالکوٹ ائرپورٹ سے کیوں گرفتار کیا؟ عمران ریاض خان کے ڈیٹینشن آرڈرز منسوخی کی اطلاع ان کی فیملی کو کیوں نہ دی گئی اور یہ کیسا حسن اتفاق ہے کہ عین اسی وقت جب عمران ریاض رہا ہو رہے ہیں سیالکوٹ جیل کے باہر اغوا کار موجود ہوتے ہیں۔ کیا اس سے سیالکوٹ پولیس کی سہولت کاری واضح نہیں؟
انسپکٹر جنرل پنجاب پولیس خود عمران ریاض خان کے خلاف ایف آئی اے میں ایک درخواست دے چکے ہیں، کیا اس سے ان کی بدنیتی ظاہر نہیں ہوتی؟ انسپکٹر جنرل پنجاب پولیس کی 20 دن سے مسلسل ناکامی کے باوجود عدالت نے متبادل افسر تعینات کیوں نہ کیا؟
عدالت نے پیشی کے پہلے دن جس ایس ایچ او کو معطل کیا اسے بھی بحال کر دیا۔ اس کے بعد عدالت عالیہ کی جانب سے غفلت برتنے، واضح طور پر قانون توڑنے، اغواء کاروں کے ساتھ سہولت کاری کرنے کے واضح جرائم کے باوجود کسی افسر کے خلاف کوئی بھی کارروائی کیونکر نہ ہو سکی؟
پاکستان کے نامور صحافی مطیع اللہ جان دعوی کرتے ہیں کہ لاپتہ افراد کے کیس میں چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کا ماضی متنازعہ ہے۔ کیا متنازع ماضی رکھنے والے چیف جسٹس حال میں بھی بے بس دکھائی دیتے ہیں؟ لاہور ہائیکورٹ کی واضح بے بسی کے بعد پنجاب کے صحافیوں کو اپنے آئینی حقوق کا تحفظ کہاں سے ملے گا؟ عدالت میں چلائی جانے والی فوٹیج کے مطابق عمران ریاض خان کو جیل کے باہر سے تین نامعلوم افراد ایک ویگو ڈالے میں کہیں لے کر جا رہے ہیں۔ ابھی تک ان گاڑیوں کی تفصیل کیوں نہ سامنے آ سکی؟ ان کا ڈیٹا عوام کے سامنے کب آئے گا؟ پولیس نے ان گاڑیوں کو ٹریس کرنے میں کیا کام کیا ہے؟ خدانخواستہ عمران ریاض خان پر تشدد یا جان کو نقصان پہنچائے جانے کی صورت میں ذمہ دار کون ہو گا؟
ماضی میں بھی عمران ریاض خان کو مختلف چینلز پر آف ائر کرنے، ان کے خلاف غداری کے مقدمات بنانے اور انہیں مختلف حیلوں بہانوں سے نقصان پہنچانے کا ذمہ دار کون ہے؟ کیا وہی طاقتیں گمشدگی کے پیچھے نہیں؟ پاکستان میں گمشدگیوں کے حوالے سے عدالتوں کے ماضی کے فیصلے، ٹریک ریکارڈ سب کے سامنے ہے، سوال یہ بھی ہے کہ جبری گمشدگیوں کا یہ سلسلہ کب ختم ہو گا؟ جو بلوچستان، قبائلی علاقہ جات، جنوبی پنجاب اور اندرون سندھ کے علاقوں میں ایک رواج بن چکا ہے۔ پاکستان میں قانون سے بالاتر کون ہے؟
نامور اینکر کی گمشدگی سے عوام میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔ اپنی اس رپورٹ کے ذریعے میں نے پاکستان اور دنیا میں موجود انسانی حقوق کی تنظیموں کو مخاطب کرتے ہوئے کہتا ہوں کہ اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔ دنیا میں صحافیوں کے حقوق پر آواز اٹھانے والی تنظیمیں عمران ریاض خان کی صحت اور جان کے حوالے سے شدید ترین خدشات کا اظہار کرچکی ہیں ہیں۔ ایسے میں حکومت پاکستان و ذیلی ادارے بھی ہوش کے ناخن لیں۔
جبر اور ظلم کے ذریعے آواز دبانے کا سلسلہ ختم ہونا چاہیے۔ پاکستان کا آئین بولنے کی آزادی دیتا ہے، قوانین صحافیوں کو تحفظ فراہم کرتے ہیں لیکن پاکستان میں عملی طور پر آئین معطل ہو چکا ہے اور قانون کے ساتھ کھلواڑ جاری ہے۔ ہم اپنے صحافی دوست عمران ریاض خان کے لئے ہر فورم پر آواز اٹھا رہے ہیں لیکن کہیں بھی شنوائی نہیں ہو رہی۔ ایسے میں دنیا بھر کے انسانی حقوق کے نام لیواؤں سے گزارش ہے کہ اپنا کردار ادا کریں۔

