مسٹر گاندھی کی دل موہ لینے والی باتیں


دینی تحریکوں کے گہرے اثرات اور مسلسل سیاسی جدوجہد کے نتیجے میں انگریز ہندوستانیوں کو مرحلے وار اختیارات سونپنے پر آمادہ ہو گئے تھے اور 1919 ء میں دوسرا آئینی ایکٹ برطانوی پارلیمنٹ نے منظور کر لیا تھا۔ اس ایکٹ کے خلاف مسٹر گاندھی نے ستیہ گری کا راستہ اختیار کیا۔ وہ بڑی چابک دستی سے مسلمانوں میں ایک مقام بنانے میں کامیاب رہے تھے۔ معروف مؤرخ ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی نے اپنی کتاب ’جدوجہد پاکستان‘ میں اس ضمن میں بڑے ڈرامائی واقعات بیان کیے ہیں جن سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ مسٹر گاندھی کی تحریک خلافت کی غیرمشروط ہم نوائی کے اصل مقاصد کیا تھے۔

”مارشل لا سے مارشل لا تک“ کے مصنف جناب میر نور احمد کے تجزیے کے مطابق اس وقت مسلمانوں کی تمام تر توجہ صرف ایک مسئلے پر مرکوز تھی کہ برطانیہ اور دوسری اتحادی طاقتیں شکست خوردہ ترکی سے کیا سلوک روا رکھتی ہیں اور کیا جزیرۃ العرب پر خلیفۃ المسلمین کا سیاسی اقتدار قائم رکھنے کا کوئی بندوبست ہو سکے گا۔ وہ برطانوی حکومت پر اپنا اجتماعی نقطۂ نظر پوری توانائی سے واضح کرنے کے لیے سخت بے چین تھے۔ اس وقت ہندوؤں کی صفوں میں گاندھی جی کی ایک ایسی شخصیت موجود تھی جو مسلمانوں کے شدید جذبات کا بغور مطالعہ کر رہی تھی۔

ان کی اس زمانے کی تحریروں سے واضح ہوتا ہے کہ انہیں نظر آ رہا تھا کہ تاریخ نے ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان اتحاد پیدا کرنے کا ایک نادر موقع فراہم کر دیا ہے جس سے فائدہ اٹھا کر ہندوستان کی تاریخ میں ایک بڑا کارنامہ سرانجام دیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے مسلمانوں کے مطالبے کی حمایت یہ کہہ کر شروع کی کہ یہ میرے مسلمان بھائیوں پر آزمائش کا وقت ہے اور میں تمام پہلوؤں پر غور کرنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ وہ ایک جائز مطالبہ ہے، لہٰذا میرا فرض ہے کہ میں اس کا پورا پورا ساتھ دوں۔

اس مطالبے کو منوانے کے لیے علما کے ایک بڑے حلقے نے ’جمعیت علمائے ہند‘ کے نام سے ایک تنظیم قائم کر لی تھی۔ اس کا ایک اجلاس سر ابراہیم ہارون کی صدارت میں ستمبر 1919 ء کے لگ بھگ لکھنؤ میں ہوا جس میں مرکزی خلافت کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس میں ہر مسلمان حصہ لیتے ہوئے ملی تحریک میں عوامی رنگ بھر سکتا تھا۔ اس وقت مولانا شوکت علی نظربند تھے۔ رہائی کے بعد انہوں نے سیکرٹری کا عہدہ سنبھال لیا۔ عملی اقدامات پر غوروخوض کے لیے ایک کانفرنس دہلی میں منعقد ہوئی۔

مجلس استقبالیہ کے صدر جناب آصف علی نے مہاتما گاندھی کو بھی شرکت کی دعوت دی اور ایجنڈے میں تحفظ خلافت کے ساتھ ساتھ گئو رکھشا کا مسئلہ بھی شامل کر لیا، لیکن جب کانفرنس کا اجلاس گاندھی جی کی صدارت میں شروع ہوا، تو انہوں نے آغاز ہی میں ایجنڈے کا ذکر کرتے ہوئے بڑے ڈرامائی انداز میں کہا کہ میں مسلمانوں کے مطالبے کی غیرمشروط اور مکمل حمایت کرتا ہوں اور اس کے عوض کسی جوابی رعایت مانگنے کو کم ظرفی سمجھتا ہوں، اس لیے گئو رکھشا کا مسئلہ ایجنڈے سے حذف کر دیا جائے۔ مہاتما جی کے ان چند جملوں نے مسلمان لیڈروں کے دل موہ لیے۔ اس کانفرنس میں انہوں نے عملی اقدامات کی ذمے داری بھی مسلمانوں ہی کو سونپتے ہوئے کہا کہ آپ جو بھی فیصلہ کریں گے، ہم اسے عملی جامہ پہنانے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھیں گے۔

23 دسمبر 1919 ء کو آئینی اصلاحات پر شاہی دستخط ثبت ہو چکے تھے، مگر خلافت کانفرنس کے لیے نئی آئینی اصلاحات سے تعاون یا عدم تعاون کوئی اہمیت نہیں رکھتا تھا۔ اس کی ساری توجہ خلافت کے بنیادی معاملے پر مرتکز تھی، چنانچہ خلافت کمیٹی نے حکومت برطانیہ پر مسلمانوں کا نقطۂ نظر واضح کرنے کے لیے ایک وفد وائسرائے ہند اور ایک وفد لندن برطانوی وزیراعظم کی طرف بھیجنے کا فیصلہ کیا۔ لندن جانے والے وفد کی قیادت کی ذمے داری مولانا محمد علی جوہرؔ کو سونپی گئی۔

عملی اقدامات پر غور کرنے کے لیے خلافت کمیٹی نے 20 جنوری 1920 ء کو ایک اور کانفرنس طلب کی جس میں مہاتما گاندھی بھی مدعو کیے گئے۔ یہاں انہوں نے حاضرین سے کہا کہ اگر آپ صاحبان میری بات مانیں، تو ایک خودسر حکومت پر موثر اخلاقی دباؤ ڈالنے کا صحیح طریقہ میری سوچ کے مطابق یہ ہے کہ عدم تعاون کی تحریک چلائی جائے۔ اسی کے ساتھ عدم تعاون کے درج ذیل چار مراحل بھی تجویز کیے گئے :

( 1 ) ترک خطابات اور تعلیمی اداروں اور عدالتوں کا مقاطعہ ( 2 ) بعد ازاں حکومت کے جملہ محکموں سے استعفے ( 3 ) اس کے بعد پولیس اور فوج سے علیحدگی ( 4 ) آخری مرحلے میں ٹیکس دینے سے انکار۔

یہ بھی اعلان ہوا کہ اس پروگرام پر عمل درآمد کے دوران عدم تشدد کے اصول کی پوری پابندی کی جائے گی۔ حاضرین کو یہ انقلابی پروگرام بہت پسند آیا۔

14 مئی 1920 ء کو جب مولانا محمد علی جوہرؔ لندن ہی میں تھے، اتحادی طاقتوں نے ترکی کی قسمت کا فیصلہ سنا دیا جو خالص ترکی آبادی والے علاقوں کے حصے بخرے کر کے دوسرے ملکوں میں بانٹ دینے پر مشتمل تھا۔ اعلان سے پہلے ہی مہاتما گاندھی نے اپنے اخبار میں تحفظ خلافت کی خاطر عدم تعاون کے حق میں پروپیگنڈا شروع کر دیا اور جگہ جگہ خلافت کانفرنسیں مقامی طور پر اس پروگرام کے حق میں قراردادیں منظور کرنے لگیں۔ مسٹر گاندھی کمال چابک دستی سے اس نکتے پر زور دیتے رہے کہ عدم تعاون کے پروگرام کا اصل مقصد تحفظ خلافت ہے اور اگر اس کے ذریعے حکومت کی مشینری مفلوج کر دی جائے، تو سوراج کا مسئلہ بھی خودبخود حل ہو جائے گا اور ہندوؤں اور مسلمانوں میں دلی اتحاد پروان چڑھے گا اور اس کے بعد گؤ رکھشا کا مسئلہ بھی باقی نہیں رہے گا۔

حالات نے آگے چل کر ان کی نیت کا کھوٹ طشت از بام کر دیا۔ وہ دراصل مسلمانوں کی عوامی طاقت کے بل بوتے پر اپنا سیاسی قد بڑھانا اور ہندوستان کے بلاشرکت غیرے لیڈر بن جانا چاہتے تھے۔ وہ جنوبی افریقہ سے آئے تھے اور ہندوستان میں ابھی غیرمعروف تھے، چنانچہ برطانوی حکومت ان کی دھمکیوں کو کچھ بھی وزن نہیں دے رہی تھی۔ مسٹر گاندھی نے عدم تعاون کا جو پروگرام دیا، اس کی ناکامی اور تباہی قائداعظم پر پہلے ہی آشکار تھی۔ (جاری ہے )

Facebook Comments HS