عطاالحق قاسمی کے تخلیقی رنگ


پی ٹی وی کے ایم ڈی، ناروے میں پاکستان کے سرکاری سفیر، ادبی مجلے معاصر کے مدیر اعلیٰ، چیئرمین الحمرا آرٹس کونسل، اردو ادب کے استادوں کے استاد عطا الحق قاسمی کے ادبی اور تخلیقی رنگ بلاشبہ ہم سب نے دیکھے ہیں۔ انہوں نے پاکستان ٹیلی ویژن اور پنجاب آرٹس کونسل کا قبلہ درست کرنے کے لئے جو حکمت عملی اپنائی، اس کے اثرات و ثمرات سے فن کار اور ان اداروں کے ملازمین بھی فیضیاب ہوتے رہے اور فنون و ثقافت کی ترویج و ترقی کے دروازے کھلتے چلے گئے۔

مزاح نگار، شاعر، دانشور، مدبر، مدیر، سفیر، سفرنامہ نگار، پروفیسر، ڈراما نویس اور بحر ثقافت و سیاحت کے شناور عطاء الحق قاسمی کی شگفتہ مزاجی، بذلہ سنجی، کالم نگاری، خوش لباسی، رجائیت پسندی، حب الوطنی، انسان دوستی، خوش اخلاقی، جرات و بے باکی، کشادہ دلی، خیرسگالی اور روشن خیالی کے کیا کہنے۔ دن رات صدقہ بانٹتے نظر آتے ہیں۔ یہ بات وثوق کے ساتھ اس لئے کہی جا سکتی ہے کہ آپ انہیں کہیں بھی مل لیں، ملاقات سرراہ ہو یا کسی محفل میں، آپ کو ان کے چہرے پر مسکراہٹ سجی نظر آئے گی۔

مسکرا کر ملتے ہیں، مسکرا کر بات کرتے ہیں، مسکرا کر خوش آمدید کہتے ہیں۔ اور اگر مسکرا نہ رہے ہوں تو یقین کیجئے قہقہہ لگا رہے ہوتے ہیں اور ایسے وقت میں ان کا انگ انگ، آنکھیں، خدو خال سب قہقہہ زن محسوس ہوتے ہیں۔ جیتی جاگتی شخصیت ہیں۔ جس محفل میں چلے جائیں جان پڑ جاتی ہے، جہاں سے اٹھ کر چلے جائیں، وہاں کی فضائیں دیر تک مسکراتی دکھائی دیتی ہیں۔ پریشانی میں حوصلہ بھی اپنے مخصوص انداز میں بڑھاتے ہیں۔ روتوں کو ہنساتے ہیں اور پورے ماحول کو گدگداتے ہیں۔ یہ زندہ دلی زندہ دلان لاہور سے انہوں نے مستعار لی ہے یا زندہ دلان لاہور کو انہوں نے ادھار دی ہے، یہ فیصلہ لاہوری ہی کر سکتے ہیں۔

عطا الحق قاسمی اردو اور پنجابی ادب کے رسیا ہیں اور ان دونوں مقبول زبانوں سے پیار کرنے والے ان سے بھی پیار کرتے ہیں۔ یہ پاکستانی ثقافت کے بھی دلدادہ ہیں اور پنجابی ثقافت کو پاکستانی ثقافت کے رنگا رنگ گلدستے کا ایک دلکش رنگ سمجھتے اور قرار دیتے ہیں۔ دنیا بھر میں انہیں پاکستان کی نمائندگی کا دوچار، دس، بیس بار نہیں سینکڑوں بار اعزاز حاصل ہو چکا ہے۔ عالمی مشاعرے، عالمی کانفرنسیں، عالمی سیمینار، عالمی مزاح کانفرنسیں یا کسی بھی عنوان کے تحت کسی بھی دیس میں اگر بڑے پیمانے پر کوئی کانفرنس یا محفل سجتی تو اس میں عطاالحق قاسمی، امجد اسلام امجد، خالد احمد اور دیگر قد آور ادیب یا شاعر پاکستان سے ضرور جاتے۔

وہاں جا کر سائیڈ پروگرام کے طور پر دنیا بھر سے آئے ہوئے اہل ادب سے ملاقاتیں اور کھل کھلا کر باتیں ہوتیں اور واپسی پر ہمارے عطا الحق قاسمی صاحب اپنے ساتھ اتنا مواد لے آتے کہ نئے غیر ملکی دورے پر روانہ ہونے تک ان کے لکھنے لکھانے خصوصاً روزن دیوار سے جھانکنے اور دیکھنے دکھانے کا عمل جاری رہتا۔ انہوں نے کسی پاکستانی شخصیت کے لئے ایک تیکھا جملہ اپنے کالم میں لکھا تھا کہ وہ آج کل مختصر دورے پر پاکستان آئے ہوئے ہیں۔

ہمارے عطا بھائی بھی جب مشاعروں اور عالمی ادبی کانفرنسوں کا دور جوبن پر تھا، تو بعض دنوں میں اتنے تسلسل اور تواتر کے ساتھ غیرملکی دورے کرتے تھے کہ انہوں نے کئی ملکوں کو اپنے لاہور کی گلی بنا رکھا تھا۔ آج واپسی ہوئی اور اگلے دن پھر سمندر پار کسی دیس کے لئے روانگی۔ ایسے موسم میں، میں اس وقت بھی ان کے انداز میں یہ سوچتا تھا کہ آج کل یہ مختصر دورے پر پاکستان آئے ہوئے ہیں۔ ایک خاص بات جو میں نے ان میں دیکھی، وہ یہ بھی ہے کہ یہ سیماب صفت ہیں۔

کہیں ٹھہرتے نہیں، ٹک کر نہیں بیٹھتے۔ خود بھی سرگرم ہیں اور اپنے حلقہ ء یاراں کو بھی متحرک اور سرگرم رکھتے ہیں۔ ہر شہر میں ان کا حلقۂ یاراں ہے۔ جہاں جائیں محفل سج جاتی ہے۔ کسی تقریب میں مدعو ہوں توان کا بے تابی کے ساتھ کیا جاتا ہے انتظار۔ جب یہ وہاں پہنچتے ہیں تو بکھرے نظر آتے ہیں رنگ بہار۔ چل پڑتا ہے گلشن کا کاروبار۔ اور جب کھلتے ہیں ان کے لب اظہار تو ماحول دکھائی دینے لگتا ہے شاندار۔ وجہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ یہ شخصیت ہے بڑی باغ و بہار جہاں جہاں اردو بولی، پڑھی، لکھی اور سمجھی جاتی ہے، وہاں وہاں ان کے نام، کلام اور کام کا چرچا ہے۔

شوق آوارگی ان کی ”پہلوٹھی“ کی خوبصورت کتاب ہی نہیں، آوارگی کا ذوق و شوق ان میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے۔ ان کے مزاح میں سنجیدگی اور ان کی سنجیدگی میں ظرافت قارئین اور سامعین کے دامان سماعت و بصارت کو اپنی طرف کھینچ لیتی ہے۔ کئی دہائیوں پہلے کی بات مجھے یاد ہے محترم عطا الحق قاسمی صاحب کسی عالمی اردو مزاح کانفرنس میں شرکت کے لئے بھارت میں تھے۔ دوردرشن والوں یا کسی اور بھارتی ٹی وی چینل نے ان کا انٹرویو کیا اور ان سے سوال کیا آپ کے خیال میں اس عالمی اردو مزاح کانفرنس کے پاک بھارت تعلقات پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟ جو اباً محترم عطا الحق قاسمی صاحب نے صرف اتنا کہا کہ میرے خیال میں پاک بھارت تعلقات کو بہتر بنانے کے لئے عالمی مزاح کانفرنس کی نہیں، سنجیدہ کوششوں کی ضرورت ہے۔ اس پر محفل کشت زعفران بن گئی۔

عطاءالحق قاسمی صاحب نے کالم نگاری کا آغاز روزنامہ نوائے وقت لاہور سے کیا۔ وہ روزن دیوار سے جو کچھ دیکھتے، اسے اپنے مخصوص پیرائے اور خوبصورت کالم کی شکل میں سب کو دکھا دیا کرتے تھے۔ ان کا انداز اپنا تھا اور آج بھی اپنا ہے۔ اسے کل بھی بڑا پسند بھی کیا جاتا تھا۔ اور آج بھی پسند کیا جاتا ہے ۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب نوائے وقت میں کارکنوں کو تنخواہیں وقت پر نہیں ملا کرتی تھیں اور جب ملتی بھی تھیں تو آسان قسطوں میں۔

یہ صورت حال ملازمین اور کارکنوں کے لئے بڑی پریشانی کا باعث تھی، وہ یہ شکایت زبان پراس لئے نہیں لاتے تھے کیونکہ انہیں ڈر تھا کہ اگر خوگر حمد سے تھوڑا سا گلہ بھی ہو گیا تو انہیں ملازمت سے فارغ کر دیا جائے گا۔ ان حالات میں محترم عطا الحق قاسمی صاحب کبھی مایوس نہیں ہوئے اور شعری پیرائے میں اپنے دکھ بیان کر کے دل کا بوجھ ہلکا کرتے رہے۔ مگر یہ ”مخصوص شاعری“ ان کے دوستوں، اہل ادب اور نوائے وقت کے ملازمین تک ہی پہنچتی رہی۔

پھر ان پر شوق آوارگی کا جنون سوار ہوا تو انہوں نے سیر سپاٹے کا پروگرام بنالیا اور امریکا کے لئے رخت سفر باندھا۔ ان کے بہت سے ساتھی نہیں چاہتے تھے کہ یہ سمندر پار جائیں، اس لئے نہیں کہ وہ انہیں اونچی اڑان بھرتا نہیں دیکھنا چاہتے تھے بلکہ اس لئے کہ وہ مشکل حالات میں اپنی شگفتہ مزاجی اور بذلہ سنجی سے سب دوستوں کی پریشانیوں کو ہوا میں اڑا دیا کرتے تھے۔ لوگ سوچتے تھے اگر وہ بھی چلے گئے تو مشکلات میں جینا آسان نہیں رہے گا۔

بہرحال انہیں جانا تھا تو ان کے اعزاز میں دوست احباب نے نوائے وقت کی دفتری حدود ہی میں ان کے لئے ایک الوداعی تقریب سجا لی۔ ان دنوں مجید نظامی صاحب اور کارکنوں کے درمیان زیادہ فاصلے نہیں تھے۔ فیصلہ کیا گیا کہ مجید نظامی صاحب کو بھی بلا لیا جائے۔ چنانچہ انہیں بھی دعوت دے دی گئی، وہ آئے تو ان کے آنے کے بعد بھی عطاءالحق قاسمی صاحب کی بذلہ سنجی اور شگفتہ مزاجی کے رنگ فضاؤں میں بکھرتے رہے۔ کسی دوست نے شرارتاً فرمائش کردی کہ نوائے وقت کے حوالے سے آپ نے اقبال کے کلام میں جو تضمین کی ہے، وہ سنائیں۔

عطا الحق قاسمی صاحب نے ٹال دیا اور جب مجید نظامی صاحب نے کہا، ضرور، ضرور، آپ سنائیں۔ عطاءالحق قاسمی صاحب نے کہا ہم جب ماہانہ تنخواہ لینے کے لئے اکاؤنٹنٹ کے پاس جاتے ہیں تو وہ کبھی پوری تنخواہ یکمشت نہیں دیتے بلکہ جو کچھ کہتے ہیں، وہ بتائے دیتا ہوں۔ اور یہ کہہ کر انہوں نے ایک شعر شرکائے محفل کی نذر کیا۔ آپ بھی سن لیں۔

بنتے ہیں تیرے چار سو، فی الحال چار رکھ
پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ

یہ کلام سن کر مجید نظامی صاحب بھی بظاہر بڑے محظوظ ہوئے۔ آپ دیکھئے کہ اس شعر میں بھی عطاءالحق قاسمی صاحب کی رجائیت پسندی بولتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔

اس محفل میں شرکت کے بعد عطاءالحق قاسمی صاحب کی زندگی میں ایک نیا موڑ آ گیا۔ وہ سمندر پار چلے گئے اور وہاں جاکر سیر سپاٹوں کے ساتھ انہوں نے سفر نامہ نگاری شروع کردی۔ جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے احمد ندیم قاسمی صاحب نے اس سفر نامے کو فنون کے صفحات کی زینت بنایا۔ فنون میں یہ سفر نامہ قسطوں میں اہتمام کے ساتھ شائع کیا جاتا رہا۔ اس وقت فنون، سیپ، اوراق، نقوش، چٹان، ادب لطیف، محفل، افکار اور ایسے کئی جرائد تھے، جو بھارت کے شہر شہر میں بھی مقبول تھے۔

اس لئے عطاءالحق قاسمی صاحب کی شہرت کو بھی چار چاند لگتے چلے گئے۔ مجھے یاد ہے میرے بڑے بھائی سید عارف معین بلے کوایک بڑی کامیابی پر میرے والد بزرگوار سید فخرالدین بلے نے جو کتاب بطور انعام یا تحفتاً دی تھی، وہ شوق آوارگی ہی تھی اور یہ بھی کہا تھا کہ اس میں ایک باب ایسا بھی ہے کہ پتھر دل بھی پڑھ لے تو اس کی آنکھوں سے آنسوؤں کا چشمہ پھوٹ پڑے گا۔ اور پھر واقعی ایسا ہی ہوا۔ اولڈ پیپلز ہوم پڑھ کر عارف بھائی مجھے اپنے آنسو بار بار رومال سے خشک کرتے نظر آئے۔ اور جب ابو دفتر سے آئے تو انہوں نے کہا واقعی آپ نے صحیح فرمایا تھا۔ اولڈ پیپلز ہوم نے تو مجھے رلا کر رکھ دیا۔

عطا الحق قاسمی صاحب نے انشائیے تو نہیں لکھے لیکن جو ۔ عطائیے۔ لکھے ہیں، وہ انشائی رنگوں سے بھرپور ہیں۔ ڈاکٹر وزیر آغا اور احمد ندیم قاسمی دونوں اردو ادب کے دو مختلف مکاتب فکر سے وابستہ تھے۔ اور ان دونوں مکاتب فکر نے انشائیہ نگاری کی جو تعریف کی ہے، وہ ایک دوسرے سے بڑی مختلف ہے۔ اس حقیقت کے اعتراف کے ساتھ میں سمجھتا ہوں کہ ان دونوں مکاتب فکر سے وابستہ دو شخصیات ایسی ہیں، جن کی گفتگو ہی انشائیے سے کم نہیں۔

یا یوں کہیے کہ اگر کوئی یہ پوچھے کہ انشائیہ کیا ہوتا ہے تو انشائیے کی خوبیاں اور اس کے خدو خال اجاگر کرنے کے بجائے یہ کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ اگر آپ نے سرگودھا شہر کے ادیب، شاعر اور نقاد پروفیسر غلام جیلانی اصغر اور ہمارے محترم عطاءالحق قاسمی کی گفتگو سنی ہے تو بس اتنا جان لیں کہ یہی انشائیہ ہے۔ بلکہ بولتا ہوا انشائیہ ہے۔ اب اگر آپ نے کبھی انہیں نہیں سنا تو ان کے کالم پڑھ لیں، عطائیے پڑھ لیں، روزن دیوار سے عطا الحق قاسمی صاحب کی مزاحیہ، طنزیہ، شگفتہ اور شائستہ تحریروں کو پڑھ لیں، آپ کو پتا چل جائے گا کہ انشائیہ کیا ہوتا ہے۔

پروفیسر غلام جیلانی اصغر تو باقاعدہ انشائیہ نگار تھے اور انشائیے لکھ کر انہوں نے ادبی مجلے اوراق کے ساتھ ساتھ دنیائے ادب میں دھوم مچائے رکھی۔ فنون، جنگ اور نوائے وقت میں اپنے یہی تخلیقی رنگ عطا الحق قاسمی صاحب نے دکھائے اور خود کو بطور انشائیہ نگار متعارف کرانے سے گریزاں رہے۔ انشائیے لکھتے ضرور رہے۔ اور کالموں یا دیگر شگفتہ نگارشات کی صورت میں انہیں منظرعام پر لاتے بھی رہے۔ میرے اس موقف کی تائید کے لئے۔ خند مکرر، کالم تمام، آپ بھی شرمسار ہو، دھول دھپا، سرگوشیاں، جرم ضعیفی کافی ہیں۔ بازیچۂ اطفال، حبس معمول، بارہ سنگھے، مزید گنجے فرشتے، ہنسنا رونا منع ہے، علی بابا چالیس چور اور اپنے پرائے بھی ان کی ایسی شاندار کتابیں ہیں، جن میں آپ کو ان کی شخصیت کے بہت سے دلکش رنگ نظر آئیں گے۔

عطا الحق قاسمی صاحب کی جراءت و بے باکی کے نقوش میرے دل و دماغ میں محفوظ ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ صدر ضیاءالحق کے دور میں ایک حاضر سروس جنرل کا شعری مجموعہ منظرعام پر آیا تو اس کی تقریب رونمائی میں انہیں بھی اظہار خیال کی دعوت دی گئی۔ یہ اس دور کی بات ہے جب نوے دن کے لئے اقتدار میں آنے والے ضیاء الحق انتخابات کرانے سے کنی کترا رہے تھے۔ انکاری تو نہیں تھے لیکن اقتدار چھوڑنا بھی نہیں چاہتے تھے۔ اس آمرانہ دور میں کسی لگی لپٹی کے بغیر میرے محترم عطا الحق قاسمی صاحب نے حاضر سروس جنرل کے ایم عارف کے شعری مجموعے کے حوالے سے کہا یہ کتاب میں نے پڑھی اور اس میں سے کوئی شعر منتخب نہیں کر پایا تو مجھے احساس ہوا کہ واقعی ”انتخاب“ کرنا اور کرانا آسان کام نہیں۔ یہ جرات اور بے باکی بلاشبہ انہی کا خاصا ہے۔ انہوں نے ضیاء الحق کے تمام عزائم کوایک جملے میں بے نقاب کر دیا۔

Facebook Comments HS