ناول: انکشاف قسط 3

وہ ان گھروں اور دکانوں کے آگے سے گزرتے ہوئے، کوچہ رحیم جان کی طرف جا رہے تھے، جہاں ان دونوں کے گھر واقع تھے۔ ”یار سن! کل نہر پہ نہانے نہ چلیں۔ اتنی سخت گرمی ہے“ ۔ ایک سجیلا سا نوجوان اپنے ساتھی سے نہر پہ جانے کے لئے اسرار کر رہا تھا، جو موبائل پہ چیٹنگ کرنے میں مصروف تھا۔ ”وہ دونوں جب ذرا آگے بڑھے تو حمید پہلوان کی دکان پہ دہی لینے والوں کا وہ رش تھا، کہ گویا آج دہی ملنے کا آخری دن ہے اور کل سے شہر میں دہی نایاب ہو جائے گا۔
“ یار پہلوان! پہلے مجھے دو کلو ڈال دے۔ کب سے کھڑا ہوں ”۔ ایک بوڑھے میاں بالٹی آگے بڑھائے حمید کو متوجہ کر رہے تھے، جو کبھی نوٹ گننے تو کبھی دہی ڈالنے میں مصروف تھا۔“ اچھا باؤ جی! چنگا فیر۔ کل دس کلو مل جائے گا۔ ٹینشن ناٹ میرے بادشاہو ”حمید نے سینے پہ ہاتھ مارتے ہوئے، ایک شخص سے مودب انداز میں مصافحہ کرتے ہوئے کہا، جس کے بال بہت لمبے اور ہاتھ انگوٹھیوں سے سجے تھے۔
اس وقت اللہ دتہ حجام موبائل کی مدھم سی روشنی میں اشرف کی شیو بنا رہا تھا، اور ساتھ والا دکاندار حنیف اس کی دکان کے تھڑے پہ کھڑا ہو کر، سامنے والے گھر کے مالک کی بیٹی کو تاڑ رہا تھا، جو چھت پہ بیٹھی ہاتھ پنکھا جھل رہی تھی۔ اصفہاں جو اس سارے قضیے سے آگاہ تھا، اس نے حنیف کو جب گھورا تو اس نے شرما کر نگاہیں دوسری طرف پھیر لیں۔ ”کیا بے غیرتی ہے۔ اس کی اپنی جوان بیٹی، فیکے کمہار کے ساتھ ہوٹل میں رنگ رلیاں مناتی ہے اور یہ دوسروں کی بچیوں کو تاڑتا پھر رہا ہے“ ۔ اصفہان اس شخص حنیف کی بے خبری اور عشق بازی پہ زیر لب بڑبڑاتا، گھر کی جانب جا رہا تھا۔
بابا عبدالشکور جب اپنے محلے میں داخل ہوا تو اسے وہی اپنا محلہ آج سونا سونا اور عجیب سا محسوس ہو رہا تھا۔ ایسا لگتا تھا کہ اس کے در و دیوار گویا عبدالشکور کا منہ چڑا رہے ہیں۔ وہی گلیاں، وہی گندگی سے اٹی نالیاں، وہی گھروں میں چھوٹے بچوں کا شور، وہی اصغر فقیر کی بھیک مانگنے کی صدا، وہی دربار ہوٹل پہ برتن کھنکنے اور بیرے کی آوازیں، الغرض سب کچھ تو وہی تھا، مگر نہ جانے کیوں بابا کو ایسا لگ رہا تھا کہ یہ اس کا وہ محلہ نہیں بلکہ کوئی دوسری جگہ ہے، جہاں وہ پہلی مرتبہ داخل ہوا ہے اور یہاں کا ہر شخص اجنبی نگاہوں کے ساتھ اسے گھور رہا ہے۔
”بابا! اللہ کی مرضی۔ بہت افسوس ہوا۔“ ایک پچاس برس کا موٹا سا شخص، کاٹن کی سفید شلوار قمیص اور کالی واسکٹ میں ملبوس، ہاتھ میں راڈو گھڑی پہنے مصنوعی غم کی کیفیت چہرے پہ سجائے، عبدالشکور سے راستے میں بغلگیر ہوا۔ ”میں دراصل چیئرمین صاحب کی سالی کے داماد کے پوتے کی مبارک باد دینے گیا ہوا تھا، اس لئے جنازے میں نہ آ سکا“ ۔ یہ کہہ کر اس نے اپنا دامن بابا سے یوں الگ کیا، جیسے اس نے کوئی بوجھ اٹھا رکھا ہے۔ ”کوئی بات نہیں کونسلر صاحب! آپ نے افسوس کر دیا بس یہی کافی ہے۔“ ادھر کونسلر صاحب اپنی قمیص اور واسکٹ کو یوں جائزہ لے رہے تھے، جیسے عبدالشکور جیب کترا ہے، اور ادھر اصفہان اس سفاک شخص کو دیکھ کر، اندر ہی اندر غصے سے پیچ و تاب کھا رہا تھا، جو انسانیت کے لبادے میں ایک حیوان تھا۔
”سچ کہتے ہیں کہ غریب کا کوئی رشتہ دار نہیں ہوتا۔ یہاں بابا کا جواں سالہ بیٹا مر گیا تو اس کے لئے محلے کے کونسلر کے پاس اس کے گھر جاکر افسوس کرنے یا جنازہ پڑھنے کا وقت نہیں تھا، مگر دوسری طرف چیئرمین کی سالی کے داماد کے پوتے کی مبارک باد اس قدر لازمی تھی، کہ یہ شخص وہاں پہنچ گیا۔“ اصفہان جی ہی جی میں کونسلر کو گالیاں دے رہا تھا، جو وہاں کھڑے لوگوں سے بس دو انگلیاں ملا کر مصافحہ کرنے میں مصروف تھا۔
”یار عبدالشکور! اللہ کی مرضی۔ مجھے تو آج پتہ چلا کہ تمہارا بیٹا بیمار تھا۔“ ایک بڑی عمر کے باریش صاحب، جو بابا کے پڑوسی تھے، وہ کہیں سے آ دھمکے اور عبدالشکور کو ایسے چپٹ گئے جیسے مکھی مٹھائی سے۔ بابا بھی رسمی انداز میں مجبوراً اسے ملے۔ ”کیا ہوا تھا تمہارے بیٹے کو؟ سنا ہے کوئی جادو وادو تھا؟“ وہ ایک لے میں انسانی ہمدردی کے جذبات سے عاری بے تکان بولے چلا جا رہا تھا، جبکہ عبدالشکور اس کی منافقت بھری باتوں کو نظرانداز کر کے، ایک سامنے والی دکان کو دیکھ رہا تھا، جہاں ایک بائیس برس کا نوجوان قرآن مجید پڑھ رہا تھا ”بس اللہ بیڑہ غرق کرے ان جادو کرنے والوں کا۔
تم نے کسی کا کیا بگاڑا تھا؟“ ۔ عبدالشکور ایک ناگوار انداز میں دائیں بائیں دیکھ کر ہاتھ چھڑا کر اس کے پاس سے نکلنا چاہتا تھا، مگر وہ کسی طرح بھی ہاتھ چھوڑنے کو تیار ہی نہیں تھا۔ اصفہان کے چہرے پہ بھی ناگواری کے آثار تھے اور وہ اندر ہی اندر سوچ رہا تھا، کہ بابا کا بیٹا پانچ سال بیمار رہا، لیکن اس کے پڑوسی کو پتہ تک نہ چلا اور نہ ہی اسے آج جنازہ پڑھنے کی توفیق ہوئی۔ ”بس حاجی صاحب! اللہ کی یہی مرضی تھی۔ میرا بیٹا اسی کا مال تھا، اسی نے لے لیا۔ میں ہر حال میں اس کا شکر ادا کرتا ہوں“ ۔ عبدالشکور بابا نے ایک غمگین انداز میں اس کی تعزیت کا جواب دیا اور پھر خاموش ہو گیا۔ ”ہاں وہ تو ٹھیک ہے مگر یہ جادو ٹونے والے بھی آج کل۔“ باریش شخص نے پھر تان وہیں سے جوڑی۔
”بابا چلیں! مجھے کالج کا لیکچر بھی تیار کرنا ہے“ ۔ اصفہان نے مجبوراً دخل در معقولات کیا، تاکہ اس شخص سے خلاصی ہو۔ ادھر بابا نے بھی زبردستی اپنے پڑوسی سے ہاتھ چھڑایا اور سلام کر کے، اصفہان کے ساتھ تیزی سے اپنے کوچے کی جانب نکل گیا۔

