عمران اور بیرونی ایجنڈا: اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے

جنرل عاصم منیر کے آرمی چیف بننے سے پہلے ہی عمرانی سوشل میڈیا نے ان کے خلاف مہم جوئی شروع کر دی جنرل عاصم منیر کی کردار کشی کے لئے نادرا اور ایف آئی اے کا ریکارڈ تک چھان مارا گیا۔
عمران خان نے ان کی تقرری سے دو دن قبل پنڈی میں دھاوا بولا، مگر ناکامی مقدر ٹھہری۔ ان ناکامیوں پر زمان پارک میں اپنے زعم کے مطابق آخری وار کی تیاری میں جت گئے۔ عمران کی گرفتاری کی صورت میں ٹائیگرز نے اپنے اپنے ٹارگٹ پر دھاوا بولنا تھا۔ 9 مئی 2023 ءکو اس فورس نے وہ قیامت برپا کی، جس پر بھارت بھی خوشی کے شادیانے بجائے لگا۔ کہ جو کام ہم 75 برسوں میں نہ کرسکے، وہ عمران نے چشم زدن میں کر دکھایا۔
عمران خان کو بلاشبہ اندرونی و بیرونی قوتوں کی شہ حاصل تھی۔ ججز عدالتوں میں پیشی پر انہیں ’گڈ ٹو سی یو‘ کہہ کر مخاطب کرتے اور آئندہ قائم ہونے والے مقدمات میں بھی ضمانتیں دیتے رہے۔ 9 مئی کے واقعات کی مذمت کرنے کے بجائے عمران نے کہا کہ میں تو قید تھا، مجھے کیا معلوم کہ باہر کیا ہوتا رہا اور ساتھ ہی یہ دھمکی بھی دی کہ اگر مجھے دوبارہ گرفتار کیا گیا تو اس سے زیادہ سنگین ری ایکشن آئے گا۔ کبھی وہ ایجنسیوں پر الزامات لگاتے رہے اور کبھی کہا ان کے ورکرز نے رینجرز کے ہاتھوں گرفتاری کا منظر دیکھ کر یہ ردعمل دیا۔
9 مئی کی حماقت کے بعد بھی وہ مزید حماقتوں سے باز نہیں آئے اور اب بھی اپنے سوشل میڈیا بریگیڈ کے ساتھ سرگرم عمل ہیں۔ دنیا جہان میں چیخ و پکار مچائی جا رہی ہے۔ کہ ملک میں بنیادی حقوق روند ڈالے گئے ہیں۔ امیر کبیر اعلیٰ تعلیم یافتہ بڑے بڑے خانوادوں کی خواتین کو قید و بند میں جنسی طور پر ہراساں کیا جا رہا ہے۔
آرمی چیف عاصم منیر اور پاک فوج کی کردار کشی کے لئے امریکہ، برطانیہ سمیت نیٹو کے ہر ملک میں سوشل میڈیا پر ہمہ وقت اس کام میں مصروف ہیں، جس میں عالمی طاقتیں برسوں کوشاں رہنے کے باوجود ناکام رہیں۔ ”اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے“ کے مصداق عمران خان نے عالمی طاقتوں کے ایجنڈے کو اپنا لیا ہے۔ 9 مئی کو پاک فوج کے وقار کی ہر علامت کو خاکستر کر نے کے باوجود لگتا ہے کہ وحشت کی آگ ٹھنڈی نہیں ہوئی۔
انٹرنیشنل میڈیا کو دیے جانے والے اپنے انٹرویوز میں ایک طرف عمران خان نے آرمی چیف کو اپنے نشانے پر رکھا تو دوسری جانب 9 مئی کے سانحہ پر ایک نئے سے نیا بیانیہ تشکیل دیا کہ وہ تو فالز فلیگ آپریشن تھا ( ایک ایسا دہشتگردانہ حملہ جو کوئی ملک یا ایجنسی اپنے ہی عوام یا سرزمین کے خلاف کرے تاکہ دشمن ملک، جماعت یا ایجنسی کو اس بنیاد پر جارحانہ حکمت عملی کا نشانہ بنایا جا سکے۔ ) جس کا مقصد انہیں فوجی عدالت سے سزا دلوا کر جیل میں ڈالنا تھا۔ تحریک انصاف نے جناح ہاؤس حملہ میں شامل جس شخص کو ایجنسیوں کا آدمی کہا، وہ بھی تحریک انصاف کا سپورٹر نکلا۔
اب پی ٹی آئی کے لیڈران امریکی کانگریس اراکین کے ذریعے امریکہ کی طرف سے دباؤ ڈالنے اور پاکستان کی فوجی امداد بند کرانے کے لیے سرگرم ہیں۔ جو بات بہت تشویش ناک ہے وہ یہ کہ امریکہ میں ایسی قانون سازی ہو جس کے ذریعے پاکستانی فوج کی امریکی امداد کو انسانی حقوق کے ساتھ منسلک کیا جائے۔ امریکہ کے شہر آسٹن میں پی ٹی آئی امریکا کے صدر عاطف خان نے وفد کے ہمراہ کانگریس مین گریگ کیسار سے ملاقات کی اور کہا کہ 86 کانگریس ممبران نے ہماری پٹیشن پر دستخط کیے ہیں، ہم چاہتے ہیں آپ بھی اس کا حصہ بنیں۔ گریگ کیسار نے کہا کہ میں کانگریس سے کہوں گا کہ امریکا پاکستان میں جمہوریت اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر سوال اٹھائے۔ ملاقات میں چیئرمین پی ٹی آئی کے فوکل پرسن برائے امریکا سجاد برکی بھی موجود تھے جنہوں نے اس ملاقات کی ویڈیو اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر شیئر کی۔
عمران خان نے خود بھی اس سے پہلے امریکی کانگریس کی خاتون رکن میکسین واٹرز سے مدد طلب کی اور بین الاقوامی میڈیا کا سہارا لے کر امریکہ سے پاکستان کی سیاست میں مداخلت کی اپیل کی۔ انٹرویو میں صحافی نے سوال کیا کہ امریکہ سے آپ کیسی مدد چاہتے ہیں جبکہ ماضی میں آپ نے امریکہ پر ملکی معاملات میں مداخلت کا الزام عائد کیا تھا۔ اس پر عمران خان نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ امریکہ دخل اندازی کرے اور جیسے وہ اخلاقیات کی بات پوری دنیاروس، چین اور ہانگ کانگ کے بارے میں کرتا ہے کہ ریاستی تشدد کے خلاف ہم آئین و قانون اور انسانی حقوق کے ساتھ کھڑے ہیں۔
یہی بات وہ ہمارے لیے کرے۔ پاکستان میں آرمی اور انٹیلی جنس ایجنسیاں بہت طاقتور ہیں۔ سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے موجودہ حکمرانوں کے ساتھ سازش کر کے مجھے اقتدار سے نکالا۔ موجودہ ملٹری اسٹیبلشمنٹ اور حکومت سے میری زندگی خطرے میں ہے۔ مجھے گولیاں ماری گئیں۔ 99 فیصد پاکستان میرے ساتھ ہے۔ التجا ہے آپ میرے حق میں آواز اٹھائیں۔ میری پارٹی کو ”بدترین کریک ڈاؤن“ کا سامنا ہے ملک کی تاریخ میں کسی جمہوری جماعت نے ایسے کریک ڈاؤن کا سامنا نہیں کیا۔ ہم صرف ایک بیان چاہتے ہیں جس میں اس کریک ڈاؤن کو نمایاں کیا جائے، یہ بیان ہماری مدد کرے گا۔
پی ٹی آئی نے یہ افواہ بھی اڑائی کہ امریکہ نے ٹریول ایڈوائزی جاری کرتے ہوئے اپنے شہریوں کو پاکستان میں سفر کرنے سے روک دیا ہے۔ یہ بڑی خطرناک سازش تھی۔ اس سے عالمی سطح پر پاکستان کا امیج تباہ ہو سکتا تھا۔ اس خبر کی امریکی حکام نے تردید کر دی۔ اور کہا کہ ایسا صرف سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ ہی کرتی ہے۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ عمران سیاسی دشمنی میں کتنا اگے جا چکے ہیں کہ اچھے برے کی تمیز ہی کھو بیٹھے ہین۔
عمران خان کو امریکہ کا ماضی یاد رکھنا چاہیے جس نے جمہوریت، انسانی حقوق، حقوق نسواں جیسے بہانے تراش کر عراق، لیبیا، افغانستان اور شام وغیرہ کو تباہ و برباد کیا۔ تحریک انصاف نے تو Absolutely not کا نعرہ بلند کیا تھا لیکن اپنے سیاسی مفاد کے لئے اسی امریکہ سے اب پاکستان پر دباؤ ڈالنے، اس کی امداد بند کرنے اور مداخلت کرنے کی التجائیں کر رہی ہے! 9 مئی کو پورے ملک میں ہر جگہ ہی احتجاج کے لئے حساس دفاعی مقامات کا انتخاب کرنا اس بات کی مثال ہے کہ یہ ایک طے شدہ پلان کا حصہ تھا۔
اپنے مفاد کے لئے پی ٹی آئی کا طریقہ واردات یہ ہے کہ احتجاج کے نام پر توڑ پھوڑ تشدد کر کے پولیس کو لاٹھی چارج پر مجبور کر دو۔ اور پھر تشدد کا واویلا کرو اور اگر پولیس تصادم نہ کرے تو پھر میڈیا میں سوال اٹھا دو کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار کہاں تھے؟ کہا گیا 25 کارکن مارے گئے اور اس پر کوئٹہ کے شہیدوں کے جنازوں کی وڈیو چلا دیں۔ جب پوچھا گیا کہ یہ پچیس جنازے کہاں اٹھے تو پھر خاموشی۔ مرد پکڑے جائیں تو اغوا کا شور، انہیں عدالت میں پیش کر دیا جائے تو انھیں برہنہ کر کے تشدد کا الزام، خواتین گرفتار ہوں تو ریپ کے شرم ناک الزامات کی گردان، خواتین عدالت میں آ کر جھوٹ کا پول کھول دیں تو شرمساری کے بجائے نیا جھوٹا بیانیہ بنا لینا۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ ان تمام حقائق کے بعد عمران خان کو ایک سیاسی رہنما اور تحریک انصاف کو کیا ایک سیاسی جماعت کہا جا سکتا ہے۔ سیاسی جماعتیں سیاست کرتیں اور سیاسی چالیں چلتی ہیں لیکن وہ کبھی ملک و قوم اور ریاستی اداروں کے خلاف سازشیں نہیں کرتیں۔ اب تو یہ زبان زد عام ہے کہ عمرانی لابی کی بیرونی قوتوں کی مدد کے باعث کارروائی میں رکاوٹیں ہیں لیکن ان بارودی سرنگوں کی صفائی کا کام شروع ہو چکا ہے۔ اس کا اظہار آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کی زیر صدارت فارمیشن کمانڈرز کانفرنس کے اعلامیے سے ہوتا ہے۔
آرمی چیف نے کہا کہ پاکستان کی عوام اور مسلح افواج کا باہمی تعلق قومی سلامتی میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ اداروں اور سیکورٹی فورسز پر پر تشدد حملے، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور سیاسی سرگرمیوں روکنے کے بے بنیاد الزامات کا مقصد عوام کو گمراہ کرنا اور مسلح افواج کو بدنام کر کے مذموم سیاسی مفادات حاصل کرنا ہے۔ ملک دشمن عناصر اور ان کے حامی، جعلی اور بے بنیاد خبروں اور پروپیگنڈا سے معاشرتی انتشار پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، فرضی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے پیچھے پناہ لینے کی تمام کوششیں بے سود ہیں،
شرکا نے کہا کہ ریاست اور ریاستی اداروں کے خلاف نفرت پروان چڑھانے، ملک میں افراتفری پھیلانے والوں، منصوبہ سازوں اور ماسٹر مائنڈز کو پاکستان آرمی اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ، کے ذریعے جو آئین پاکستان کے تحت ہیں کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔

