کتاب، رند، لاشار جنگ ایک نظم


زیر دید کتاب ایک تاریخی کتاب کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ کتاب رند لاشار جنگ ایک نظم کے نام پر 2018 میں سید ہاشمی ریفرنس لائبریری کی جانب سے شائع ہوا ہے۔ اس کتاب کا مصنف غلام رسول کلمتی ہے جو ایک مورخ، دانشور، مفکر، شاعر اور ماہر لسانیات، ماہر لوک ادب، محقق اور ایک بزرگ شخصیت ہیں۔ ان کے چند اور کتابیں منظر عام پر آئی ہیں لیکن یہاں میرا موضوع مذکورہ کتاب ہے۔ اس کتاب کو مصنف نے اپنے نانا حاجی یار محمد آدم اور ماموں حاجی محمد صدیق کے نام منسوب کیا ہے جو انہیں کے زیر سائے میں پرورش پایا ہے۔

غلام رسول کلمتی نے مذکورہ کتاب کو ایک نظم سے ماخذ کیا ہے چونکہ بلوچ، تاریخ میں رند اور لاشاروں کے درمیان ایک طویل جنگ ہوئی تھی جو تقریباً تیس سالوں کے دوران دونوں قبیلوں کے درمیان میں کئی قیمتی جانیں زیاں ہوئی ہیں پتا نہیں کتنے بے گناہ لوگ اس جنگ کے آڑے میں اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

اس جنگ کی داستان کو مصنف نے مذکورہ کتاب کے توسط سے لوگوں کے درمیان پیش کرنے کی سعی کی ہے۔ اس جنگ کی ایک تاریخی حیثیت بلوچ تاریخ کے اندر پائی جاتی ہے اور اس دور کے پہلوانوں نے مختلف شعروں کے ذریعے رند و لاشار جنگ کا منظر پیش کیا ہے۔

اس کتاب کے اندر آپ کو کئی موضوع مل جاتے ہیں جو بلوچ تاریخ کے حصے ہیں اس کتاب کو پڑھنے کے بعد آپ بلوچ کی تاریخ کے ایک حصے سے واقفیت ضرور رکھتے ہوں گے اور بلوچ سے شناسائی ہوگی۔ چونکہ یہ ایک مستند کتاب ہے اس بات کو مصنف نے ریفرنسز کے ذریعے ثابت کیا ہیں۔

غلام رسول لکھتے ہیں ”دنیا کی تاریخ کا اگر مطالعہ کیا جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ پوری تاریخ روایتوں، کہانیوں اور نظموں سے مرتب ہوئی ہے، خواہ وہ یونانی دیومالائی اساطیر ہوں یا ہندوستان کی قدیم تاریخ ہو جو آریاؤں کی قدیم نظموں سے تشکیل پائی ہے۔ ایران کے معروف شعرا بہار اور فردوسی کی طویل نظموں سے آج ایران کی صدیوں کی تاریخ تشکیل دی گئی ہے۔ اسی طرح اگر ہم ابن خلدون کی تاریخ کا جائزہ لیں یا طبری کی تاریخ کو پڑھیں تو تمام تر سینہ بہ سینہ منتقل ہونے والی روایتوں سے تشکیل پا کر تحریری تاریخ کی صورت اختیار کر گئی ہیں اگر نظموں اور زبانی روایتوں کو تاریخ سے نکال دیا جائے تو پھر تاریخ نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہتی“ ۔ اس بات سے کوئی شک نہیں قدیم نظموں میں پوری کی پوری تاریخ ملتی ہے۔

چونکہ بلوچی کلاسیکی شاعری میں بلوچ کی پوری تاریخی شوہد ملتے ہیں بلوچ کی تاریخ کی روایت وہاں سے ہیں جو مختلف پہلوانوں کی آوازوں میں قید ہیں یا سینہ بہ سینہ چلتے آرہے ہیں۔ جس طرح بلوچوں کی عشقی داستانیں ہیں ہانی شے مرید، مہناز شہداد، مہرک عزت، سمو مست اور کئی ایسی داستانیں ہیں جو سینہ بہ سینہ چلے آ رہے ہیں چونکہ یہ صرف داستانیں نہیں ہے بلکیں بلوچ کی پوری ثقافت، عزت، عادت و اطوار، روایت ہیں جو ان داستانوں کے اندر ملتے ہیں اور سارے داستانیں خود ایک تاریخ کی حیثیت بلوچ تاریخ کے اندر اعلیٰ مقام رکھتے ہیں۔

اس کتاب میں مصنف بلوچ کا اصل وطن کے حوالے سے بحث کرتے ہیں کہ ”بلوچ ہزاروں سالوں سے اس سرزمین پر آباد ہیں جسے موجودہ وقت میں بلوچستان کہتے ہیں۔ ہاں یہ الگ بات ہے کہ اس زمانے میں بلوچستان اس نام سے موجود نہ تھا بلکہ یہ مختلف ریاستوں پر مشتمل تھا اور ہر ریاست کی اپنی الگ پہچان تھی“ مذکورہ کتاب میں مصنف نے کئی موضوعات پر سیر حاصل بحث کی ہیں۔ کیا بلوچ کا اصل وطن حلب ہے، میاہ سوار کون؟ ، میاہ سوار کی سرکشی، میاہ سوار کا اسلامی لشکر سے معاہدہ، بلوچ حلب میں، حلب سے بلوچوں کی نقل مکانی، امیر حمزہ کون؟ ، خلیفہ ہارون رشید کا خط امیر حمزہ کے نام، امیر حمزہ کا جواب ہارون رشید کے نام، ترکوں کی یلغار، رند و لاشار، مہیری گوہر، رایچی، لاوچی، اطراف کی طاقتوں پر بھروسا ̧جنگ کی تباہ کاریاں، جنگ کا اختتام، آغاز نظم یہ سارے سرحالوں پر غلام رسول کلمتی ریفرنسوں کے توسط سے ثابت کیا ہے۔

مجموعی نقطہ نظر سے دیکھیں تو مذکورہ کتاب تاریخی روایتوں کے حساب سے ایک جامع کتاب ہے جو بلوچ تاریخ کی تسلسل ہے جو ایک حد تک واجہ غلام رسول کلمتی نے یہ ثابت کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے۔ بلوچ کو واضح کیا کہ یہ اصل بلوچستان کے باسی ہیں یہ کئی نہیں آئے بلکہ ہزاروں سالوں سے یہاں آباد ہیں۔ چونکہ کتاب کا اصل موضوع رند و لاشار کی جنگ ہیں جو مصنف نے بہت خوبی سے اس جنگ کا احاطہ کیا ہے۔ اگر آپ کو بلوچ، بلوچستان کی تاریخ کے بابت جانے کا شوق ہے تو اس کتاب کو ضرور اپنے تکیے کے نیچے رکھنے میں تامل نہ کریں۔ اس کتاب سے آپ کو بہت کچھ ملے گا اگر آپ تاریخ کا ذوق رکھتے ہیں۔

Facebook Comments HS

ملک جان کے ڈی

ملک جان کے ڈی بلوچستان کے ساحلِ سمندر گوادر کے گیٹ وے پسنی مکران سے تعلق رکھتے ہیں۔ ادب کا مطالعہ، ادبی مباحث اور ادب کی تخلیق ملک جان کے ڈی کا اوڑھنا بچھونا ہیں، جامعہ کراچی میں اردو ادب کے طالب علم اور سوشل ایکٹیوسٹ ہیں

malik-jan-k-d has 19 posts and counting.See all posts by malik-jan-k-d