پاکستانی سیاست، فوج اور عوام


پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتحال سے پاکستان کا تقریباً ہر شہری پریشان ہے اور مزید اس یہ پریشانی بڑھ رہی ہے۔ پاکستان 1947 کو آزاد ہوا۔ آزادی کے وقت میں پیدا نہیں ہوا تھا؛اس لیے مجھے نہیں معلوم کہ اس وقت کی سیاست کا رنگ کیا تھا اور تحریک پاکستان کے کارکنان نے تاریخ کے مطابق لاکھوں جان کی قربانیاں دے کر اس ملک کو کس بیانیے پر آزاد کروایا تھا۔ دو قومی نظریہ جسے قرآن سے ماخوذ بتا کر سرسید سے قائد اعظم تک پہنچایا گیا اور پھر اس دو قومی نظریے کی تعریف کی تعین میں حذف و اضافہ سے ثابت ہو گیا کہ دو قومی نظریہ کا تحریک پاکستان سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

آزادی کے بعد ہندوستان نے ملک کو سنبھلنے نہ موقع نہ دیا اور 1948 میں کشمیر ریاست کے الحاق کے تنازع سے پہلی باقاعدہ جنگ شروع ہوئی یا جان بوجھ کر گئی جس سے فوج نے اس نوزائیدہ ملک کی کمان سنبھالی جو ہنوز 72 سال گزرنے کے بعد بھی پورے اختیارات اور جاہ و جلال کے ساتھ اسی کے پاس موجود ہے۔ 1948 کی جنگ میں ناکامی کے بعد پاکستان مستقل فوج کی نگرانی میں چلا گیا جس کی تربیت برطانوی نظام حکومت کے تحت ہوئی تھی ؛سو، اس طرح 1965 تک فوجی حکمران پاکستان کی تقدیر پر حرف آخر بن گئے۔

گاہے گاہے سیاست دانوں کی آنی جانیاں ہوتی رہیں اور بات 1965 تک آ پہنچی۔ یہ جنگ بھی سیاست دانوں کی باہمی چپقلش اور ذاتی مفادات سے شروع ہوئی جس سے فوج نے بھرپور فائدہ اٹھایا اور مزید اپنی کمک کو توانا کیا اور ملک کے وسیع و عریض اراضی پر قبضہ جمایا جس پر بہت بعد کو ڈی ایچ اے اور عسکری ایسے شاہکار رہائش گاہیں تعمیر ہوئیں جس میں عام انسان کا داخلہ ممنوع ہے۔ 1965 کے بعد سیاست دانوں نے خود کو سچا اور دوسرے کو جھوٹا ثابت کرنے کے لیے باہم دست و گریبان تار تار کرنے کی کوشش کی جس کا نتیجہ 1972 کی جنگ اور مشرق پاکستان کی علاحدگی کی صورت میں نکلا۔

اس علاحدگی کی ذمہ دار فوج کو ٹھہرایا گیا جبکہ پیپلز پارٹی نے اس تقسیم در تقسیم کے عمل کو انا، گھمنڈ، تکبر اور جئے بھٹو کی یلغار سے ممکن بنایا اور پھر پھانسی پر چڑھ کر اپنی میراث کو محفوظ کرنے اور ورثا کے لیے ہمیشہ پاکستان پر مسلط رہنے کی راہ ہموار کر گیا۔ 1972 کے بعد فوج نے سرحدوں کا رخ کیا اور اپنے پیشہ ورانہ امور کی انجام دہی میں زیادہ وقت گزارنے کی کوشش کہ پھر ایک فوجی آمر کو دعوت دی گئی کہ ہم سے یہ ملک سنبھلتا نہیں آپ ہی مسیحا ہیں ؛آئیں اور اس ملک کو سنبھالیں، یوں پے در پئے فوجی آمروں نے ملک کی سالمیت کو سیاست دانوں کے مذموم مقاصد سے محفوظ رکھنے کے لیے اس کی کمان کو اپنے ہاتھوں میں لیا اور بات نواز شریف کی سیاست میں انٹری پر جا پہنچی۔

نوے کی دہائی میں نواز شریف اور بے نظیر بھٹو نے سیاست کو بچے کا کھلونا سمجھ کر کھیلنا شروع کیا۔ میں وزیراعظم ہوں، نہیں میں وزیر اعظم ہوں۔ ان شرارتی بچوں کے خطرناک کھیل کو پھر ایک فوجی آمر نے آ کر ختم کیا اور 2008 تک پھر ان ضدی بچوں کو کمزور کھلونے سے کھیلنے کا موقع نہ دیا۔ 2008 کے بعد سیاست دانوں نے باہم مل کر طے کیا کہ اب ہم جمہوریت جمہورے کا راگ الاپیں گے اور کسی فرد واحد کو اس ملک کا صاحب اختیار اور مالک کل ہونے کا موقع نہیں دیں گے۔

عوام جو روٹی، کپڑا اور مکان کی فکر میں 60 برس سے مارے مارے پھر رہے ہیں وہ کیا جانے کہ یہ سیاست دان ہمیں کیا کہہ رہے ہیں اور کیا کرنا چاہتے ہیں ہمارے ساتھ۔ عوام نے تقسیم کے وقت اسی روٹی، کپڑے اور مکان کو ہندوستان چھوڑا تھا تاکہ ہمیں دوبارہ ان بنیادی ضرورتوں کی فکر میں اپنا تن، من دھن ضائع نہ کرنا پڑے مگر ان کی قسمت میں وہی پرانی محنت و مشقت کی بیماری لکھ دی گئی ہے کہ بیٹا جینا ہے تو کماؤ اور ہمیں بھی کھلاؤ اور اوروں کو بھی کھانے دو اور خبردار شور نہ کرو اور بات اونچی نہ کرو، ورنہ مار دیے جاؤ گے، اٹھا لیے جاؤ گے اور گمنام کر دیے جاؤ گے وغیرہ وغیرہ۔

2008 سے 2023 یعنی اب تک کسی فوجی آمر نے ملک کے نظام کو اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش نہیں کی۔ شکر کا کلمہ پڑھنا چاہیے یا پھر افسوس کرنا چاہیے یا خوش ہونا چاہیے یا پھر خاموش رہنا چاہیے۔ کیا کرنا چاہیے۔ یہ مفصل تمہید اس لیے باندھی گئی ہے کہ موجودہ صورتحال میں سیاست دانوں کے روئیے اور ان کی سیاست حکمت عملی اور سیاسی بیانیے کو ایک عام انسان کس طرح سمجھے؟ اس ملک کی آزادی سے لے کر آج تک مجموعی طور پر سیاست دانوں کی طرز سیاست کو تنقیدی زاویے سے دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ سیاست دانوں نے ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے، اقتدار چھیننے اور فوج کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے اور ان کی طاقت کو وسیلہ بنا کر عوام میں پذیرائی حاصل کرنے مسیحا و راہنما بننے کی کوشش میں ملک کو جتنا نقصان پہنچایا ہے وہ ان کے دیے ہوئے فائدے سے بہت زیادہ ہے۔

سوال یہ ہے کہ فوج سیاست دانوں کے پاس آئی یا سیاست دان فوج کے پاس گئے؟ فوج کو ملک کی آزادی کے بعد مالک کل کا اختیار کس نے دیا؟ مارشل لا کے ذریعے ملک کو ایک فرد واحد نے کس طرح اپنے ہاتھوں میں لیا اور پھر یہ سلسلہ دور تک چلا؟ سیاست دان اتنے کمزور کیوں ہیں کہ ان سے اداروں کو کنٹرول کرنا، احتساب کرنا اور انصاف کے تقاضوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے ملک کو درست سمت کر استوار کرنا کیوں ممکن نہیں ہو سکا؟ ان سوالات کی زد میں آنے والی عوام ہے جسے جاہل رکھا گیا ہے، اس کے شعور کو پنپنے نہیں دیا گیا ہے، اس کی بنیادی ضرورتوں کو پورا نہیں ہونے دیا جاتا۔

اس کے لیے فلاحی ریاست کی طرح بنیادی سہولتوں کی فراہمی کو ممکن نہیں بنایا جاتا اور بہت کچھ ایسا ہے جس سے اسے محروم رکھا جاتا ہے۔ اس ملک میں تین بڑے ادارے ہیں جو اس کی تقدیر کا فیصلہ کرتے ہیں۔ سیاست دان، فوج اور عوام۔ سیاست دانوں کی جملہ حکومتی عہد کو تاریخ کے تناظر میں دیکھیں تو پتہ چلتا ہے کہ انھوں نے ملک کو کم اور خود کو زیادہ فائدہ دیا ہے۔ سیاست میں ہر وہ برائی، نقص اور کمی موجود ہے جو اسے معتوب قرار دینے کے لیے کافی ہے۔

پاکستان میں سیاست کوئی دینی اور فلاحی کام نہیں بلکہ ایک ہائی پروفائل انوسٹمنٹ بزنس ہے جس میں عام فرد کا کوئی سروکار ہی نہیں۔ سیاست کتنی گندی، غلیظ اور عیب سے معمور ہے۔ اس کا اندازہ سیاست دانوں کی تقاریر، بیانات، ٹاک شوز سے باآسانی لگایا جاسکتا ہے۔ پاکستان میں پچھلے پندرہ برسوں میں مجھے تین نام سننے کو ملے ہیں۔ گویا پاکستان میں تین لوگ ہیں جنھیں پیغمبر کی حیثیت حاصل ہے اور ان کی سیاسی عبادت کی جاتی ہے اور میڈیا ان کے فضائل و برکات اور ملفوظات کی تبلیغ کا کام انجام دے رہا ہے۔

وہ تین نام ؛عمران خان، آصف علی زرداری اور نواز شریف ہیں۔ یہ تینوں شخص ایک دوسرے کو برا بھلا کہتے ہیں اور ملک کا سب سے بڑا چور، ڈاکو اور لٹیرا قرار دے کر خود ملک کی تقدیر سنوارنے کا واحد ذریعہ سمجھتے ہیں۔ سیاست دان ایک دوسرے کے خلاف ہر وہ حربہ، ہتھکنڈہ اور ناجائز ذریعہ استعمال کرتے ہیں جس سے اپنے ووٹ بینک کو بڑھایا جائے اور حکومت حاصل کرنے کی راہ ہموار کی جائے۔ فوج نے کبھی کسی کو برا نہیں کہا۔ فوج نے کبھی کسی کی پگڑی نہیں اچھالی۔

فوج نے کبھی کسی کو تقریر میں لٹیرا، ڈاکو، چور اور غاصب قرار نہیں دیا جبکہ ڈھکے چھپے لفظوں اور سیاسی تشبیہ، استعاروں میں سیاست دانوں نے ہمیشہ فوج کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور فوج کو ملک کی تباہی کا ذمہ قرار دیا ہے اور ملک کی ترقی میں رکاوٹ سمجھا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس صورتحال میں عوام کیا کرے؟ عوام نے کیا کرنا ہے؟ عوام نے کچھ نہیں کرنا ہے۔ عوام کے پاس کوئی اختیار نہیں ہے۔ عوام کو سیاست دانوں نے شعوری طور پر جاہل رکھا ہے۔

انھیں تعلیم سے دور رکھا ہے۔ ان کے شعوری کو دبا یا ہوا ہے۔ انھیں رائے دینے اور اپنے ووٹ کا درست استعمال کرنے کی شعوری صلاحیت سے محروم کیا ہوا ہے۔ عوام جو جان بوجھ کر بنیادی ضرورت سے محروم رکھا ہے۔ عوام سے یہ سلوک کیا جاتا ہے؟ یہ سلوک اس لیے کیا جاتا ہے تا کہ ان کے ووٹ کو حکومت حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا جائے۔ پچھلے تیس چالیس برس میں کسی سیاسی جماعت اور سیاست دان نے کوئی بڑی یونی ورسٹی نہیں بنائی۔

تعلیم کے نظام کو یکساں کرنے اور اردو زبان کو ذریعہ تعلیم نہیں بنایا۔ مادری زبان میں تعلیم کے لیے راہ ہموار نہیں کی۔ تعلیم کو ایک لایعنی مقصد قرار دیا جاتا ہے۔ وزیر تعلیم لگنے والا ماتم کرنا ہے اور کہتا ہے کہ میرے کروڑوں روپے ڈوب گئے ہیں۔ بات ابھی جوبن پر آئی ہے اور کالم کی جگہ پوری ہو گئی ہے۔ مختصر یہ کہ اس ملک کی ترقی میں جہالت حائل ہے اور کچھ بھی نہیں۔ قصور عوام کا ہے اور عوام کی جہالت کا ہے۔ عوام اگر بھوکا رہ لے، مکان کی فکر سے آزاد ہو جائے اور معمولی کپڑا پہن کر تعیشات کی آرزو سے کنارہ کشی کر کے اپنی ساری توجہ تعلیم پر صرف کرے۔

جو نہیں پڑھ سکا وہ اپنی اولاد کو پڑھائے، جو نہیں جان سکا۔ وہ دوسروں کو بتائے اور جو کچھ نہیں جانتا اسے اس کے حال پر چھوڑ دیا جائے۔ یاد رکھیے کہ یہ ملک سیاست دانوں کے ہاتھوں کبھی محفوظ نہیں رہ سکتا۔ یہ لوگ کسی کے نہیں، بلکہ یہ اپنے بھی نہیں۔ یہ وہ بندریا صفت ہیں جو پاؤں جلنے پر اپنے بچے پاؤں نیچے رکھ لیتے ہیں۔ اس ملک کے چاروں اطراف اس کے دشمن تاک میں گھات لگائے بیٹھے ہیں کہ کب ہمیں موقع ملے اور ہم اس کو نیست و نابود کر دیں۔

فوج ہماری مجبوری بھی ہے اور ہمارا فخر بھی ہے اور ہماری ضرورت بھی ہے اور ہمارا وقار اور تشخص بھی ہے۔ فوج سیاست نہیں آتی، سیاست دان اسے سیاست میں لاتے ہیں۔ جو جہاں ہے اسے ہیں رہنا چاہیے۔ سب کی حدود متعین ہیں۔ سب اپنی حد میں رہ کر اس ملک کے بارے میں سوچیں۔ کھائیں، پیں، لوٹیں اور جائیدادیں بھی بنائیں لیکن اس ملک کو اتنا کھوکھلا نہ کریں کہ ہوا کے جھونکے سے اس کے پاؤں ہی اکھڑ جائیں۔ ہم عوام بھوکے سوکھے جیسے تیسے اپنا پیٹ کاٹ کر ٹیکس دیتے ہیں۔

محنت کرتے ہیں۔ قانون کا جیسا تیسا احترام کرتے ہیں۔ عوام میں بہت برائیاں ہیں لیکن اتنی نہیں جتنی سیاست دانوں کی جماعتوں میں ہیں۔ عوام کیا لوٹ کھسوٹ کرے گی۔ زیادہ دے زیادہ روٹی چرا لے گی۔ مسجد سے جوتی لے بھاگی گی۔ راہ چلتے کی پاکٹ مار لے گی۔ اشارہ توڑ دے گے۔ دودھ میں پانی ڈالے گی۔ اور کیا کرے گی؟ خدا کے لیے اس ملک کو مزید کمزور کرنے اور تباہ کرنے سے باز آجائیں۔ یہ ملک سیاست دانوں کا بھی ہے۔ فوج کا بھی ہے اور ہم عوام کا بھی ہے۔ یہ ملک سب کا ہے۔ اس ملک کو سب نے مل کر بچانا ہے۔ اگر یہ ملک اسی طرح سرکس کا اسٹیج بنا رہا اور کٹھ پتلیوں کے تماشے ہوتے رہے تو وہ وقت دور نہیں جب کوئی سر پھرا اٹھے گا اور پھر ایسی آگ لگے گی جس سے کسی کا گھر جلنے سے محفوظ نہیں رہے گا۔

Facebook Comments HS