پی ٹی آئی کا حرف کلید!

پاکستان تحریک انصاف کا سیاسی جنازہ ہوئے بھی کئی دن گزر گئے مگر اس کا دماغ ہے کہ اب تک زندہ ہے اور زندہ افراد کی باتوں کا جواب بھی دیے جا رہا ہے۔ اس صورتحال کو نفسیات کی رو سے کیا کہتے ہیں اس کا جواب تو نفسیات دان ہی دے سکتے ہیں تاہم سر دست یہ کہنا بہت ضروری ہے کہ اب بھی اگر پی ٹی آئی نے نوشتہء دار کو نہ پڑھا تو وہ پاکستانی سیاست میں اتنی ہی بچ جائے گی جنتی ایم کیو ایم نائن زیرو پر۔
تاہم ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ الطاف حسین سیاست دان ہیں اور عمران خان بلاوجہ سیاست دان بالکل اسی طرح جیسے جملہ معترضہ، جس کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی۔ اپنے عورت اقتدار میں عمران خان نے حق حکمرانی کو یوں استعمال کیا جیسے کوئی اپنے باپ کی وراثت پر حق رکھتا ہے اگرچہ یہ بات درست ہے کہ عمران خان کی مقبولیت بحیثیت ایک کھلاڑی کے مسلمہ رہی ہے اور اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا کہ وہ ان چند لوگوں میں سے ہیں جو پاکستان کے ماتھے پر اپنی بے پایاں صلاحیتوں کے باعث جھومر بن کر دمکتے رہتے ہیں مگر چونکہ ان کی کوئی سیاسی تربیت نہیں اس لیے وہ سیاسی بصیرت سے یکسر محروم ہیں اور سیاست میں جس بردباری، تحمل اور درگزر کی ضرورت ہوتی ہے یہ الفاظ ان کی بوطیقا میں عنقا ہیں۔
اسی اعتبار سے ان کے حامی، ہمدرد، یار، غمگسار سب ہی ایک کشتی کے سوار ہیں اور اس کشتی کے ماتھے پر وہی لکھا ہے جو ٹرک آرٹ کے ذیل میں ٹرک ڈرائیوروں کی فرمائش پر لکھا جاتا ہے۔ یعنی ”ضد میری مجبوری“ حالانکہ عمر کے جس حصے میں وہ ہیں اس میں بے وجہ، اور ناجائز فرمائشیں کرنے کے بجائے انسان اللہ تعالیٰ سے لو لگاتا ہے اور اس کے روحانی معاملات بتدریج بہتر ہوتے جاتے ہیں مہ و سال گزرنے سے ان پر کوئی اثر نہ پڑا اور اب بھی وہ خود کو ناقابل تسخیر سمجھتے ہیں۔
سیاسیات کا ایک طالبعلم ہونے کی حیثیت سے ہم یہ سمجھتے ہیں کہ عمران خان کو اب سیاست سے ریٹائرمنٹ لے لینی چاہیے اور جو عزت انہیں کرکٹ کی دنیا سے ملی اسے بحال کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ بات سانحہ نو مئی پر موقوف نہیں بلکہ اس درندہ صفت جماعت تو اے پی ایس جیسے سانحے کی ذمہ دار ہونے کے باوجود بھی اس کی ذمے داری قبول نہیں کی اور بات یہاں تک پہنچ گئی۔ ایسی فرمائشیں تو افلاطون کے ”فلاسفر کنگ“ نے بھی نہیں کی تھیں۔
بہر طور جو لوگ پاکستان سے محبت کرتے ہیں اور اسے اپنا گھر سمجھتے ہیں ان کے لیے پی ٹی آئی کی مسلسل ہٹ دھرمی اور خود غرضی کی سیاست ناقابل قبول ہے۔ یہ ملک ہمیشہ قائم رہنے کے لیے بنا ہے اسے ایک ہٹ دھرم اور تاحیات وزیراعظم سمجھنے والے ”غیر سیاسی“ شخص کی نذر نہیں کیا جاسکتا۔ البتہ ان کی جماعت کے ”تقریباً سیاسی رہ نما“ شاہ محمود قریشی میں پھر بھی اتنی صلاحیت ہے کہ وہ پی ٹی آئی کے ( سیاسی نا بالغان) کو کسی حد تک سیاست کے اسرار و رموز سے آشنا کرسکیں۔
