ایک بے نام کا قتل


بڑی ہمت کر کے قلم تھام تو لیا ہے لیکن آج انگلیاں ساتھ نہیں دے رہی۔ ایک نئی ادھوری سے شناخت کے ساتھ ہواؤں میں معلق چہرے ڈھونڈ رہا ہوں لیکن آنکھیں درد کی چبھن سے لال ہیں۔ ہمدم دیرینہ آج آنکھ ملانے کا یارا نہیں۔ کہانی لکھوں تو دل پر نشتر سے چلنے لگتے ہیں۔ ہاں وہ آیا تھا میرے پاس چھم چھم آنسوؤں کی برسات لیے کہا پیسے دے دو مجھے نہ کردہ گناہوں کا تاوان بھرنا ہے۔ میں نے دے دیے۔ کیا اس نے زندگی بھر کی دوڑ دھوپ میں کچھ بھی حلال نہیں کیا تھا جو ساری کمائی یوں بہہ گئی۔ ایسے بڑے بول مت بولا کر ڈاکٹر ان کا وبال بڑا سخت ہوتا ہے۔ میں نے کال ملائی، بیٹا اپنے باپ کے قریب مت بیٹھنا، کوئی بے ادبی نہ ہو جائے۔ غصہ آئے تو باپ سے نہ بولنا۔ وہ آج کل مجبور ہے۔

تو کیا دل کو دل سے راہ ہوتی ہے۔ کیا خوابوں پر یقین ممکن ہے۔ اگر میرے خوف سچ ہو گئے تو۔ تیری جوتی ٹوٹی ہے یہاں دلوں کو کوڑے پٹ گئے۔ کتنے دن ہوئے کبھی ہوئی تھی یہ بات۔ تیرا ڈولا لائی میں اپنے گھر، اب تجھے ونڈ ڈالنی ہے۔ میرے خوابوں کا اسباب تو نے نکال باہر پھینکا۔ میرے دل پر دانت گاڑھے، میرے دل کے گوشے کی ہڈیاں توڑیں، میرے ساجن کی کھال نوچ لی۔ ہاں وہی تو تھا۔ کم گو، شرمیلا، بد مزاج جس کے لہو سے تو نے نشو نما پائی، اب وہی بے گانہ ہے۔

تیرے تلووں سے کانٹے نکالنے والا، اب کمینہ ٹھہرا، تیرے سنگھار کا بار اٹھانے والا، یاری کی بوجھ ڈھونے والا، میرا بد مزاج ساجن۔ راتوں کو پڑھنے والا، تیز پیلے بلب میں گھلتی شاموں کے سب خواب تو نے کتنے جلدی فراموش کر دیے۔ کتنا جلدی تجھے چینی ملے پانی کا سواد بھول گیا۔ کتنا جلدی تجھے بوڑھی مائی کی ریزگاری پر سے یقین اٹھ گیا۔ اب تجھے اٹھائے بوگن ویلیا کے پھول کون دلائے گا۔ میری جان بڑی نہ قدری کر دی تو نے۔ اتنا برا تو نہیں تھا میرا ساجن۔

وہی سہانی شام، میرا کندھا درد سے شل ہے، اور منہ پر پنجے کے نشان ثبت ہیں، چبائی ہوئی زبان، اور ایک اندھیری شام کا مسافر، جس کے لیے ابھی تک موم بتی کی لو زندہ ہے۔ آنے کو ہو گا، دن کا تھکا ماندہ، تجھے تو اس کے زخموں سے گھن آتی تھی ناں، اس کے کملائے ہوئے بازو، اور برہنہ دہن اور مٹیالے بال۔ اسے یہیں چھوڑ جاؤ، میں کچی پنسل سے نئے خواب تراش لوں گی۔ ایک نئے کل کا خواب جہاں میرا ساجن میرا لیے نئے شام کے دھندلکے میں لوٹ آئے گا۔ ایک نیا زخم سجائے، درد سے کراہتا ہوا اور میں اس کے زخموں کو اپنی کھال سے ڈھانپ لوں گی۔ پھر تمہیں کوئی بار نہ ہو گا۔

اب ٹھنڈی، راتوں میں چاند ہی اس کی یاد منائے گا۔ پنجاب یونیورسٹی کی بوسیدہ لیب، گھاس کے لمبے لان اور ایک گھنگریالے بالوں والا پریم کا دھتکارا ہوا مصور۔

کیا کہا، اس کے تیری ذات پر ادھار باقی ہیں۔ سفر، زمانے کے سرد و گرم میں سرگرداں زمین پہ چوکڑی جمائے کبھی تیرے کیے کتابیں سیتا، کبھی دیواروں سے لٹکتا، سر پہ سامان ڈھو ڈھو کر تیرے خواب پورے کرنے والا، ابھی مسجد سے لوٹ کر آیا بھی نہیں، اور تو نے مہندی دھو ڈالی۔ اسے کھانے میں سویاں پسند ہیں، اور زردے کے چاول، لیکن تیرے خون کا رنگ پھیکا پڑ گیا۔ تیرے لیے مستقبل کو عمارت بنانے والا، تیری عزت کی چال دیواری بنانے والا، تیرے مرغزاروں میں بیٹھا آم کھانے والا، تیرے میناروں سے جڑا تصویریں کھنچوانے والا۔ مر گیا اپنا الگ انداز لیے، اب شاید تیرے مصنوعی خون میں زہر آمیزش نہیں ہوگی، تیرے عبادت خانے نور ایزدی سے جگمگا اٹھیں گے، تیرے دن روشن اور شامیں حسین ہو جائیں گی۔

واپس کر میرے گھنگریالے بالوں والا مصور، تو ایسے ہیرے کے قابل نہیں، اب تیرا کینوس سدا ٹیڑھی لکیریں ہی کھینچا رہے گا۔ اب اس پر وفا اور خلوص کے نقش و نگار کبھی نہیں ابھریں گے۔

پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا۔

Facebook Comments HS